دسمبر میں طے ہوگا دہلی کا سیاسی مستقبل

Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

دہلی کی سیاست دیگر ریاستوں کے مقابلے زیادہ سادہ اور مقامی ایشوز پر مبنی ہوتی ہے۔ اس بار کے ہوئے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی اکثریت سے کچھ دور،لیکن سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھری تھی۔حالانکہ بی جے پی کے ذریعہ سرکار نہ بنانے کے اعلان کے بعد پہلی بار انتخابی میدان میں کھڑی عام آدمی پارٹی نے اپنے بڑے مخالف کانگریس کے ساتھ مل کر دہلی میں سرکار بنائی۔ جن لوک پال قانون اسمبلی میںمنظور نہ ہونے کے بعد پارٹی سپریمو اروند کجریوال نے 14فروری 2014 کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد دہلی میں کبھی جوڑ توڑ کرکے سرکار بنانے کی چرچائیں ہونے لگیں، تو کبھی نئے سرے سے اسمبلی انتخاب کی بات کہی جانے لگی۔عموماً مستحکم سرکار دینے والی دہلی میں گزشتہ 6 مہینوں سے سیاسی عدم استحکام دیکھا جارہا ہے۔بہر حال گزشتہ دنوں اروند کجریوال کی عرضی پر سنوائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے مرکزی سرکار سے پوچھا کہ دہلی میں صدر راج کیوں جاری ہے اور سرکار بنانے کے لئے کیا قدم اٹھائے گئے ہیں؟اس معاملے میں مرکزی سرکار اور لیفٹیننٹ گورنر کی اپنی اپنی دلیل ہو سکتی ہے، لیکن عوام کے ان سوالوں کا جواب کون دے گا، جو صدر راج کے بجائے ایک مستحکم سرکار دیکھنا چاہتی ہے۔

p-4bگزشتہ کئی مہینوں سے دہلی والوں کے موبائل فون پر عام آدمی پارٹی کے سپریمو اروند کجریوال کی آواز میں ایک کال اپیل؍اشتہار سنائی دیتا تھا۔کجریوال کبھی دہلی میں اپنی 49دنوں کی سرکار کی کامیابیاں گنا رہے تھے تو کبھی محلہ سبھا منعقد کرکے اپنے ارکان اسمبلی کو ملنے والے ترقیاتی فنڈ کا استعمال کرنے کی بات کہتے تھے۔ دہلی میں پوسٹر کے ذریعہ بھی وہ اس طرح کی اپیل کرتے رہے تھے۔ گزشتہ 3اگست کو جنتر منتر پر عام آدمی پارٹی کی طرف سے ایک عوامی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی سے پہلے راجدھانی دہلی کے ہر گلی محلے میں عام آدمی پارٹی کا ایک پوسٹر دیکھنے کو ملا، جس میں لکھا تھا ’’ انتخاب سے کیوں بھاگ رہی ہے بی جے پی؟‘‘۔اس پوسٹر میں نیچے بائیں طرف اروند کجریوال کا ایک فوٹو بھی لگا تھا۔
سیاست میں اپنی بات کہنے کے لئے اور اپوزیشن پارٹیوں پر حملہ بولنے کے لئے عام آدمی پارٹی کا یہ طریقہ بیشک نیا ہے، لیکن دہلی کے عوام کو اب اس میں نئی بات نہیں دکھتی ہے۔نئی دہلی میں جنتر منتر پر منعقد ریلی میں اروند کجریوال بھلے ہی بی جے پی اور کانگریس کے خلاف نشانہ لگارہے تھے،لیکن اگر دیکھا جائے تو طے شدہ پالیسی، پروگراموں اور مسودے کے پیش نظر ان کی پارٹی بھی دیگر پارٹیوں کی قطار میں کھڑی ہو گئی ہے۔ ریلی کو خطاب کرتے ہوئے اروند کجریوال دہلی میں اسمبلی تحلیل کر کے نئے سرے سے انتخاب کی مانگ کر رہے تھے۔ ان کے مطابق، بی جے پی جوڑ توڑ کے سہارے سرکار بنانے کی کوششوں میں جٹی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انتخابات سے بھاگ رہی ہے۔ اروند کجریوال کا دعویٰ چاہے جو ہو، لیکن جنتر منتر پر پہلی بار ان کی پارٹی کی طرف سے لوگوںکو لانے کے لئے بسوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ حالانکہ اب تک ریلیوں میں لوگوں کو لانے کے لئے بسوں کا خصوصی انتظام دوسری پارٹیاں کرتی رہی ہیں، جس پر اروند کجریوال سمیت پارٹی کے کئی لیڈر بھی طنز کستے رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق ہر اسمبلی حلقے سے لوگوں کو جنتر منتر لانے کے لئے چار پانچ بسوں کا انتظام کیا گیا تھا۔
عام آدمی پارٹی کی اس ریلی میں آٹو، ای رکشہ اور رکشہ چلانے والے اتنی تعداد میں نہیں آئے ،جتنی امید اروند کجریوال کر رہے تھے،لیکن رہڑیپٹری، دکانداروں اور جھگی جھونٹریوں سے سینکڑوں لوگ جنتر منتر پر دیکھے گئے۔ جنتر منتر پر اجے ویر نام کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی۔ حالانکہ اس نے عام آدمی پارٹی کی ٹوپی اپنے سر پر نہیں لگائی تھی۔بات چیت میں اس نے بتایا کہ اتوار کو چھٹی ہونے کی وجہ سے وہ اروند کجریوال کو سننے آئے ہیں۔ جنتر منتر پر مقامی پولیس کیمپ سے قریب ایک دکان پر چائے کی چسکی لیتے ہوئے اس نے ایک سوال پوچھا۔ اروند کجریوال کہتے ہیں کہ ان کے پاس دیگر پارٹیوں کی طرح بہت پیسے نہیں ہیں کہ انتخابات میں خرچ کر سکیں ،لیکن موبائل فون پر انجانے نمبروں سے فون آتا ہے، جسے ریسیو کرتے ہی کجریوال کی اپیل سنائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ایف ایم ریڈیو پر گانا سنتے وقت بھی کجریوال دہلی کے لوگوں کو اپنی بات سناتے ہیں۔ اجے ویر اپنے اگلے سوال میں پوچھتے ہیںکہ موبائل فون اور ایف ایم پر اس طرح اپیل نشر کرنے میں عام آدمی پارٹی کے کتنے کروڑ روپے خرچ ہوئے ہوں گے؟اجے ویر کا یہ سوال واقعی ایک جستجو پیدا کرتا ہے ۔ بہر حال اسمبلی انتخاب میں ملی ہار کے بعد اروند کجریوال کی طرف سے راجدھانی دہلی میں یہ پہلی عوامی ریلی تھی۔ بی جے پی اور کانگریس پر نشانہ لگانے کے بہانے ہی صحیح یہ ریلی عام آدمی پارٹی کے کارکنوں میں جوش بھرنے کا کام کیا، کیونکہ لوک سبھا انتخاب میں پارٹی کی مایوس کن کارکردگی کے بعد کارکنوں کے حوصلے کم ضرور ہو گئے تھے۔
وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد اروند کجریوال نے شروع میں لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ سے ملاقات کر کے اسمبلی تحلیل نہ کیے جانے کی مانگ کی تھی۔ اس وقت انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ ایک بار پھر اکثریت سے سرکار بن سکتی ہے، لیکن اس سے جڑی خبریں میڈیا میں آنے کے بعد کجریوال نے سرکار بنانے کا اپنا ارادہ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد کجریوال اسمبلی تحلیل کرنے کی مانگ کو لے کر دو بار لیفٹیننٹ نجیب جنگ سے ملے۔ اتنا ہی نہیں، اس بار انہوں نے صدر جمہوریہ اور مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے مل کر بھی اسمبلی تحلیل کر کے انتخاب کرائے جانے کی سفارش کی۔ بی جے پی کی طرف سے سرکار بنانے کی آہٹ کے بیچ کجریوال کی پریشانی تھوڑی ضرور بڑھ گئی،لیکن ارکان اسمبلی کی خرید فروخت کا ایشو اچھال کر انہوں نے بی جے پی کے ارادوں پر لگام لگا دی ۔ جنتر منتر پر بھیڑ دیکھ کر اروند کجریوال پُر جوش نظر آئے، لیکن ریلی میں بھیڑ جٹانے کے لئے عام آدمی پارٹی نے ان سبھی طریقوں کا استعمال کیا جو عموماً دوسری پارٹیوں میں دیکھا جاتاہے۔ 14اگست 2014 کو دہلی میں صدر راج نافذ ہوئے چھ مہینے پورے ہو جائیں گے۔ آئین کے مطابق ، کسی بھی ریاست میں صدر راج 6 مہینے کے لئے ہی لگایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس ریاست میں نئے سرے سے انتخاب کرائے جاتے ہیں، لیکن مکمل ریاست کا درجہ نہ ہونے کے سبب دہلی میں یہ مدت ایک سال کی ہو سکتی ہے۔ دہلی میں اسمبلی تحلیل کر کے نئے انتخاب کرانے کے تعلق سے اروند کجریوال کی عرضی پر 5اگست 2014کو سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے سنوائی کے دوران مرکزی سرکار سے پوچھا کہ دہلی میں صدر راج کیوں جاری ہے؟کیا چنے ہوئے ارکان اسمبلی کا گھر پر بیٹھنا صحیح ہے؟
سپریم کورٹ نے یہ بھی پوچھا کہ اس معاملے میں عوام کیوں پریشانی جھیلے ۔ کورٹ نے اس بابت مرکزی سرکار کو پانچ ہفتے کا وقت دیا ہے، تاکہ وہ اپنا جواب داخل کر سکے۔ مرکزی سرکار کے رخ سے یہ لگ بھگ صاف ہو گیا ہے کہ دہلی میں سرکار بننے کے تمام امکانات ختم ہوچکے ہیں اور اس سال دسمبر میں یہاں اسمبلی کے انتخاب ہونا تقریباً طے ہے۔ دہلی میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخاب میں کس پارٹی کو اکثریت ملے گی۔ فی الحال یہ کہہ پانا مشکل ہے۔ یقینی طور سے اروند کجریوال اپنے پرانے ایشو یعنی بجلی،پانی اور مہنگائی کے سوال پر انتخابی میدان میں دوبارہ اتریں گے،لیکن کانگریس کی مدد سے سرکار بنانے اور 49 دنوں میں وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے جواز پر وہ نہ صرف اپوزیشن پارٹیوں کے نشانے پر ہیں، بلکہ دہلی کے کروڑوں لوگ بھی کجریوال کے اس فیصلے سے خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ ایسا سوچنے والوں میں عام آدمی پارٹی کے عام کارکنان بھی ہیں۔ بات اگر بی جے پی کی کریں تو آئندہ دہلی اسمبلی انتخاب میں وہ پوری اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے سرکار نہ بنانے کو سیاسی شفافیت کے طور پر تشہیر کرے گی۔ویسے بی جے پی میں جوڑ توڑ کرکے سرکار بنانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ کام بی جے پی اور کانگریس سمیت کئی مقامی پارٹیاں اپنی سہولت کے مطابق کر چکی ہیں۔ دہلی کے انتخاب میں کانگریس کی صورت حال میں کوئی خاص سدھار ہونے کی امید نہیں ہے۔ ویسے کانگریس نریندر مودی سرکار کے دعوئوں اوراس سے عوام کو نہیں ملی راحت کے سوال پر بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کرے گی۔ اس کے علاوہ کانگریس دہلی کے عوام کو یہ سمجھانے کی بھرپور کوشش کرے گی کہ دوبارہ انتخاب نہ ہو، اسی لئے عام آدمی پارٹی کو بلا شرط حمایت دی تھی، لیکن کجریوال نے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں خود کو ناکام پاکر وزیر اعلیٰ عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ بہر حال دہلی میں اس وقت جو سیاسی عدم استحکام ہے اس کا ذمہ دار جو بھی ہو لیکن دہلی کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا،یہ آنے والا اسمبلی انتخاب میں طے کرے گا۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *