عابد انور
ہندوستان کی تفتیشی ایجنسیاں خواہ را ہو،سی بی آئی یاسی آئی ڈی یا  نوتشکیل شدہ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) ہو، ان کی تفتیش اس وقت تک بے سمت رہے گی جب تک وہ لوگ ذات پات،  مذہب، رنگ و نسل اور تعصب کا چشمہ نہیں اتاریں گے۔ ہندوستان میں جتنے بھی دھماکے ہوتے ہیں اس کے بعد ایجنسی کا ایک ہی رویہ ہوتا ہے کہ کسی مسلم تنظیم کو قصوروار ٹھہرادیا جائے۔مکہ مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس، اجمیر اور مالیگائوں بم دھماکے بعد یہ امید پید اہوچلی تھی کہ اب تفتیشی ایجنسیوں کے رویے میں تبدیلی آئے گی اور وہ مجرم کو صرف مجرم کی نظر سے دیکھیں گی اور جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوگا اس کی تفتیش کا دائرہ تمام فرقے، مذہب، ذات  پات اور علاقے پر محیط ہوں گے لیکن دہلی میں گزشتہ دنوں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد ایجنسیوں کے رویے اور بیانات، مخصوص علاقے میں چھاپے ماری، مخصوص لوگوںتک تحقیقات کا دائرہ محدود ررکھنا اور مخصوص زبان بولنے والوں یا ان کے لیٹریچر کو دہشت گردی کا ثبوت تسلیم کرنے جیسی ذہنیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ حالات کے مدنظر قومی تفتیشی ایجنسی کی نظر بی جے پی حکومت والی ریاستوں پر خاص طور پر ہونی چاہئے کیوں کہ اب تک جتنے بھی ہندو دہشت گرد پکڑے گئے ہیں وہ زیادہ تر مدھیہ پردیش اور بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں سے ہی پکڑے گئے ہیں۔ اس کے باوجود تفتیشی ایجنسیوں نے جس طرح آنکھ بند کرکے اپنا رخ ایک بار پھر مسلمانوں کی طرف موڑ دیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں بم دھماکوں کے انسداد میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف اس کے بہانے مسلمانوں کوہراساں کرنا یا انہیں جیل کے سلاخوں کی پیچھے ڈالنا چاہتی ہیں۔ میں یہ بات یونہی نہیں لکھ رہا ہوں جو اطلاعات سامنے آرہی ہیں اور تفتیشی ایجنسیوں کا جو رویہ سامنے آرہا ہے اس سے مندرجہ بالا باتوں کی تصدیق ہوتی ہے۔
تریپورہ میںچند مسلم نوجوانوں کو محض اس بناء پر گرفتار کرلیا گیا ہے کہ ان کے پاس اردو کے لٹریچر تھے اس لیٹریچر کا تعلق جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہے۔ یا تو پراسپیکٹس ہے یا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کوئی رسالہ یا کوئی اور چیز۔ کیا اردو لٹریچر کا ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ دہشت گرد ہے۔ پولیس کی گرفتاری سے تو یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی اردو جانتے ہیں اوراردو لٹریچر پڑھتے ہیں کیا وہ بھی دہشت گرد ہیں؟۔مثال اس لئے پیش کی گئی تاکہ مسلمان اور خاص طور پر غیر مسلم برادران تفتیشی ایجنسیوں کے رویے کے بارے میں آگاہ ہوسکیں۔ ہائی کورٹ کمپلیکس میں ہونے والے بم دھماکے جس میں ۱۲ افراد ہلاک اور ۸۰ سے زائد زَخمی ہوئے ہیں اس کا دائرہ بھی ا ب تک صرف مسلمانوں تک محدود ہے۔ایک میل آنے پر سیکورٹی حکام نے یہ سمجھ لیا کہ یہ دھماکہ ہوجی نے کیا ہے لیکن اس کی قلعی اگلے ہی دن ایک دوسرے ای میل نے کھول دی کہ دھماکہ ہوجی نے نہیں بلکہ ہم نے یعنی انڈین مجاہدین نے کیا ہے۔ سیکورٹی ایجنسی اسی لائن پر کام کرتے ہوئے غازی آباد ، میرٹھ ، مرادآباد ، علی گڑھ ، سہارنپور ، مئو ، وارانسی ، غازی پور ، اعظم گڑھ سمیت کئی مقامات پر چھاپے ماری و پوچھ گچھ کرتی رہی۔. وارانسی سنکٹ موچن دھما کے کے ملزم اور ہوجی کے مبینہ دہشت گرد محمد شمیم کے گھر سے موبائل قبضے میں لے لیا ہے۔ کل ہوجی کے نام سے جموں و کشمیر کے کشتواڑ  سے میل بھیجا گیا تھا ، جہاں سیکورٹی  ایجنسی نے کیفے کے مالک سمیت چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔ اس کے علاوہ این آئی اے اس مشتبہ کار کی تلاش میں رات دن ایک کئے رہی کہ یہ وہی کار ہے جس کا استعمال اس دھماکہ میں کیا گیا ہوگا لیکن کار بھی برآمد ہوگئی اور نتیجہ صفر کا صفر ہی رہا۔اس کے علاوہ این آئی اے سب سے زیادہ شک اسلامک موومنٹ آف انڈیا کے سابق کارکنوں پر کر رہی ہے ۔ کیوں کہ تفتیشی ایجنسیوں اور میڈیا نے یہ فرض کرلیا ہے کہ انڈین مجاہدین کو سیمی سے وابستہ کچھ ممبران نے قائم کیا ہے اس لئے این آئی اے کی تفتیش میں سیمی سرفہرست ہے اور اب این آئی اے کا رخ مدھیہ پردیش ہوسکتا ہے جہاں تھوک کے حساب سے بی جے پی حکومت والی مدھیہ پردیش حکومت نے سیمی کارکنوں کو گرفتار کر رکھا ہے حالانکہ ان میں سے کسی پر اب تک کسی دھماکہ کا جرم ثابت نہیں ہوا ہے لیکن پھر بھی مدھیہ پردیش حکومت نے سیمی کے سابق ممبروں کا ناطقہ بند رکھا ہے ۔
جب بھی تفتیشی ایجنسی نے غیرجانبدارانہ اور منصفانہ جانچ کی ہے ہندو انتہا پسندوں کا نام سامنے آیا ہے۔ آنجہانی ہیمنت کرکرے کی تفتیش نے ایسا باب کھولا ہے جس پر چل کر ہندوستان کی خفیہ ایجنسیاں دہشت گردی کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ انہوں نے لاکھ مخالفت سامنے کرتے ہوئے اپنی جرأت و شجاعت سے ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا جس نے پورے ملک میں خون کی ہولی کھیلنے کی تیاری کی تھی اور اس کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑاگیا اور پھوڑا جانا تھا۔ یہاں کے متعدد دھماکوں میں آر ایس ایس یا اس سے وابستہ تنظیموں کا نام سامنے آیا ہے اگرچہ اس سمت میںاب تک قاعدے سے تفتیش نہیں ہوئی ہے مگر جب تفتیش ہوگی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا اور مسلمانوں کے سرسے یہ بدنما داغ دھل جائے گا۔ ہندو دہشت گردی کی طرف وکی لیکس نے بھی انکشاف کیا ہے وہیں کانگریس کے رہنما دگ وجے سنگھ نے اس ضمن میں آر ایس ایس پر دہشت گردی کے سنگین الزام لگائے ہیں۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ جب وہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ تھے تب انہوں نے سیمی اور بجرنگ دونوں پر پابندی عائد کرنے کی مرکز سے سفارش کی تھی لیکن اس وقت مرکز کی این ڈی اے حکومت نے سیمی پر تو پابندی عائد کردی لیکن بجرنگ دل کو چھوڑ دیا۔ اسی دوہرے پیمانے نے ہندوستان کو بم دھماکوں کی زد میں لے رکھا ہے۔ کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں ہونے والے مختلف بم دھماکوں میں ملوث رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تفتیشی اداروں کو ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں ہندو تنظیموں کی بھی تفتیش کرنی چاہیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کے اس بیان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر سیاست کر رہے ہیں۔ کانگریس کے رہنما اور پارٹی کے جنرل سیکرٹری دگ وجے سنگھ نے ایک عرصے سے آر ایس ایس کو نشانہ بنا رکھا ہے ۔ اجین میں انہوں نے کہا تھاکہ ہندو تنظیم آر ایس ایس بم بنانے میں ملوث رہی ہے۔ میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ اگر ان واقعات کی صحیح طریقے سے جانچ ہو ئی تو مجھے پورا یقین ہے کہ اس میں آر ایس ایس او ربی جے پی کے رہنماؤں کا ہاتھ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ تنظیم کئی بم دھماکوں میں ملوث رہی ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم زعفرانی دہشت گردی پر تشویش کا اظہارکرچکے ہیں۔ جس پر بی جے پی نے کافی واویلا مچایا تھا۔ دہشت گردی کے واقعات اور بم دھماکے میں ہندو انتہا پسندوں کی سناتھن سنستھا کے ہندو سخت گیر تنظیم آر ایس ایس سے قریبی تعلقات بتائے گئے ہیں۔، ’ہندو جن جاگرتی سمیتی‘ اور اس کی ذیلی شاخ ’سناتن پربھات‘  سناتن دھرم، ابھینو بھارت وغیرہ کے نام آچکے ہیں۔ ابھینو بھارت اور سناتن دھرم پرمہاراشٹر کی حکومت نے پابندی لگانے اور دہشت گرد تنظیمیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔
مالیگائوں بم دھماکے الزام میںجب آنجہانی ہیمنت کرکرے نے سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت کو گرفتار کیا تھا تو پورے ملک میں بی جے پی اور اس قبیل کی دوسری پارٹیوں اور تنظیموں نے زبردست ہنگامہ کیا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے بلندپایہ کے لیڈر لال کرشن اڈوانی نے ہیمنت کرکرے پر الزام لگایا تھا کہ پولیس حکومت کے دباؤ میں گرفتاریاں کر رہی ہے۔ لیکن تفتیشی ٹیم کے سربراہ آنجہانی  ہیمنت کرکرے نے اس الزام کو غلط بتایا تھا اور کہا تھا کہ ’ہماری ٹیم کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنا کام کر رہی ہے اور ہم گرفتار شدہ افراد کے خلاف تمام ثبوت جلدی ہی عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔‘  ’ہندو دہشت گردی‘ کا وجود ایک حقیقت ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی لیکن کچھ ہندو یہ کہنے لگے ہیں کہ اگر’ کوئی ہندو اپنے تحفظ کے لیے کوئی پرتشدد قدم اٹھاتا ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ہیمنت کرکرے کی یہ قربانی اب تک رائیگاں نہیں گئی ہے۔ اس کے بعد تو بم دھماکوں میں ہندو دہشت گردوں کے نام آنے والوں کی ایک ایک قطار لگ گئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق صدر راج ناتھ سنگھ نے اس وقت کانگریس پر الزام لگایا تھا کہ وہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ہندو رہنماؤں اور ہندو اداروں کو دہشت گردی کے نام پر نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھاکہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کے بارے میں ہندو مذہبی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ میڈیا میں’ہندو دہشت گردی‘ جیسے الفاظ اور بقول ان کے مسخ شدہ حقائق کا پروپیگنڈہ کرکے کانکریس ہندو مذہبی رہنماؤں اور اداروں کو بدنام کر رہی ہے۔ انہوں نے مالیگاؤں بم دھماکے میں فوج کے ایک موجودہ کرنل اور ایک ریٹائرڈ میجر کی گرفتاری کے حوالے سے کہا تھاکہ کانگریس کی حکومت فوج کو بھی بدنام کر رہی ہے۔’ جس طرح نام اور مقام اچھالے جارہے ہیں اس سے ہندوستان کی فوج کی شبیہ پر فطری طور پر منفی اثر پڑیگا۔‘  اس طر ح کے بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رات دن مسلم آتنک واد کی مالا جپنے والی پارٹی کو کس طرح برا لگا اور کس طرح بلبلا اٹھی۔ دراصل یہی دہرے پیمانے ہندوستان میں دہشت گردی کے اصل وجہ ہیں۔ جب تک اس پیمانے کو نیست و نابود نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہندوستان سے دہشت گردی کا صفایا ممکن نہیں ہوگا۔ جب لیڈر کی یہ سوچ ہوگی اس کے نیچے کام کرنے والے افسران اس سوچ سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ رفتہ رفتہ اکثریتی عوام کی بھی یہی فکر بن جاتی ہے۔
دہلی کو بم ھماکہ سے ایک بار پھر دہلانے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔ دہلی ہائی کورٹ کے گیٹ نمبر پانچ کے پاس ایک بڑا دھماکہ ہوا ہے ، جس میں تقریبا ۱۲افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ۸۰ سے زائد افراد بری طرح سے زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں کئی کی حالت نازک ہے۔ وزارت داخلہ نے دہلی دھماکے کے پیچھے دہشت گردوں کا ہاتھ بتایا ہے۔دہلی کے پولیس کمشنر نے جائے حادثہ کا جائزہ لیا۔ کچھ دنوں پہلے ہی 25 مئی کو یہاں معمولی نوعیت کا دھماکہ ہوا تھاجس کے بعد یہاں کی سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی مگر دہشت گردسکیورٹی نظام کو چیلنج کرتے ہوئے ایک بار پھر دھماکہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔دھماکہ 10.15 بجے کے قریب ہوا ۔غور طلب ہے کہ دہشت گردوں نے دھماکے کے لیے ہائی کورٹ کے گیٹ نمبر پانچ کو اس لیے منتخب کیا کیونکہ صبح دس بجے کے قریب یہاں کافی بھیڑ رہتی ہے۔ گیٹ نمبر پانچ سے ہی لوگ پاس بنوا کر ہائی کورٹ کے اندر داخل ہوتے ہیں۔وزارت داخلہ نے آناً فاناً اس دھماکہ کی تفتیش دہلی پولیس سے لے کر قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کودے دی۔ گزشتہ 25 مئی کے دھماکے کی تفتیش بھی دہلی پولیس سے لیکر اس کے حوالے کردی گئی ہے۔ این آئی اے کی ٹیم جائے واردات کا باریک بینی سے جائزہ لینے میں مصروف ہے یہاں تک کہ وہاں کے پیڑ پودے اور تناور درخت کوکھنگال رہی ہے تاکہ کوئی سراغ مل جائے یا کوئی کڑی ہاتھ لگ جائے تاکہ اس کا سرا پکڑاجاسکے۔ این آئی اے  ابھی تک اس سمت کوئی پیش رفت نہیں کرسکی ہے اس لئے اس نے سراغ دینے والوں کو پانچ لاکھ روپے کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ 26/11  کے بعد نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کا قیام عمل میں آیا تھا یہ ایجنسی اس طرح کی واردات کی روک تھام کی کوشش کرے گی اور اصل مجرموں تک پہنچے گی لیکن اس کی حالیہ کارکردگی سے نہیں لگتا کہ اتنے دھماکے ہونے اور اتنے ہندو دہشت گردوں کے پکڑے جانے اور دھماکوں میں نام آنے کے باوجود اس کی ذہنیت میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ اس کا ثبوت گزشتہ دنوں ہندو دہشت گردوں کی ضمانت ہے جس کی تفتیش این آئی اے کر رہی تھی اور ہائی کورٹ نے جس طرح تبصرہ کیا ہے اس سے اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگتا ہے کہ اس ایجنسی کا کام کرنے کا طریقہ کار کیا ہے۔ دہلی میں ہونے والے بم دھماکہ کی بھی تفتیش این آئی اے کی 20  رکنی ٹیم کرے گی جس کی قیادت جموں و کشمیر کیڈر کے ڈی آئی جی مکیش سنگھ کریں گے۔ اس سے پہلے حکومت نے دھماکے کی تفتیش کی ذمہ داری قومی تفتیشی ایجنسی کو سونپنے کا اعلان کیا تھا۔این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ایس سی سنہا نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم میں ایک ایس پی ، دو اضافی ایس پی اور چار انسپکٹر بھی ہوں گے۔ان کے مطابق ان کی ٹیم نے جائے واقعہ سے فورنسک کے نمونے اکٹھے کیے ہیں۔اس کے علاوہ لیباریٹری میںاس کی جانچ جاری ہے۔
سمجھوتہ ایکسپریس، مکہ مسجد بم دھماکہ، مالیگائوں اور اجمیر دھماکے میں گرفتار کئے گئے ہندو ملزمین کی وجہ سے اس بار دہلی بم دھماکہ وہ شعلہ جوالا نظر نہیں آیا جو اس سے پہلے نظر آتا تھا۔ سیاسی، لیڈر، بیوروکریٹ، صحافی، میڈیا غرض کہ سارے کے سارے ہاتھ دھوکر مسلمانوں کے پیچھے پڑ جاتے تھے کہ مسلمانوں نے یہ دھماکہ کیا او ر اس کے سہارے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول تیار کرنے میں لگ جاتے تھے۔ سیاست داں اور خاص آگ اگلنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران بھی سست دکھائی دئے اور انہوں نے بھی سنبھل کر بیان دیا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس دھماکہ کو بزدلانہ کارروائی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا ” یہ دہشت گردوں کی جانب سے ایک بزدلانہ قدم ہے، ہم دہشت گردی کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں ہم اس کا سامنا کریں گے۔ یہ ایک طویل لڑائی ہے جس میں تمام ہندوستانیوں کو مل کر ایک ساتھ کھڑا ہونا پڑیگا۔” دوسری جانب دلی ہائی کورٹ میں دھماکہ سے متعلق پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے وزیرِداخلہ پی چدمبرم نے کہا کہ فی الحال یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا لیکن پولیس کو شبہہ ہے کہ بم ایک بریف کیس میں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جولائی دو ہزار گیارہ میں دلی پولیس کو دہشت گردوں سے لاحق خطرات کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔ پی چدمبرم نے کہا کہ قومی تفتیشی ایجنسی اور نیشنل سکیورٹی گارڈ کے دستوں نے تفتیش شروع کر دی ہے لیکن بنیادی طور پر تفتیش کی ذمہ داری این آئی اے سنبھالے گی۔ حزبِ اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت جلد سے جلد ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے گی انہوں نے متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی اور یکجہتی ظاہر کی۔
دفاعی اور حفاظتی امور کے ماہرین کو این آئی اے پر مکمل بھروسہ نہیں ہے۔اس دھماکہ کے اصل خاطی کو این آئی اے پکڑ پائے گی اس میں شبہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کے سابق جوائنٹ ڈائریکٹر دھر کا کہنا ہے ، “چدمبرم نے این آئی اے کی تشکیل کردی ہے لیکن اس تنظیم کے حکام کو مقامی حالات کے بارے میں کتنا معلوم ہے؟ ان کے پاس کوئی جادو ہے کیا؟۔   سرحد سیکورٹی فورس  (بی ایس ایف ) کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور دہلی پولیس کے سابق کمشنر اجے راج شرما کا خیال ہے کہ، “پچھلے ایک سال میں ملک میں تقریبا 12 دھماکے ہوئے ہیں۔ یعنی دہشت گردی اب ہندوستان کا حصہ بن چکی ہے۔دفاعی تجزیہ کار ادے بھاسکر راج شرما کا کہنا ہے ، “دہشت گردی کو ری ایکشن سے کم نہیں کیا جا سکتا۔ان کاکہنا ہے کہ ہندوستان ایک پراکسی وار یعنی ایک مصنوعی جنگ لڑ رہا ہے جس کی شروعات 1990 میں ہوئی تھی۔ ان کے مطابق ، “ممبئی حملوں کے بعد دھیرے دھیرے ہندوستان کے بڑے شہروں کو ٹارگیٹ بنایا جا رہا ہے اور اب ہندوستان کے شہروں میں ہونے والی دہشت گردی ایک حقیقت بن گئی ہے.” وہ کہتے ہیں ، “۔ سوال یہ ہے کہ خواہ دہلی پولیس تفتیش کرے یا آئی بی، یا، سی بی آئی یا این آئی اے اس وقت تک کوئی تفتیش کامیابی سے ہمکنار اور نتیجہ خیز ثابت نہیںہوسکتی جب تک سیاسی لیڈران اپنے رویے اور تفتیشی افسران اپنی ذہنیت میں تبدیلی نہیں کرتے۔ جب تک وہ مجرم کو صرف مجرم کی نظر سے نہیں دیکھتے اس وقت تک کسی بھی دھماکے کو روک پانا ممکن نہیں ہوگا خواہ پوری مسلم آبادی کو سلاخوں کے پیچھے کیوں نہ پہنچادیا جائے۔ افسران کو اس بات پر خاص طور پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے کہ کسی بھی دھماکے سے کس کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور کس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ نان شبینہ کے محتاج ، بے روزگار، جہالت کے شکار، بنیادی سہولت سے محروم مسلمان کیا دھماکہ کرنے کی حالت میں ہیں۔ جب پولیس والے کسی محلے میں آتے ہیں توہ پریشان ہوجاتے ہیں وہ ایسا کام کیوں کر کریں گے کہ جس سے تمام مسلمانوں پر آفت ٹوٹ پڑے۔
سیاسی حکام اوررہنما گھڑیالی آنسو بہارہے ہیں اور حفاظتی حکام بلند بانگ دعوے کررہے ہیں کہ کسی بھی صورت میں مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا۔ کون پکڑے گا مجرموں کو، وزیر داخلہ جائیں گے پکڑنے کے لئے یاکوئی اور وزیر؟ جب تک اصل ذہنیت کی شناخت نہیں ہوجاتی اور دوسرے کے کندھے پر بندوق رکھ کر استعمال کرنے والوں کو سامنے نہیں لایا جاتا اس وقت کچھ بھی ممکن نہیں۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اصل خاطی پر توجہ مرکوز کی جائے اور اسے ہر حال میں قانون کٹہر ے میں کھڑا کیا جائے خواہ وہ مسلمان ہو یا ہندویا کسی اور مذہب اور فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو اور اسے صرف ایک مجرم کی نظر سے دیکھا جائے اور ایک مجرم کی طرح سلوک کیا جائے۔ ایک مجرم کی طرح سزا دی جائے۔ g

دہلی میں حالیہ برسوں میں ہونے والے بم دھماکے
17 ستمبر 2011  :  صبح قریب سوا دس بجے دہلی ہائی کورٹ کے گیٹ نمبر پانچ کے باہر بم دھماکہ کم از کم نو افراد ہلاک
50 کے قریب زخمی.
25مئی  2011: دہلی ہائی کورٹ کے باہر معمولی دھماکہ ، کوئی جانی نقصان نہیں.
19ستمبر  2010  : موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے دہلی میں دولت مشترکہ کھیلوں سے پہلے جامع مسجد کے
باہر غیر ملکی سیاحوں کی ایک بس کو نشانہ بنایا اور دو تائیوانی شہریوں کو زخمی کر دیا۔
27ستمبر 2008  : دہلی میں مہرولی کے بازار میں پھینکے گئے ایک دیسی بم حملے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
13ستمبر 2008 : دہلی میں الگ – الگ جگہوں پر ہوئے بم دھماکوں میں کم سے کم 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
14اپریل 2006: دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے احاطے میں دو دھماکے ، 14 افراد زخمی۔
29اکتوبر 2005 : شہر کے سروجنی نگر ، پہاڑگج ، گووندپوری میں تین سلسلہ وار دھماکے 59 سے زیادہ اموات 100
کے اوپر زخمی۔
22مئی 2005 :  دو سینما گھروں میں ہوئے دھماکوں میں دو افراد ہلاک متعدد زخمی.
18جون  2000 :لال قلعہ کے قریب ایک طاقتور بم دھماکے میں ایک آٹھ سال کی بچی سمیت دو افراد ہلاک
16مارچ 2000: بھیڑ بھاڑ والے صدر بازار کے علاقے میں دھماکہ ، سات افراد ہلاک
06جنوری 2000: پرانی دلی کے ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ایک ٹرین کے اندر دھماکہ 20 افراد زخمی۔
03جون 1999 : لال قلعہ اور چاندنی چوک کے درمیان ہوئے دھماکے میں 27 زخمی۔
31اگست1998: بھیڑ بھاڑ والے ترکمان گیٹ کے پاس کے علاقے میں بم دھماکہ میں ایک شخص کی موت 17 زخمی۔
14جولائی 1997: لال قلعہ کے پاس بم دھماکے میں 18 افراد ہلاک.
23مئی 1996:لاجپت نگر سینٹرل مارکیٹ میں بم دھماکہ میں کم سے کم 16 افراد ہلاک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here