دار العلوم ندوۃ العلماء کا ذکر آتے ہی ذہن میں ایک تصویر ابھر کر آتی ہے، وہ یہ کہ دینی تعلیم کی دنیا میں اہم درجہ رکھنے والا ایک مدرسہ، جہاں قرآن پاک اور حدیث کی روشنی میں علم حاصل کرنے والوں کو مولوی، مفتی، قاری و حافظ کی ڈگری دی جاتی ہے، فتوؤں پر غور فرمایا جاتا ہے۔ ندوہ یعنی اسلام کے سماجی، تعلیمی اور دیگر ضروری پہلوؤں کا اہم مرکز۔ یہ اس کا ایک پہلو ہے جو دنیا کو دکھائی دیتا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو بھی ہے جو قریب جا کر اسے سمجھنے کے بعد ہی نظر آئے گا۔ وہ یہ کہ دینی علم کے ساتھ ہی دنیا کی وہ تمام تعلیم جو صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے ضروری ہے، ندوہ میں دی جاتی ہے۔ مغربی ممالک کی چکاچوندھ سے مسلم سماج کو دور رکھتے ہوئے ان کی صحیح رہنمائی کرنے کا کام بھی یہاں کے علما کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لکھنؤ کو اگر شامِ اودھ، قومی اتحاد کے لیے شہرت حاصل ہے تو دارالعلوم ندوۃ العلماء اسے علم کی دنیا میں فخر کا احساس کراتا ہے۔
گومتی کے ایک کنارے پر واقع ندوہ کی عالیشان عمارت کی طرح ہی اس کے کارنامے بھی شان میں اضافہ کرنے والے ہیں۔ یہاں سے نکلنے والے طلبا نے پوری دنیا میں نام روشن کیا ہے۔ ندوہ سے تعلیم حاصل کرنے والے اکرم ندوی اس وقت آکسفورڈ یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ میں پروفیسر ہیں اور وہ کئی کتابیں لکھ کر بلندی حاصل کر چکے ہیں۔ مولانا شفیق احمد ندوی جامعہ ملیہ میں پروفیسر ہیں۔ ان نامی گرامی ہستیوں کی لسٹ کافی لمبی ہے۔ وقت کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے ندوہ نے اپنے نصاب میں تبدیلی کی ہے۔ انگریزی اور کمپیوٹر کی اہمیت کوسمجھتے ہوئے اسے تہہ دل سے اپنایا ہے۔ کانوینٹ ایجوکیٹیڈ بچوں کی طرح ندوہ کے طلبا بھی فراٹے دار انگریزی بولتے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ وہ انگریزی داں ہونے کا دکھاوا نہیں کرتے، وہ اس بات کا افسوس بھی نہیں کرتے کہ لوگ انہیں صرف اردو اور عربی کا جانکار ہی سمجھتے ہیں۔ ندوۃ العلماء کے مہتمم ڈاکٹر ایس آر اعظمی فرماتے ہیں کہ ان کے یہاں طلبا کو انگریزی لکھنا و بولنا دونوں ہی سکھایا جاتا ہے تاکہ جب وہ یہاں سے اپنی تعلیم پوری کرنے کے بعد دنیا میں قدم جمانے نکلیں تو زبان کی دقت پیش نہ آئے۔ ای گورننگ کے دور میں ندوہ کے طلبا کو کمپیوٹر ایجوکیشن بھی دی جاتی ہے۔ بقول ڈاکٹر ایس آر اعظمی ندوہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہاں کے طلبا ایم بی اے سمیت دیگر کارو باری کورسیز میں داخلے لے سکتے ہیں۔ ایم بی اے کی پڑھائی پوری کرنے کے بعد کئی طلبا کارپوریٹ سیکٹر میں نوکریاں کر رہے ہیں۔ ان کے کریئر کی راہ میں دینی تعلیم کہیں سے روڑا نہیں بنتی بلکہ وہ انہیں منزل تک پہنچانے میں مدد کرتی ہے۔
ندوہ میں اس وقت پانچ ہزار سے زیادہ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ صرف لکھنؤ میں اس کی 25سے زیادہ برشاخیں ہیں۔ ملک اور دنیا بھر کے مختلف حصوں سے طلبا یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، جنہیں ندوہ کی 120سال پرانی وراثت کے سایے تلے دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم سے روبرو کرایا جاتا ہے۔ 1890کا دور تھا، دنیا بھر میں تمام طرح کی اتھل پتھل مچی ہوئی تھی۔ ایک عجیب سی کھلبلی تھی۔ اس وقت کے مسلم علما نے غور کیا کہ ایک ایسا مدرسہ ہونا چاہیے جو مسلمانوں کو دینی تعلیم کے ساتھ دنیا کی تمام تعلیم(جو ان کے لیے ضروری ہے) دے سکے۔ اسی سوچ کے ساتھ دارالعلوم ندوۃ العلماء کی بنیاد رکھی گئی جسے مولانا سید ابوالحسن علی ندوی صاحب اور مولانا سید محمد رابع حسن ندوی کے علاوہ دیگر نامی گرامی علما کی سرپرستی ملی۔ وقت کے دریا کے ساتھ ندوہ نے تمام منزلیں حاصل کیں۔ اپنے قیام کے ساتھ ہی ندوہ نے اسلامی دنیا میں اہم درجہ حاصل کیا۔ یہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ محض ایک اسلامی ادارہ نہیں ہے بلکہ ایک نظریہ ہے جو اندھی عقیدت، برائیوں اور ڈھونگیوں کے خلاف اسلام کو اپنی اصل اور پاک شکل میںنشر کرتا ہے۔ مسلم لڑکوں کی تعلیم کے ساتھ ہی ندوہ لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی طرف بھی کافی سنجیدہ رہا ہے۔ ندوہ کے مہتمم ڈاکٹر ایس آر اعظمی بتاتے ہیں کہ لڑکیوں کو تعلیم دینے کے لیے لکھنؤ و رائے بریلی کے مدرسوں میں خاص انتظام ہے۔ گلوبل دوڑ میں میڈیا کا رول کافی اہم  ہے۔ خاص طور پر میڈیا کی دخل اندازی ہر شعبہ میں بڑھی ہے۔ ایسے میں ندوہ نے اپنے طلبا کے لیے صحافت کا کورس بھی شروع کیا ہے، جس میں خواہش مند طلبا داخلہ لے کر میڈیا میں اپنی الگ پہچان بنانے کا کام کرتے ہیں۔ ادارے میں میڈیا ریسرچ سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں تمام اخبارات و رسائل طلبا کو پڑھنے کے لیے مہیا کرائے جاتے ہیں تاکہ وہ دنیا میں ہو رہے حادثات، تبدیلی اور تجربات سے خود کو ذہنی طور پر تیار کرسکیں۔ اس میڈیا ریسرچ سینٹر کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری عبیدالرحمن ندوی کو سونپی گئی ہے۔
مسلم سماج میں فتوؤں کا اہم مقام ہے۔ فتوے کیسے جاری کیے جاتے ہیں، اس کے لیے کیا اصول ہیں، کون انہیں جاری کرسکتا ہے، یہ تمام سوال ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ ہی غیر مسلموں کے لیے بھی لائق توجہ ہوتے ہیں۔ ندوہ میں دارالافتا کا کورس کرایا جاتا ہے۔ ایک سال کا یہ کورس پورا کرنے والے طلبا کو مفتی کی ڈگری دی جاتی ہے جو فتویٰ جاری کرتے ہیں۔ فتوؤں کے متعلق کسی بھی طرح کے شک و شبہ اور سوالوں کا اطمینان بخش جواب دینے کے لیے ندوہ کی انتظامیہ نے آن لائن سہولت بھی دستیاب کرائی ہے۔ اس کے ذریعہ دنیا بھر سے لوگ اپنے مسائل کا حل پاتے ہیں۔ میڈیا ریسرچ سینٹر کے لیکچرر عبیدالرحمن ندوی بتاتے ہیں کہ ندوہ میں ریسرچ ورک میں دراسۃ فی القرآن و السنہ شامل ہے، جس میں طلبا قرآن پاک اور حدیث پر ریسرچ کرتے ہیں۔ اس کورس میں طلبا کے لیے کم سے کم ایک تھیسس لکھنا ضروری ہوتا ہے۔ حفظ کا کورس بھی کرایا جاتا ہے، اس میں طلبا قرآن پاک کو حفظ کرتے ہیں۔ اس کورس میں وقت کی پابندی نہیں ہے۔ یہ طلبا کی اپنی یاد داشت پر منحصر کرتا ہے کہ وہ کتنے وقت میں قرآن کو یاد کرسکتا ہے۔ بقول رحمن ندوی ہزاروں کی تعداد میں طلبا ندوہ سے قرآن پاک حفظ کرچکے ہیں۔ قرآن کی آیتوں کا صحیح تلفظ اداکرنے کے لیے تجوید کا کورس کرایا جاتا ہے۔ رحمن ندوی خود بھی کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔
وندے ماترم پر مسلم سماج کے نظریہ پر بھی انہوں نے کتاب لکھی ہے، جس میں کئی غیر مسلم دانشوروں کے خیالات بھی شائع کیے گئے ہیں۔ مطلب واضح ہے کہ نظریہ کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ نظریات کو تھوپنے کی فطرت یہاں حاوی نہیں ہے۔ اردو، عربی و انگریزی کے ساتھ ہی ندوہ میں ہندی زبان کے لیے اشاعت کا انتظام ہے۔ ادارہ نے ہندی میں کئی کتابیں شائع کرائی ہیں۔ ان میں ’منصب پیغمبری‘ مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی، ’نبی رحمت‘ ، ’دستور حیات‘، ’ سبھیتا اور سنسکرتی پر اسلام کی…‘، ’ بھارتیہ مسلمان ایک درشٹی میں‘ سمیت دوسرے عناوین سے شائع کتابوں کی لمبی فہرست ہے۔ ندوہ کی پورے ملک میں 100سے زیادہ برانچ ہیں۔ یہ ندوہ کی مقبولیت، اس کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء آج اسلامی تعلیم کا عالمی مرکز بن چکا ہے۔ یہاں نہ صرف اسلامی تعلیم پر ہی غور کیا جاتا ہے، بلکہ مسلمانوں کے سماجی، معاشی پہلوؤں پر بھی اس کی نظر رہتی ہے۔ ندوہ کے ساتھ ایک سچائی اور بھی جڑی ہے، وہ یہ کہ یہ ادارہ دہشت گردی کا سخت مخالف رہا ہے۔ یاد کیجیے پاکستان میں جب دو سکھوں کا گلا ریت کر قتل کردیا گیا تھا، اس وقت ندوہ کے مہتمم ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ طالبان اسلام کے نمائندے نہیں ہیں۔ طالبان کی ساری حرکتیں غیر اسلامی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس وحشیانہ طریقے سے دو سکھوں کا قتل کیا گیا، اس کی کوئی بھی سچا مسلمان اجازت نہیں دے سکتا۔ ڈاکٹر اعظمی کے اس بیان اور ان کی سوچ سے ہندوستانی اصولوں کو مضبوطی ملتی ہے۔ پوری دنیا جب دہشت گردی کے دور سے گزر رہی ہے تو ندوہ سے نکلی یہ آواز ان فرقہ پرست طاقتوں کے منصوبوں کو ناکام کرنے کے لیے کافی ہے، جو اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ کر دیکھنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ایسے عناصر آج خود کٹہرے میں کھڑے ہیں اور صفائی دیتے پھر رہے ہیں۔

خواتین کے سیاست میں آنے کی مخالفت

لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کافی سنجیدہ نظر آتا ہے، لیکن اس کے برعکس وہ خواتین کے سیاست میں آنے کا مخالف بھی ہے۔ اسی سال مارچ میں جب خواتین ریزرویشن بل پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ مچا، اسی دوران ندوہ کے مہتمم ڈاکٹر ایس آر اعظمی کا ایک بیان کافی تذکرہ میں رہا۔ ڈاکٹر اعظمی نے کہا تھا کہ اسلام خواتین کو پردہ چھوڑنے، عوام میں تقریر کرنے اور اپنا حق مانگنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اسلام میں خواتین کو صاف حکم دیا گیا ہے کہ وہ برقع میں گھر میں رہیں اور گھر کی دیکھ بھال کریں۔ انہوں نے اس وقت یہاں تک کہہ دیا کہ سیاست میں آنے کی منشا رکھنے والی خواتین کے پاس ایک ہی متبادل ہے کہ وہ مرد بن جائیں۔ مولانا کے اس بیان نے خواتین ریزرویشن بل کی آڑ میں اپنی سیاست چمکانے کا موقع تلاش کررہے لیڈروں کے سامنے دقتیں کھڑی کر دیں، لیکن یہ سوال بھی اٹھا کہ جب مسلم ملک پاکستان اور بنگلہ دیش میں خواتین وزیراعظم اور صدر بن سکتی ہیں تو پھر ہندوستان میں انہیں یہ آزادی کیوں نہیں؟ مولانا کے اس بیان کو شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد کی حمایت بھی ملی تھی۔ مولانا کا یہ بیان اس لحاظ سے بھی اہم رہاکہ مسلم پرسنل لا بورڈ میں ان کی اچھی گرفت ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کا مرکز بھی ندوہ ہی رہتا ہے۔ ایسے میں مسلم سماج میں خواتین کی حالت کے حوالے سے  تمام سوال کھڑے ہوجاتے ہیں۔ خواتین کے سیاست میں آنے کی مخالفت کرنے پر ڈاکٹر اعظمی اور کلب جواد کو سماج کے اندر ہی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ پڑھی لکھی مسلم خواتین نے اس مسئلے پر اپنی سخت ناراضگی ظاہر کی۔ مسلم خواتین کے اس رد عمل کے بعد یہ تو صاف ہوگیا تھا کہ وہ لیڈر بنیںگی، لیکن اس دوران یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا خواتین کو صرف تعلیم دلا دینے سے انہیں ان کا حق مل جائے گا۔ دینی و دنیاوی تعلیم کے لیے پوری دنیا  کے مسلم ممالک میں اپنا اہم مقام رکھنے والے ندوہ کے مہتمم اگر ایسی فکر رکھتے ہیں تو پھر عام مسلم خاندان کے مکھیا کی کیا حالت ہوگی، یہ قابل غور ہے۔

ندہ سے شائع ہندی کتابیں

1-     منصب پیغمبری
2-     نبی رحمت
3-     دستور حیات
4-     سبھیتا اور سنسکرتی پر اسلام کی
5-     بھارتیہ مسلمان ایک درشٹی میں
6-     مدینے کی ڈگر
7-     مانوتا کا سندیش
8-     مانوتا کا استر
9-     جگ کے محسن
10-     اچھے اچھے نام اللہ کے
11-     اسلام مکمل دین مستقل
12-     نشان راہ
13-     ناری کی پرتشٹھا اور اس کے
14-     ہندوستانی مسلمانوں سے صاف
15-     اسلام ایک پریچیہ
16-     نوجوانوں کے نام
17-     آدرش شاسک
18-     طوفان سے ساحل تک
19-     سمان سول کوڈ
20-     سلطان ٹیپو شہید

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here