دربار مئو: سرینگر میں چھ ماہ بعد راج بھون ، سیول سیکرٹریٹ اور دیگر سرکاری دفاتر کھل گئے

 

گورنر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، پہلے دن دفتروں میں چہل پہل دیکھنے کو ملی

 

 

سرینگر// وادی کشمیر میں چھ ماہ بعد سرکاری دفاتر کھل گئے ۔ گزشتہ چھ ماہ سے ریاست کا گورنر ہائوس ، سیول سیکرٹریٹ اور دیگر اہم دفاتر سرمائی دار الحکومت جموں میں کام کررہے تھے ۔دربار مو کے سلسلے میں آج دفاتر کھل جانے کے موقعے پر سرینگر کے سیول سیکرٹریٹ میں ریاستی گورنر ستہ پال ملک کو گار ڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیرملک کی واحد ریاست ہے ، جسکے دو دار الحکومت ہیں۔ سرما میں حکومت سرمائی دارالحکومت جموں منتقل ہوجاتی ہے اور گرما میں حکومت گرمائی دار الحکومت سرینگر میں اپنا کام کاج کرتی ہے۔ چھ چھ ماہ بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ حکومت کی اس منتقلی کو’ دربار مو‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

 

جموں کشمیر میں دربار موو کی شروعات کب ہوئی تھی؟
تاریخ کے اوراق الٹنے سے پتہ چلتا ہے کہ جموں کشمیر میں دو راجدھانیوں کا قیام 1872 میںعمل میں لایا گیا تھا۔ اس وقت ریاست میں مہاراجہ گلاب سنگھ کی حکومت تھی۔اس زمانے میں دربار مئو کی روایت کی داغ بیل ڈالنے کی ایک جوازیت تھی۔کیونکہ اکتوبر کی شروعات کے ساتھ ہی وادی کشمیر م میں ایک خوفناک سرما کا آغاز شروع ہوجاتا تھا۔ شدت کی سردیاں شروع ہوجاتی تھیں۔بھاری برف باری سے کئی ماہ تک عام سڑکیں اور شاہرائیں مسدود ہوجاتی تھیں۔ لوگ ہفتوں تک گھروں سے باہر نہیں آ سکتے تھے۔حکومت عملاً مفلوج ہوجاتی تھی۔اسلئے مہاراجہ نے حکومت کو سرما میں جموں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔صورتحال کا دوسرا رخ یہ تھا کہ جموں میں اپریل کی شروعات کے ساتھ ہی شدت کی گرمی شروع ہوجاتی تھی ۔ درجہ حرارت اس حد تک بڑھ جاتا تھا کہ انسانوں کا گھر وں سے باہر آجا نا ناممکن تھا۔ حکومت کا کام کاج ناممکن بن جاتا تھا۔اسلئے مہاراجہ نے یہ فیصلہ کیا کہ گرمیوں میں حکومت وادی منتقل کی جانی چاہیے۔ اس طرح سے جموں کشمیر میں ’’دربار مئو‘‘ کی شروعات ہوئی۔لیکن 141میں دنیا بدل گئی ۔ موسمی حالات بدل گئے ۔اب موسم کی شدت سے نمٹنے کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی اور غیر معمولی سہولیات میسرہے۔آج اعلیٰ ٹیکنالوجی کی حامل دیو قامت مشینیں منٹوں میں سڑکوں سے برف کی موٹی موٹی چادریں ہٹالیتی ہیں۔ سخت ترین گرمیوں میں بھی دفاتر کے اندر ائر کنڈشنگ کے باعث ایک پر سکون ماحول ملتا ہے۔ تو پھر سال میں دو بار حکومت کو سرینگر سے جموں اور جموں سے واپس سرینگر منتقل کرنے کاکیا مطلب؟یہ وہ سوال ہے جو ہر بار دربار مئو کے موقعے پر ریاست میں موضوع بحث بنتا ہے۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ اقتصادی لحاظ سے پہلے سے ہی بدحال ریاست کے خزانہ عامرہ پر دربار مئو ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔

 

ہر بار دربار مئو کے موقعے پر حکومت کو سینکڑوں ٹرکوں میں سرکاری ریکارڈ اور فائلیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانی پڑتی ہیں۔وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ہوائی جہازوں میں ایک راجدھانی سے دوسری راجدھانی پہنچانے کے انتظام کے ساتھ ساتھ تقریباً8ہزار سرکاری ملازمین کو سفر کیلئے فی کس پانچ ہزار روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ پھر انکی رہائش کا انتظام کا خرچہ الگ سے۔یہ بات کوئی صیغہ راز نہیں کہ جموں کشمیر کے خزانہ عامرہ کو ہر سال دربار مو کے نام پر سو کروڑ روپے کے لگ بھگ خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی ریکارڈ کو سرینگر سے جموں اور پھر چھ ماہ بعد جموں سے واپس سرینگر منتقل کرنے کیلئے سٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے سینکڑوں ٹرکیں اور بسیں فراہم کی جاتی ہین۔ ملازمین کی رہائش کاانتظام کرنے کی ذمہ داری محکمہ اسٹیس کی ہے۔اس پر بھی کروڑوں روپے کا خرچہ آجاتا ہے۔

 

ایسا نہیں ہے کہ دربار موء کا سلسلہ ختم کرنے کیلئے اب تک کوششیں نہ کی گئی ہوں۔1978میں ریاست کے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ شیخ محمد عبداللہ نے اسے ختم کرنے کی ایک کوشش کی تھی لیکن یہ ناکام ہوئی۔9سال بعد شیخ عبداللہ کے جانشین فاروق عبداللہ نے بحیثیت وزیر اعلیٰ دربار مو کی روایت ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے حکومت کو مستقل طور پر ہی سرینگر میں رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن اس فیصلے پر جموں کی آبادی نے ایک ایجی ٹیشن شروع کی۔ جسکی وجہ سے فاروق عبداللہ کی حکومت کو یہ فیصلہ بدلنا پڑا تھا۔

 

ہر بار جب دربار مئوسرینگر سے جموں منتقل ہوجاتاہے یا جموں سے واپس سرینگر منتقل ہوجاتا ہے، ریاست کے سنجیدہ فکر طبقات میں اس عمل ہر مخالفانہ رائے زنی شروع کی جاتی ہے۔لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ مین سٹرئم جماعتوں میں کوئی بھی اس تقریبا ڈیڑھ صدی پرانی روایت کو توڑنے کیلئے کھل کر سامنے نہیں آتااور ہی دربار مو کا کوئی متبادل پیش کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *