مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ماڈل نکاح نامہ پر دارالعلوم اور علماء دیوبند کی مہر

Share Article
Ulema
تین طلاق پر مرکزی حکومت کے خلاف بل کی مخالف اور صدر جمہوریہ کے بیان پر رد عمل کا سلسلہ تاحال جاری ہے وہیں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ماڈل نکاح نامہ کی دارالعلوم دیوبند سمیت علماء دیوبند و دانشوران نے حمایت کی ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے بھی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ماڈل نکاح نامہ پر مہر ثبت کرتے ہوئے کہاکہ دارالعلوم دیوبند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ہر قدم کے ساتھ ہے۔ اس سلسلہ می دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے صدر جمہوریہ کے پارلیمانی بیان پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ طلاق ثلاثہ شریعت اسلامیہ کا معاملہ ہے اسلئے دارالعلوم مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ شابشانہ کھڑا ۔انہوں نے کہاکہ شرعی مسائل پر پہلے ہی سے دارالعلو م دیوبند کی مسلم پرسنل لاء بورڈ کو مکمل حمایت حاصل ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے خازن و آل انڈیا قتصادی کونسل کے چیئرمین مولاناحسیب صدیقی نے کہاکہ مرکزی حکومت کے فیصلہ کی مخالفت میں مسلم پرسنل لاء بورڈ ماڈل نکاح نامہ کو سامنے رکھ کر اگلی لڑائی لڑیگا، حیدر آباد میں ملک بھر سے سبھی مسلکوں کے علماء کرام جمع ہونگے اور اتفاق رائے نکاح نامہ پر گفت و شنید کرنے کے بعد مہر لگائینگے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر یہ ماڈل نکاح نامہ پہلے ہی وجود میں آجاتاہے تو آج حکومت کو شریعت میں مداخلت کا موقع نہ ملتا۔انہوں نے کہا کہ تین طلاق پر بل لاکر حکومت نے شریعت میں دخل اندازی کی ہے جو ناقابل برداشت ہے ۔انہوں نے کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسلمانوں کی بہتری کے لئے کام کرنے والا ادارہ ہے، ان کے مطابق بورڈ اپنی کوئی ذاتی رائے نہیں رکھتاہے بلکہ قرآن وحدیث اورشریعت کے حوالہ سے ہی معلومات فراہم کرتاہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر مسلم پرسنل لاء بورڈ تین طلاق سے سماج کو بچانے کے لئے کوئی پہل کرتاہے تو علماء کو بھی اس کی حمایت کرنی چاہئے۔
تنظیم علماء ہند کے صوبائی صدر و ممتاز قلمکار مولانا ندیم الواجدی نے کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ماڈل نکاح نامہ پہلے ہی تمام مسالک کے علماء کے سامنے پیش کرچکاہے، مگر غفلت کی و جہ سے یہ ابھی تک نافذ نہیں ہوسکا تھا، مولانا ندیم الواجدی نے کہاکہ جن حالات میں اب ماڈل نکاح نامہ لایا جارہاہے ابھی دیر نہیں ہوئی ہیط اور اس پر آپسی اتفاق رائے سے تمام مسالک کے علماء گفت وشنید کرکے مہر لگا دیں،جس سے ایک مجلس میں تین طلاق دیئے جانے پر پابندی لگائی جاسکے۔

 

یہ بھی پڑھیں  ریپ اور چھیڑ چھاڑ کا کیس خواتین پر نہیں چل سکتا: سپریم کورٹ
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *