ڈی ڈی سی اے کرکٹ میں سیاست اور سیاست میں کرکٹ

Share Article

کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس نے بہتوں کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچادیا ہے تو کئی ایک کے کیریئر کو برباد کردیا ہے۔ تازہ معاملہ دلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کا ہے۔ اس میں جہاںایک طرف مرکزی وزیر خزانہ اور سابق ڈی ڈی سی اے صدر ارون جیٹلی ہیں، وہیں دوسری طرف دلی کی عام آدمی پارٹی کی سرکار اور خود بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کیرتی آزاد بھی اس میں شامل ہیں۔اس میں کون جیتتا ہے،کون ہارتا ہے یہ تو الگ بات ہے ۔فی الحال کرکٹ میں سیاست اور سیاست میں کرکٹ کا گھمسان عروج پر ہے۔

عام آدمی پارٹی کا دہلی سکریٹریٹ پر سی بی آئی چھاپے پر کہنا ہے کہ سی بی آئی وہ فائلیں حاصل کرنے کے لئے چھاپا مارنے آئی تھی، جس میں ڈی ڈی سی اے میں بد عنوانی سے جڑی ایک حالیہ رپورٹ کی کاپی رکھی تھی۔’ آپ ‘نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر دلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسو سی ایشن ( ڈی ڈی سی اے) کے صدر (1999-2013) اور پھر ایک سال ڈی ڈی سی اے کے پیٹرن ان چیف کے عہدے پر رہنے کے دوران کئی طرح کی بے ضابطگیاں برتنے کاالزام لگایا ہے۔ آپ کے لیڈروں کا الزام ہے کہ دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم کی تعمیر نو اور مرمت کے لئے ڈی ڈی سی اے نے 24کروڑ روپے کابجٹ الاٹ کیا تھا ،لیکن خرچ کر دیئے گئے 114 کروڑ روپے۔ آپ کا کہنا ہے کہ ڈی ڈی سی اے نے پانچ ایسی کمپنیوں کو ادائیگی کی ہے جن کے رجسٹرڈ دفتر، آفیشیل ای میل ، ڈائریکٹر اور شیئر ہولڈر ایک ہی آدمی تھے۔ آپ لیڈروں کا کہنا ہے کہ جیٹلی بتائیں کہ ان کا اور ڈی ڈی سی اے کے خزانچی نریندر بنا کے بیچ کیا تعلق ہے۔ ڈی ڈی سی اے نے کئی بار 20 ہزار روپے سے زیادہ کی ادائیگی کیش میں کی۔ جبکہ یہ قانون کے مطابق نہیں ہو سکتا ہے۔ ڈی ڈی سی اے کی ٹیموں کی طرف سے کھیلنے والوں میں صرف امیروں کے بچے ہی ہیں۔
دلی سرکار نے ڈی ڈی سی اے میں دھاندلی اور بد عنوانی کے الزام کی جانچ کے لئے ایک سہہ رکنی کمیٹی کی تشکیل کی۔ جس کی قیادت دلی سرکار کے ویجلنس محکمہ کے چیتن ساندھی نے کی تھی،ساندھی نے ڈی ڈی سی اے میں گھوٹالوں کا خلاصہ کرتے ہوئے دلی سرکار کو سجھاﺅ بھی دیا ۔ چیتن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ارون جیٹلی دلی کرکٹ بورڈ سے سالوں تک جڑے رہنے کے بعد 2013 میں اس سے الگ ہو گئے۔ ان کے تعینات کئے ہوئے کئی افسر اب بھی وہاں ہیں۔ جانچ رپورٹ میں ارون جیٹلی کا سیدھے طور پر نام ؛نہیں لیا گیا ہے۔ لیکن رپور ٹ میں 2002 سے اب تک ہوئی سبھی مشکوک سرگرمیوں کی جانچ کی گئی ہے۔ ڈی ڈی سی اے نے فیرز شاہ کوٹلہ کی از سر نو تعمیر کا فیصلہ لیا تھا جو 2002سے 2007 تک چلی ۔ اس میں 24کروڑ روپے خرچ ہونے تھے،لیکن خرچ 114 کروڑ روپے ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اسٹیڈیم کے زیادہ تر کاموں کے لئے ٹینڈر نکالے جانے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ڈی ڈی سی اے نے غیر قانونی طور سے اسٹیڈیم میں 12کارپوریٹ باکس بنائے، جو مناسب پروسیس کے بغیر کمپنیوں کو لیز کر دیئے گئے۔ رپور ٹ کے مطابق اسٹیڈیم کی تعمیر نو میں شامل زیادہ تر کمپنیاں ڈی ڈی سی اے کے افسروں کی فرنٹ کمپنیاں ہیں، اسی لئے بجٹ جان بوجھ کر کئی گنا بڑھایا گیا۔ ڈی ڈی سی اے فیروز شاہ اسٹیڈیم کو شہری ترقیاتی وزارت سے لیز پر لے کر چلتا ہے۔ اس کے بدلے ڈی ڈی سی اے، وزارت کو ہر سال تقریبا 25لاکھ روپے دیتا ہے۔ وزارت کو آج کے ریٹ کے مطابق 16کروڑ روپے سالانہ ملنے چاہئے۔
سابق کرکٹر و ممبر پارلیمنٹ کیرتی آزاد نے بھی ایک ویڈیو کے ذریعہ سے ڈی ڈی سی اے میں بڑا گھوٹالہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ آزاد کا کہنا ہے کہ محض 30سے 40 ہزار روپے کی قیمت والے کمپیوٹر کو ڈی ڈی سی اے نے 11 ہزار روپے یومیہ کے حساب سے کرائے پر لئے۔ آزاد نے کہا کہ ڈی ڈی سی اے نے 3ہزار روپے یومیہ کی بنیاد پر پرنٹر کرائے پر لئے۔ جبکہ ایک پرنٹر آسانی سے پانچ سے سات ہزار روپے میں خریدا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈی ڈی سی اے کے ساتھ 14 ایسی کمپنیوں کے ساتھ ڈیل ہوئی جو عملی طور پر ہیں ہی نہیں۔کہیں کمپنی کے پتے کی جگہ ہاﺅسنگ سوسائٹی ہے تو کہیں پورا کا پورا پتہ ہی غلط نام پر ہے۔ کہیں دفتر کا پتہ دکھایا گیا تھا، لیکن اس کی جگہ مکان ملا۔
بی جے پی صدر امیت شاہ نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے خلاف عام آدمی پارٹی کے سارے الزامات کو بے بنیاد اور سچائی سے دور بتایا ۔امیت شاہ نے دلی کی اروند کجریوال سرکار کے ذریعہ جانچ کمیشن تشکیل کئے جانے کے جواز پر بھی سوال کھڑے کئے۔ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ ایس ایف آئی او نے ڈی ڈی سی اے کی بدعنوانی میں جیٹلی کے کسی بھی طرح کی ملوث ہونے کو پہلے ہی خارج کر دیا ہے۔ امیت شاہ نے کمیشن اور اس کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے حیرت کا اظہارکیا کہ ڈی ڈی سی اے کا کام کاج ایک رکنی کمیشن کے دائرے میں کیسے آسکتا ہے؟۔ یہ قانونی بحث کا موضوع ہے۔ دلی اور ضلع کرکٹ ایسو سی ایشن نے اس کے سابق چیف اور وزیر خزانہ جیٹلی کے خلاف مالی بے ضابطگی کے الزاموں کو جو کہ عام آدمی پارٹی نے لگائے ہیں ،کو خارج کرتے ہوئے ان کو سراسر بے بنیاد بتایا ہے۔ ڈی ڈی سی اے کے کارگزار صدر چیتن چوہان نے کہا کہ جیٹلی کو اس تنازع میں گھسیٹنا صحیح نہیں ہے۔ سابق کرکٹر کیرتی آزاد کے ذریعہ لگائے گئے الزامات پر چوہان نے کہا کہ انہیں ایڈوائزری کمیٹی کا ممبر بننے کے لئے کہا گیا تھا لیکن وہ سلیکشن کمیٹی کی میٹنگوں میں حصہ لینا چاہتے تھے۔
ڈی ڈی سی اے معاملے پر جیٹلی نے دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال سمیت 6 لیڈروں پر توہین کا کیس درج کرایا ہے۔ جیٹلی نے کیرتی آزاد کے خلاف کیس درج نہیں کیا ہے۔ جیٹلی نے کجریوال سے 10کروڑ کا ہرجانہ مانگا ہے۔ جیٹلی نے کجریوال ،کمار وشواس، اسوتوش، سنجے سنگھ، راگھو چٹا اور دیپک باجپئی کے خلاف دلی ہائی کورٹ میں توہین کا دیوانی مقدمہ اور پٹیالہ ہاﺅس کورٹ میں توہین کا مجرمانہ مقدمہ دائر کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *