ہندوستان میں کوپوشن کی وجہ سے ہرسال 50فیصد بچوں کی اموات ہوجاتی ہے : ڈاکٹر کفیل خان

Share Article

 

ڈاکٹر کفیل کی آمد پر مظفرپور میں انصاف منچ کے زیراہتمام ہیلتھ فارآل مہم کی شروعات کی گئی

 

 

مظفرپور 2مئی ( پریس ریلیز  ) اترپردیش کے گورکھپور واقع بی آر ڈی  میڈیکل اسپتال جہاں سال 2017 میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بچوں کی موت ہو گئی تھی اس اسپتال میں مامور ڈاکٹر کفیل خان نے اپنی طرف سے بچوں کے زندگی بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی اس کے باوجود  ڈاکٹر کفیل کویوپی حکومت کی ناانصافی کا شکار ہونا پڑا تھا ڈاکٹر کفیل خان اسمائل فاؤنڈیشن کی جانب سے مظفرپور میں ہیلتھ فار آل مہم  کی شروعات کی ہے اسی کے تحت انصاف منچ  کے ریاستی نائب صدر ظفر اعظم کی کوشش سے مظفرپور کے برہمپورہ قلہ چوک پر ایک  سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈاکٹر کفیل خان بنفس نفیس موجود تھے کفیل خان نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاکہ  ہم نے ہیلتھ فارآل مہم  کی شروعات کی ہے ہم نے 25 ماہرین ہیلتھ کے تعاون سے ایک پرپوزل بنایا ہے ہم نے مودی حکومت سے ڈیٹا مانگا تھا لیکن مودی حکومت 2016-2017  سے ڈ یٹا جاری نہیں کر رہی ہے تو ہم نے اقوام متحدہ، ورلڈ بینک یونیسیف سے ڈیٹا حاصل کیا ہے جو ڈیٹا ہمیں حاصل ہوا ہے وہ بہت ہی دردناک ڈیٹا ہے 2017 میں آٹھ لاکھ سے زائد بچوں کی اموات ہوگئی ہے جنہیں معمولی کوششوں کے ساتھ بچایا جاسکتا تھا  ہمارے ملک میں ہرسال  50فیصدبچوں کی کوپوشن کی  وجہ سے موت ہو جا رہی ہے گلوبل ہنگر میں ہمارا ملک 2018 میں 50ویں نمبر پر تھا اور آج 103 نمبر پر پہنچ گیا ہے۔

 

 

گلوبل ہنگر کا مطلب ہے کہ ہماری نئی نسل کمزور ہو رہی ہے ہم بات کرتے ہیں کہ چین اور امریکہ سے لڑیں گے لیکن یہاں تو ہماری نئی نسلیں  کو پوشن کی شکار ہو رہی ہیں پانچ سال کا بچہ ہے وہ 14کیلو کا ہے پانچ سال کی لڑکی ہے وہ 14کیلو کی ہے ہمارے جنوبی ہند میں ہیلتھ نظام  بالکل بدحال ہے ڈاکٹر پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہے ہیں یہ باتیں ڈاکٹر کفیل خان نے کہی انہوں نے آگے کہا کہ مودی حکومت نے  2014 میں وعدہ کیا تھا کہ ہم تمام لوگوں کے لئے مفت میں علاج کا انتظام کریں گے 2017 میں انہوں نے آئیوس مان  منصوبہ کو نافذ کیا جس میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ 50 کروڑ لوگوں کو پانچ لاکھ روپے کا انسورینس دیں گے لیکن جب ہم نے ماہرین کے ساتھ بیٹھ کر اس کا تجزیہ کیا تو بات سامنے آئی کہ ہمارے ملک میں 63 کروڑ لوگ مقروض ہو جاتے ہیں واضح ہو کہ اموات کی جتنے آکریں آرہے  ہیں یہ سب صرف اور صرف غریبوں کے بچوں کی ہے، لیکن دوسری جانب جب سرمایہ داروں بڑے لیڈران  کے بچوں کی طبیعت خراب ہوتی ہے تو یہ دوسرے ممالک جاکر علاج کرا لیتے  ہیں اسی لیے ہم نے ایک پرپوزل بنایا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں سے ملکر یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ آپ ایک ایسا قانون بنائیں تاکہ بغیر کسی تفریق کے تمام لوگوں کو مفت میں مہیا ہو سکے تاکہ انہیں مفت میں دوا ملے مفت میں ان کا چیکپ ہوسکے کیونکہ دیہی علاقوں میں جب کسی کو دل کے  دورہ یا شدید بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو انہیں اپنے گاؤں سے بیس کلو میٹر دور جانا پڑتا ہے لیکن اس کی وجہ سے مریض کے بچنے کا جو موقع رہتا ہے وہ ضائع ہوجاتا ہے تو ہمارا مطالبہ ہے ایسے مریضوں کے لیے ان کے علاقوں ہی  میں علاج کے لیے اچھے ہسپتال کا نظم کیا جائے ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں جو نئی حکومت آئے و رائیٹ ٹو ہیلتھ بل پارلیمنٹ میں پیش کرے ملک کی آزادی سے لے کر موجودہ حکومت تک ہمارے صحت پر کوئی دھیان نہیں دے رہی ہے۔

 

Image result for gorakhpur child death news

 

ہم نے اس مطالبہ کو لے کر بی جے پی کے ہیلتھ منسٹر سے وقت لینا چاہتا تھا لیکن انہوں نے ہمیں وقت نہیں دیا اگر وہ ہمیں وقت دیتے تو ہم انہیں  بھی یہ پرپوزل پیش کرتے ہماری کوشش یہ ہے کہ ہمارے بنیادی ضروریات  پوری ہوسکے مسلا روٹی کپڑا مکان اور اچھے علاج کا نظم پڑھنے کے لئے اچھے تعلیم گاہ کا انتظام کیا جائے اور پڑھنے کے بعد اچھی ملازمت مل جائے وہیں انہوں نے اشکبار آنکھوں سے  اپنی آپبیتی سناتے ہوئے کہ اول تو مجھے تعصب کی بنیاد پر غیر آئینی طریقے سے سسپینڈ کیاگیا پھر میرے بھائی پر گولی چلائی گئ لیکن میں ہمت ہارنے والا نہیں ہوں چونکہ اب پوراملک میرے ساتھ کھڑا ہے میں آپ سےاپیل کرتاہوں کہ آپ اپنے ووٹ کااستعمال ضرور کریں اور ایک ایسی حکومت کاابتخاب کریں جو آپ کی بنیادی ضروریات کوپوری کرسکے وہیں اس موقع پر ظفراعظم، منوراعظم،قمراعظم،حاجی عقیل احمد  ڈاکٹر کفیل کو پھولوں کا گلدستہ اور ایک سال پیش کیا انصاف منچ بہار کے صدر سورج کمار سنگھ، نائب صدر آفتاب عالم، ترجمان اسلم رحمانی، فہد زماں، حکیم اجمل حسین، اکبر اعظم صدیقی، افتخار عالم مکھیا، اظہار عالم ، نیراعظم ،اعجاز احمد عرف ببلو، نے مشترکہ طور پر ڈاکٹر کفیل خان کو مومنٹو پیش کیا ،جاوید قیصر، ایڈوکیٹ ڈالر، افضال خان، ڈاکٹر ارشد انجم، جاوید احمد ،جمیل احمد خصوصی طور پر اسٹیج پر موجود تھے وہیں  شرکاء  میں مطلوب الرحمان، مفتی عرفان قاسمی، صبغتہ اللہ رحمانی، دیپک کمار، ویکیش کمار، اجئے کش،شاہد اعظم، عارف،شاہد ادبی ،شفیق الرحمن، پرویز احمد، شاداب عرف بابو کے علاوہ سیکروں لوگ موجود تھے سیمینار کے نظامت کافریضہ عابدہ ہائی اسکول چندوارہ کے استاد شکیل چشتی صاحب نے انجام دیا پروگرام کا اختتام ظفر اعظم کی اظہار تشکر پرہوا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *