بیرون ممالک بھیجنے کے نام پرانسانی اسمگلنگ کا پردہ فاش،6نیپالی لڑکیاں آزاد

Share Article
dcw
بیرون ملک کام دلانے کے نام پرانسانی تسکری کامعاملہ دہلی کے ساگرپورتھانہ علاقے سے سامنے آیاہے۔دہلی خواتین کمیشن(ڈی سی ڈبلیو) نے شمال مغرب دہلی کے بھلسوا کے ایک گھرسے 6نیپالی لڑکیوں کوبچایاہے۔ لڑکیوں کونیپال سے تسکری(اسمگلنگ) کرکے دہلی لایاگیاتھا اورکام دلانے کے نام پرخلیج ممالک میں لے جایاجاناتھا۔لڑکیاں کسی خاتون ایجنٹ کے رابطے میں تھیں۔ وہیں دہلی خواتین کمیشن نے پولس کے عدم دلچسپی رویے کیلئے نوٹس جاری کیاہے۔موقع پرپہنچی پولس ٹیم نے دیکھاکہ 18سے 25سال کے عمرکی 6لڑکیوں کوایک گھراکیلے رکھاگیاتھا۔

لڑکیوں نے بتایاکہ وہ جلدلینانام کی ایجنٹ کے ذریعے نوکری کیلئے بیرون ملک جانے والی ہیں۔اس کیلئے ہرلڑکی نے لینا کوتقریباً ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کیاہواتھا۔خواتین کمیشن کے بچاؤ گروپ کواس گھرسے پاسپورٹ کے پرنٹ آؤٹ ، بیئرکی بوتلیں اوراستعمال کئے گئے کنڈوم ملے۔جس سے یہ اندازہ لگانا غلط نہیں ہوگاکہ ان لڑکیوں سے جسم فروشی بھی کرائی جاتی تھی۔ لڑکیوں کوان کے بیان درج کرنے کیلئے ساگرپورپولس اسٹیشن لے جایاگیا اوربعدمیں انہیں شیلٹرہاؤس نرمل چھایابھیج دیاگیا۔ دہلی خواتین کمیشن نے معاملے میں دہلی پولس کے کام کرنے کے طریقے پرناراضگی کا اظہارکیا۔پہلے توپولس اسٹیشن میں لڑکیوں کے بیان درج کرنے کے دوران کمیشن کے مشیرکوموجودہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

 

 

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *