نقصان تو میوزیم کا ہی ہے

Share Article

دلیپ چیرین
ملک کے ثقافتی مقامات کو نظر انداز کرنے کی کہانی کوئی نئی نہیں ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے راجدھانی دہلی میںواقع نیشنل میوزیم پیشہ ور سربراہ کے بغیر ہی چل رہا ہے۔ میوزیم کے انتظام کا اضافی کام نوکر شاہ کے ہاتھوں میں ہے۔ اے کے وی ایس ریڈی ملک کے اس سب سے بڑے میوزیم کا اہم عہدہ سنبھالنے والے آخری شخص تھے لیکن ان کے جانے کے بعد سے وزارت ثقافتی امور ان کا متبادل تلاش کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے۔ وہ بھی تب جب کہ اس عہدہ کے لئے مطلوبہ لیاقتوں کو کم کردیا گیا ۔ ماسٹر ڈگری یافتہ اور کسی بھی میوزیم کے انتظام وانصرام کا پانچ سالہ تجربہ رکھنے والا کوئی بھی شخص اس عہدہ پر فائز کیا جاسکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ذرائع کے مطابق میوزیم کے لئے منظور شدہ کل 207عہدوں میں سے 140-150عہدوں کو ابھی تک پر نہیں کیا گیاہے۔
اس سال کی شروعات میں کابینی سکریٹری کے ایم چندر شیکھر ، ثقافتی سکریٹری جواہر سرکار اور ورکنگ سکریٹری شانتنو کنسول کی اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی جنرل ڈائریکٹرکے عہدے کے لئے کسی باصلاحیت امیدوار کی تلاش نہیں کر پائی  ۔ کمیٹی نے مشہور ماہرمیوزیم ماہ رخ تاراپور کو اس عہدے کی پیش کش کی تھی۔ فی الحال نیویارک کے میٹروپولٹین میوزیم کے ساتھ جڑے تاراپور نے امید کے مطابق انکار کردیا۔ وہیں ثقافتی وزارت کے افسر میوزیم میں خالی پڑے عہدوں کے لئے پبلک سروس کمیشن اور اس کے انتخاب کے عمل کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، لیکن نوکرشاہوں کی اس باہمی کھینچاتانی میں نقصان تو اس میوزیم کا ہی ہورہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *