دور حاضر میں جدید علم سے ترقی ملتی ہے

Share Article

لی گڑھ: مسلم یونیورسٹی کے انجینئرنگ ہال فار گرلس میں بانی درس گاہ سرسید احمد خاں کا195واں یومِ پیدائش تزک و احتشام کے ساتھ منعقدکیاگیا۔پروگرام میں مہمانِ خصوصی اے ایم یو کے سابق طالب علم اور نیو ملینیم کنسٹرکشن کمپنی کے مینیجنگ ڈائرکٹر سلمان جعفری نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ میں کچھ ایسی عظیم شخصیات گزری ہیں جو علم اور شخصیت دونوں حوالوںسے ہی ہمیشہ یاد کی جائیں گی اور سرسید احمد خاں ان ہی چند ہستیوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرسید نے نہ صرف ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا بلکہ وہ ملک میں تعلیمی انقلاب کے بانی تھے۔اس موقعہ پر اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر برگیڈیئر ( ریٹائرڈ ) سید احمد علی نے دورِ حاضر میں سرسید کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سرسید کی تعلیمی پالیسی جدید تحقیق اور ایجادات پر منحصر تھی اور دورِ حاضر میں صرف وہی لوگ آگے بڑھ سکتے ہیں جو جدید علم رکھتے ہوں۔
حرا جاوید نے سرسید کے فلسفۂ تعلیم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سرسید نے ملک کی عقلی اور تعلیمی ترقی میں نئی جہات قائم کیں۔ شیریں نے غزل ’’ جھکی جھکی سی نظر ‘‘ پیش کی، جس کو حاضرین نے کافی سراہا۔ زیبا اور فردوس نے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کی وساطت سے سارے اے ایم یو کیمپس کا تعارف اور تاریخ پیش کی ، جس میں اے ایم یو کے قابلِ ذکر سابق طلبأ پر بھی روشنی ڈالی گئی تھی۔ ہال کی طالبات نے ’’ ہم ہوں گے کامیاب ‘‘ گیت پیش کیا۔ تقریب میں ثقافتی پروگراموں کے علاوہ بحث و مباحثہ، کوئز، گیت مقابلہ، رنگولی بنانے کا مقابلہ وغیرہ بھی منعقد کئے گئے۔ اس سے قبل ہال کی پرووسٹ ڈاکٹر نکہت نسرین نے مہمانِ خصوصی کا خیر مقدم کرتے ہوئے سرسید کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی۔ مہمانِ خصوصی نے فاتحین کو انعامات سے سرفراز کیا۔
پروفیسر بصیر احمد خان ’’سرسیّد نیشنل ایوارڈ‘‘ سے سرفراز
نئی دہلی: اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (UDO) کے قومی سینئر نائب صدر اور آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے اپنے ایک بیان میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبول سوشل اینڈ ایجوکیشنل سوسائٹی، علی گڑھ کی جانب سے منعقدہ نیشنل سیمینار بعنوان ’’سرسیّد احمد خان: جدید تعلیم کے معمار‘‘ کے موقع پر پروفیسر بصیر احمد کو سرسیّد نیشنل ایوارڈ سے سرفراز کیا جانا یقینا باعث صد شرف و اطمینان ہے۔ ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے کہا کہ بصیر احمد صاحب کی خدمات سے تقریباً سبھی قوم و ملت کے باشعور حضرات اچھی طرح واقف ہیں۔ پروفیسر بصیر احمد نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن، پوسٹ گریجویشن، ایم ٹی ایچ اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرکے وہیں شعبۂ دینیات میں بطور لیکچرار خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہیں کئی مرتبہ گولڈ میڈل اور یونیورسٹی میڈل حاصل ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر اور سکریٹری کے عہدے پر بھی منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ جامعہ ہمدرد، دہلی میں آپ نے صدر شعبہ کے علاوہ ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ سوشل سائنسز، ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر، پراکٹر اورپرووسٹ کے عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں۔ نیز اِندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (اِگنو) میں بھی پرو وائس چانسلر کی حیثیت سے بحسن و خوبی و ایمانداری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیں۔ دوران ملازمت آپ نے مختلف انٹرنیشنل سیمیناروں میں شرکت کے لیے بیرون ممالک کا سفر کیا، خاص طور سے انگلینڈ، فرانس، سویڈن، ہالینڈ، اٹلی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، سنگاپور، مصر، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، ایران، نیپال اور سائوتھ افریقہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
پروفیسر بصیر احمد خان قومی و ملّی خدمات میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے آل انڈیا مجلس مشاورت میں اُس دور میں جوائنٹ سکریٹری کی حیثیت سے کام کیا جب اُس میں مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی (علی میاں)، قائدملت محمد اسماعیل، مولانا ابواللیث اصلاحی، مولانا محمد مسلم، قائد ملت ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی، ڈاکٹر سیّد محمود، مفتی عتیق الرحمن اور ابراہیم سیٹھ سلیمان جیسے معتبر لوگ شامل تھے۔
پروفیسر بصیر احمد خان کو ’’سرسیّد نیشنل ایوارڈ‘‘ سے سرفراز ہونے پر ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے اُن کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔
اردو انسان کو مہذب بناتی ہے
نئی دہلی:گزشتہ دنوںانصاری اسلامک کلچر ل سینٹر میں ماہانہ پروگرام کا آغاز ہو ا جس میں مہمان خصوصی سمیع اللہ انصاری پی سی ایس ریٹائرڈ جو لکھنؤ سے تشریف لائے تھے ۔انہوں نے اس پروگرام کی صدارت کی ۔اس پروگرام میں سینٹر کے تمام تحریکی رفقاء اور ممبران نے شرکت کی ۔پروگرام کا موضوع ’’بنیادی تعلیم کی اہمیت ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے سمیع اللہ انصاری نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بنیادی تعلیم کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمان اپنے بچوں کو بنیادی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دیں اور اپنے بچے کو بنیادی تعلیم میں کسی طرح کی کوئی کمی نہ ہونے دیں کیونکہ یہی ان کی بنیاد اور ا ن کا حق ہے ۔اگر اس میں کسی طرح کو تاہی برتی گئی تو ایک بچہ نہیں بلکہ پوری نسل جہالت کی تاریکی میں ڈوب جاتی ہے اور زندگی کے چیلنجوں سے مقابلہ آرائی کرنے میں وہ ہر جگہ ناکام و نامراد ہو تی چلی جاتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا آج مسلمان بچوں کو اردو کی تعلیم ایک مضمون کی حیثیت سے دلانا بے حد ضروری ہو گیا ہے ۔کیونکہ آج کی نسل اردو کی تعلیم کو فراموش کرتے جا رہی ہے، جس کا خمیازہ یہ ہے کہبچے مہذب نہیں ہو رہے ہیں بلکہ ایسی ایسی باتیں بڑوں کے سامنے کہہ جاتے ہیں جس کو کہنے میں آج بھی کوئی مہذب شخص ہچکچاتا ہے۔یہ اردو کو نظر انداز کر نے کا نتیجہ ہے ۔اردو پڑھنا اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے اسلاف و اجدا د کی بیش بہا خدمات اردو زبان و ادب میں محفوظ ہیں،جس کو پڑھنے کے بعد اپنے دینی اور ایمانی تشخص کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اس پروگرام کی نظامت فلاح الدین فلاحی صاحب نے انجام دی ۔انصاری اسلامک کلچرل سینٹر کے جنرل سکریٹی سلیم انصاری علیگ نے بھی اس پروگرام میں خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جس مذہب اسلام کی بنیاد ہی علم سے رکھی گئی ہے اسی مذہب کے ماننے والے سب سے زیادہ نا خواندہ ہیں۔ شاید یہ ہماری قوم کی سب سے بڑی لاپروائی میں سے ایک ہے۔ماضی کی تلافی ہمیں مستقبل سے کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم میں کا ہر مسلم آج طئے کر لے کہ کسی بھی بچے کو تعلیم سے دور نہیں ہونے دیں گے، تو وہ وقت دور نہیں جب ہماری قوم میں آج بھی صلاح الدین ایوبی ،حسن البنا شہید ؒ،سید قطب،علامہ اقبال ؒ ،سید مولانا ابو اعلی مودودیؒ،سر سید احمد خاںؒ جیسے سرخیل رہبر پیدا ہو سکتے ہیں ، جنہوں نے اپنی زندگی کو قوم کے نام وقف کر دیا تھا اور اللہ رب العزت نے ان کی کوشش کو کامیا ب کر کے دکھا یا اور وہ اپنی قوم کے لئے قیمتی سرمایہ حیات وراثت میں دیکر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔پروگرام کے اخیر میں سر سید احمد خاں کو خراج عقید ت پیش کیا گیااور حافظ امیرالحق کی دعاء پر پروگرام کا اختتام ہوا ۔اس پروگرام میں انصاری اطہر حسین ،فیروز عالم ندوی،مولانا مختار عالم ندوی ،مسیح الدین قاسمی ،شہنواز قاسمی وغیرہ نے شرکت کی ۔
سرحدوں کے نام پر دلوں کی دوریاں ختم ہو
بنارس: گزشتہ دنوںسرحدوں کے نام پر دلوں میں پیدا ہوئی دوریوں کو مٹانے کے مقصد سے وارانسی کے بنياباغ واقع راجنارائن پارک میں راجیو گاندھی کی یاد میں ایک انڈو پاک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ مشاعرے کا آغازعلاقائی شاعر نظام بنارسی کے نعت سے ہوا۔ مشاعرے کی نظامت کر رہے شاعر ندیم فروخ نے ابتدائی اشعار پڑھنے کے لیے مشتاق بنارسی کو زحمت دی۔ روشنی سے جگمگاتے میدان میں قریبی ضلع چندولي کے هردلعزیز شاعر سہیل آسماني اپنے خوبصورت ترنم سےمجمع کے دلوں میں گھرلیا۔هاني ہاشمی اور نوجوان شاعرہ ارم سلطان نے بھی اپنا کلام سنایا۔ شاعر سرور کمال فاخري نے اپنی شاعری میں انتخابی وعدوں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔زینت مرادآبادی نے ادبی شہر کے لوگوں کے حوالے سےاپنے اشعار پیش کئے۔ محفل کوقهقهو میں تبدیل کرنے کے لئے ناظم نے مهاراشٹر سے مشاعرے میں شرکت کر رہے شاعر ابراهمي ساغر کو آواز دی۔ مہمان شاعر ميثم گوپالپري نے شرکت کی۔ جمیل خیرآبادي نے جب اپنا کلام پیش کیا تو پورا مجمع تالیوں سے گونج اٹھا۔محفل میں جب دہلی کی شاعرہ انا دہلوی غزل سرا ہوئیں تو محفل میں سماں بندھ گیا۔راہی بستوي نے امریکہ کے خلاف غزل پیش کی۔دبئی سے تشریف لائے مہمان شاعر ڈاکٹر زبیر فاروق کی اردو میں لکھی دو کتابوں کا رسم اجرا اس موقع پر کیا گیا۔ ترنم دنیا کے بے تاج بادشاہ طاہر فراز نے بھی اپنی چھاپ محفل پر چھوڑی. شبينہ ادیب نے اپنے گیت پڑھے ۔ محبوب شاعر ڈاکٹر راحت اندوري نے مائک تھاما تو تاليوں کی گڑگڑاہٹ سے لوگوں نے ان کا شاندار استقبال کیا ناظم ندیم فروخ کے کلام سے ہوا۔ اس دوران اتر پردیش میں کانگریس کے سینئر لیڈر مسٹر پرمود تیواری، اترپردیش بار کونسل الہ آباد کے چیئرمین جناب عمران محمود خان، راشٹريہ سہارا کے وارانسی کے منتظم جناب ممتاز احمد، آل انڈیا اخبار نويس ایسوسی ایشن کے بانی صدر جناب سید فیروزالدین، مشاعرہ کمیٹی کے چیئرمین جناب کشور چورسيا، صدر جناب اشفاق میمن، ایم ایل اے مسٹر اجے کمار، جناب قائم بنارسی کے علاوہ متعدد اہم شخصیات نے اس مشاعرے میں شرکت کی۔جس وقت مشاعرہ ختم ہوا تو سامعین پر ایک عجیب سرور کی کیفیت طاری تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *