دہلی اسمبلی انتخابات، چل پڑی ہے بغاوت کی لہر

Share Article

نوین چوہان
p-5bاسمبلی الیکشن کا اعلان ہوتے ہی دہلی کا سیاسی پارہ انتہا پر پہنچ چکا ہے۔ ہر پارٹی اپنی چالوں سے مخالف پارٹیوں کو مات دینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برت رہی ہے۔ اس طرز پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے سابق آئی پی ایس افسر کرن بیدی کو بی جے پی میں شامل کرکے ایسا ماسٹر اسٹروک کھیلا ہے کہ مخالف پارٹیوں، خاص کر عام آدمی پارٹی کے ممبران نے دانتوں تلے انگلی دبا لی، ان کے پاس بی جے پی کی اس چال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ کرن بیدی کے سیاست میں قدم رکھتے ہی مخالف پارٹیوں میں بغاوت کی لہر چل پڑی۔ سب سے پہلے عام آدمی پارٹی کی شاذیہ علمی نے بی جے پی کی رکنیت حاصل کی، اس کے بعد عام آدمی پارٹی کے سابق ایم ایل اے ونود کمار بنی بھی بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ اس سے پہلے عام آدمی پارٹی کے بانی رکن اشونی کمار اور عام آدمی پارٹی کی سرکار کے دوران دہلی اسمبلی کے اسپیکر رہے ایم ایس دھیر بھی بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے۔ پارٹی بدلنے کی حد تو تب ہو گئی، جب کانگریس کا دلت چہرہ اور سابق مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ نے بی جے پی صدر امت شاہ سے ملاقات کی اور اس کے بعد شام ہوتے ہوتے بی جے پی کی باقاعدہ طور پر رکن بن گئیں۔ یہ ایک بار پھر سے کھڑا ہونے کی کوشش کر رہی کانگریس پارٹی کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا۔ دوسری پارٹی میں شامل ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد عام آدمی پارٹی کے ممبران کی ہے۔ پارٹی بدلنے کا کام تقریباً ہر پارٹی کی طرف سے ہو رہا ہے، لیکن اچانک سے سب کی پسندیدہ پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی بن گئی ہے۔ بی جے پی سے صرف وہ امیدوار دوسری پارٹیوں کا رخ کر رہے ہیں، جو ٹکٹ پانے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ لیکن ٹکٹ کٹتے ہی انہوں نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا۔
پارٹی بدلنے کی سب کی اپنی اپنی وجہیں ہیں۔ بی جے پی میں شامل ہوئے عام آدمی پارٹی کے باغی ایم ایل اے ونود کمار بنی سال 2013 میں لکشمی نگر سیٹ سے الیکشن لڑے تھے۔ انہیں کجریوال نے اپنی کابینہ میں جگہ نہیں دی تھی، اس وجہ سے انہوں نے بغاوت کا جھنڈا بلند کر دیا تھا۔ پارٹی نے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے برطرف کر دیا تھا۔ اس کے بعد بنی نے اروِند کجریوال کے خلاف اسمبلی الیکشن میں اترنے کا اعلان کر دیا تھا۔ وہ یہ بات بہت اچھی طرح سے جانتے تھے کہ بی جے پی کے تعاون کے بغیر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ نئی دہلی سیٹ پر بی جے پی کے خلاف کیمپین کر رہے تھے اور بی جے پی میں شامل ہونے کے لیے صحیح وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ کرن بیدی کے ذریعے بی جے پی کی رکنیت حاصل کرتے ہی بنی کو یہ موقع ملا اور انہوں نے بی جے پی کا دامن تھام لیا۔ بی جے پی نے انہیں منیش سیسودیا کے خلاف پٹپڑ گنج سیٹ سے انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ بی جے پی کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد بنی نے کہا کہ میں بدعنوانی کے خلاف انا تحریک کا حصہ تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ کچھ موقع پرست لوگ مجھے اور دہلی کے لوگوں کو ٹھگیں گے۔ انہوں نے لوگوں سے جھوٹے وعدے کیے اور اپنے فائدے کے لیے انا جیسی عظیم شخصیت کا استعمال کیا۔
عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر آر کے پورم اسمبلی انتخاب اور غازی آباد سے لوک سبھا الیکشن لڑنے والی شاذیہ علمی نے لوک سبھا انتخابات کے کچھ مہینے بعد عام آدمی پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ لوک سبھا الیکشن غازی آباد سے نہیں لڑنا چاہتی تھیں، لیکن پارٹی نے انہیں زبردستی جنرل وی کے سنگھ کے خلاف انتخابی میدان میں اتارا۔ لوک سبھا انتخابات میں ملی کراری ہار اور آپسی اختلافات کے سبب شاذیہ نے عام آدمی پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد وہ کسی پارٹی میں نہیں گئیں۔ حالانکہ اٹکلیں لگائی جا رہی تھیں کہ وہ بی جے پی میں جا سکتی ہیں، لیکن انہوں نے جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں لیا۔ وہ لگاتار عام آدمی پارٹی کی پالیسیوں اور ان کے قدموں پر تنقید کرتی رہیں۔ کرن بیدی کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد ان کے لیے بی جے پی میں آنا آسان ہو گیا۔ سال 2013 میں جنگ پورہ سے عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتنے والے منندر سنگھ دھیر عام آدمی پارٹی کا سکھ چہرہ تھے۔ عام آدمی پارٹی کی سرکار کے دوران وہ اسمبلی کے اسپیکر بھی رہے تھے۔ عام آدمی پارٹی میں اندرونی جمہوریت کی کمی کی بات کہتے ہوئے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ بی جے پی میں شامل ہونے کا انعام منندر سنگھ دھیر کو بھی ملا، انہیں جنگ پورہ سے پارٹی نے اپنا امیدوار بنالیا۔
ایک طرف تو اس اسمبلی الیکشن میں مسلمانوں کا رجحان عام آدمی پارٹی کی طرف بڑھ رہا ہے، جیسا کہ سیاسی تجزیہ کار بتا رہے ہیں، لیکن عام آدمی پارٹی سے جڑے اور پچھلے اسمبلی انتخاب میں عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر لیکشن لڑنے والے تین مسلم امیدواروں نے بھی عام آدمی پارٹی کا دامن چھوڑ کر بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ سال 2013 میں عام آدمی پارٹی کے مٹیا محل سے امیدوار شکیل انجم دہلوی اور بلی ماران سے امیدوار فرحانہ انجم کرن بیدی کے ذریعے پارٹی کی رکنیت حاصل کرلینے کے بعد بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔ اس کے علاوہ عشرت علی انصاری، جو کہ پچھلی بار کرشنا نگر سے عام آدمی پارٹی کے امیدوار تھے، وہ بھی بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں۔ شکیل انجم دہلوی کو بی جے پی نے مٹیا محل سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ وہ بی جے پی کی طرف سے واحد مسلم امیدوار ہیں۔
دلت امیدواروں کا بھی عام آدمی پارٹی پر سے بھروسہ اٹھ رہا ہے۔ پچھلے اسمبلی الیکشن میں امبیڈکر نگر سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے منتخب کیے گئے اشوک کمار چوہان بھی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو گئے۔ حالانکہ عام آدمی پارٹی نے اس بار انہیں امبیڈکر نگر سے ٹکٹ نہیں دینے کا من بنا لیا تھا، اسی وجہ سے وہ بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ بی جے پی میں شامل ہونے کا انعام انہیں امبیڈکر نگر سے انتخابی میدان میں اتار کر دیا گیا ہے۔ بی جے پی سے استعفیٰ دینے والوں میں دھیر سنگھ بدھوڑی کا نام سب سے آگے ہے۔ وہ اوکھلا سے ٹکٹ چاہتے تھے، لیکن انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ بی ایس پی سے بی جے پی میں شامل ہوئے برہم سنگھ بدھوڑی کو فوقیت دی گئی اور اوکھلا سے پارٹی کا امیدوار بنایا گیا۔ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کے سابق صدر اور کونسلر کرتار سنگھ تنور بی جے پی چھوڑ کر عام آدمی پارٹی میں شامل ہو گئے۔
دہلی میں مختلف پارٹیوں کے چھوٹے بڑے لیڈر بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ کانگریس کے لیڈر اور پیتم پورہ کے سابق کونسلر راجیش یادو بھی بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ راجیش یادو کو بی جے پی نے بادلی سیٹ سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ کانگریس کے سابق ایم ایل اے اور سابق مرکزی وزیر داخلہ بوٹا سنگھ کے بیٹے سردار اروِندر سنگھ، راشٹریہ لوک دَل کی کونسلر انیتا تیاگی، سابق کانگریس کونسلر دیپک چودھری، ریاستی کانگریس سکریٹری ششی کانت دکشت، کانگریسی لیڈر گوپال پہاڑیا، اشوک لوہیا، اَردیش شرما، مہندر تیاگی، ایم پی شرما، سردار ہر پریت سنگھ کے ساتھ ساتھ عام آدمی پارٹی کے سندیپ دوبے اور انجینئر چندر کانت تیاگی اور سماجوادی کارکن اونکار سنگھ سکروار بی جے پی کی رکنیت حاصل کر چکے ہیں۔
عام آدمی پارٹی یا انا تحریک سے جڑے لیڈروں کے بی جے پی میں شامل ہونے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے ترجمان آشوتوش نے کہا کہ بی جے پی کے پاس اپنا کوئی مضبوط چہرہ نہیں ہے، اس لیے وہ عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کو پارٹی میں شامل کر رہی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بی جے پی عام آدمی پارٹی کی بی ٹیم بن گئی ہے۔ لیکن یہاں ایک بات غور کرنے کی ہے۔ عام آدمی پارٹی، جو خود کو پارٹی وِد ڈِفرینس (سب سے الگ) بتاتی تھی، اس کے ساتھ شروع میں وہی لوگ آئے، جو موقع پرست تھے۔ اب زیادہ تر ویسے ہی لوگ عام آدمی پارٹی کو چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں، جنہیں لگتا ہے کہ ان انتخابات کے بعد عام آدمی پارٹی کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ انھیں قیاس آرائیوں کی بنیاد پر وہ دوسری پارٹیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی آئڈیالوجی نہیں ہے۔ وہ اپنا سیاسی مستقبل تلاش کر رہے ہیں۔ ان کے لیے پارٹی اور آئڈیالوجی سے زیادہ اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ پارٹیوں میں پہلے سے موجود ممبران پر پیراشوٹ امیدواروں کو فوقیت دینا بھی بغاوت کی ایک اہم وجہ ہے۔ عام آدمی پارٹی نے پچھلی بار یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے امیدواروں کا انتخاب عوام کی پسند کی بنیاد پر کیا ہے، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس بار امیدواروں کے انتخاب میں امیر کبیر لوگوں کو فوقیت دی گئی ہے۔ ایسے میں جو لوگ تحریک کے وقت سے عام آدمی پارٹی سے جڑے ہوئے تھے، وہ یا تو خاموش بیٹھے ہوئے ہیں یا پارٹی میں سائڈ لائن کر دیے گئے ہیں۔ جو لوگ اس گھٹن میں مبتلا نہیں رہنا چاہتے، وہ دوسری پارٹیوں میں اپنی جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے، لیکن اب اس محاورے میں سیاست کو بھی شامل کر لینا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *