بنگلہ دیش کے سرکاری وفدنے دارالعلوم دیوبندکا دورہ کیا

Share Article
bangladeshi-officers
بنگلہ دیش کے اعلیٰ انتظامی افسران مجسٹریٹ اورکمشنروں 16افرادپرمشتمل ایک وفد نے عالم اسلام کی ممتازدینی درسگاہ دارالعلوم دیوبندکا دورہ کیا۔اس موقع پرمہتمم دارالعلوم دیوبندمفتی ابوالقاسم نعمانی اورنائب مہتمم مولاناعبدالخالق مدراسی سے ملاقات کی ا وردارالعلوم دیوبندکی تاریخی خدمات اوریہاں کی تعلیمات کے علاوہ مختلف دینی ودنیاوی امورپرتبادلہ خیال کیا۔وفدنے دارالعلوم دیوبندکی قدیم وجدیدلائبریری کے علاوہ مسجدرشیداوردیگرتاریخی عمارات کی زیارت کی۔بنگلہ دیشی مہمانوں نے لائبریری میں موجودنادرونایاب کتابوں کودیکھ حیرت کااظہارکیااوراسے عظیم لائبریری قراردیا۔
بعدازاں وفدنے ادارہ کے مہمان خانہ میں مفتی ابوالقاسم نعمانی سے ملاقات کرکے ادارہ کے قیام کے مقاصداوریہاں دی جانے والی تعلیمات کے حوالے سے گفتگوکرنے کے ساتھ ساتھ دنیابھرمیں مذہب اسلام کوبدنام کرنے کیلئے دہشت گردی کا کنکشن مسلمانوں سے جوڑنے کے بابت مختلف سوالات کئے،جس پرمفتی ابوالقاسم نعمانی نے مہمانوں کوتسلی بخش جواب دیتے ہوئے کہاکہ دارالعلوم دیوبندکاکبھی بھی اس طرح کی نام نہادتنظیموں سے ذرہ برابرتعلق نہیں رہاہے جوانسانیت کی دشمن ہیں۔دارالعلوم دیوبندایک مذہبی ادارہ ہے جہاں کتاب وسنت کی تعلیم دی جاتی ہے،مذہب اسلام کی تعلیمات میں انسانیت کوترجیح دی گئی ہے۔سابقہ حکومت کے وزیرداخلہ ایل کے اڈوانی نے پارلیمنٹ میں دارالعلوم دیوبنداوراس کی فکرسے منسلک تمام مدارس کوکلین چٹ دی تھی۔مفتی نعمانی نے بتایادارالعلوم دیوبندنے 2008میں ایک ملکی کانفرنس کاانعقادکرکے سب سے پہلے دہشت گردی کی مذمت کی گئی تھی ۔انہوں نے مزیددارالعلوم دیوبندکے قیام اوریہاں کے اکابرین کی خدمات کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ دارالعلوم دیوبندکا قیام ایسے حالات میں عمل میں آیاتھاجب ہندوستان سے چن چن کرعلماء کوختم کیاجارہاتھا۔انہوں نے کہاکہ دارالعلوم دیوبندکے قیام کامقصدمتحدہ ہندوستان کی آزادی اوریہاں علم دین کی فضاکوہموارکرناتھا۔واضح ہوکہ یہ وفدبنگلہ دیش سے ہندوستان کی مسوری اوردہلی آئی اے ایس اکیڈمی میں ایک ہفتہ کی ٹریننگ کیلئے آیاہواہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *