مولاناسعدکے معاملے پردارالعلوم دیوبندکاایک بارپھروضاحتی بیان

Share Article

darul-uloom

عالم اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند اور عالمی سطح پر مشہور تبلیغی جماعت کے درمیان بڑھتے فاصلے کو کم کرنے کے لئے دارالعلوم دیوبند نے ایک مرتبہ پھر وضاحتی بیان جاری کرکے خود کو غیرجانبدار قرار دیتے ہوئے مذہبی بنیادی عقائد کو مرکز بناتے ہوئے اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ اصلاح کے لئے تو ہم اسلام کے بنیادی نظریات پر تبصرہ کرنے کے لئے مجبور ہیں تاہم دارالعلوم دیوبند تبلیغی جماعت کے کسی بھی گروپ کی مخالفت نہیں کرتا ۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی ، شیخ الحدیث مفتی سعید پالن پوری، استاد حدیث مولانا سید ارشد مدنی کے دستخط سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’گزشتہ دنوں جناب مولانا سعد کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے رجوع کے اعلان کے بعد ملک وبیرون ملک سے لوگ دارالعلوم دیوبند کے موقف سے متعلق مسلسل استفسار کررہے ہیں ، اس موقع سے یہ وضاحت ضروری ہے کہ مولانا کے رجوع کو اس ایک واقعہ کی حد تک تو قابل اطمینان قرار دیا جاسکتا ہے لیکن دارالعلوم دیوبند کے موقف میں اصلاً مولاناکی جس فکری بے راہ روی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا، اس کے لئے کئی بار رجوع کے بعد بھی وقتاً فوقتاً مولاناکے ایسے نئے بیانات موصول ہورہے ہیں جن میں وہی مجتہدانہ انداز غلط استدلالات اور دعوت سے متعلق اپنے ایک مخصوص فکر پر نصوص شرعیہ کا غلط انطباق نمایاں ہے جس کی وجہ سے خدام دارالعلوم ہی نہیں بلکہ دیگر علماء حق کو بھی مولانا کی مجموعی فکر سے سخت قسم کی بے اطمینانی ہے ، ہمارا یہ ماننا ہے کہ اکابر رحمہم اللہ کی فکر سے معمولی انحراف بھی شدید نقصان دہ ہے ۔

 

 

 

 

مولانا کو اپنے بیانات میں محتاط انداز اختیار کرنا چاہئے اور اسلاف کے طریقہ پر گامزن رہتے ہوئے نصوص شرعیہ سے ذاتی اجتہادات کا سلسلہ بند کرنا چاہئے کیوں کہ مولانا موصوف کے ان راز کار اجتہادات سے ایسا لگتا ہے کہ خدانخواستہ وہ کسی ایسی جدید جماعت کی تشکیل کے درپے ہیں جو اہل سنت والجماعت اور خاص طورپر اپنے اکابر کے مسلک سے مختلف ہوگی ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اکابر واسلاف کے طریقہ پر ثابت قدم رکھے آمین‘‘ دارالعلوم دیوبند کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ دارالعلوم دیوبند سے مسلسل رجوع کررہے ہیں ان سے دوبارہ گزارش کی جاتی ہے کہ جماعت تبلیغ کے داخلی اختلاف سے دارالعلوم کا کوئی تعلق نہیں ہے ،پہلے دن سے اس کا اعلان کیا جاچکا ہے البتہ غلط افکار وخیالات سے متعلق جب بھی دارالعلوم سے رجوع کیا گیا ہے دارالعلوم نے ہمیشہ امت کی رہنمائی کی کوشش کی ہے۔ دارالعلوم اس کو اپنا دینی وشرعی فریضہ سمجھتا ہے ۔

Share Article

One thought on “مولاناسعدکے معاملے پردارالعلوم دیوبندکاایک بارپھروضاحتی بیان

  • February 1, 2018 at 3:09 am
    Permalink

    دیکھیے جناب جو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد قاسم نانوتوی نے رکھی تھی جب سے وہ مقبوضہ دارالعلوم دیوبند بن چکا ہے، اور جب سے یہ آج جو کوئی مہتمم ہے وہاں تو ایسے غیر ذمے دارانہ فتاوای ع
    وہاں سے شایع ہوتے ہیں کہ اگر شیطان کی نظر ان فتاوی پر پڑے گی تو اسکو بہت خوشی محسوس ہوگی کیونکہ جو اس کا کام تھا وہ آج وہاں کی دارالافتاء خود انجام دے رہی ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *