بھارت – پاک فضائی حدود بند ہونے سے کئی ہزار کروڑ کا نقصان

Share Article

 

لوک سبھا انتخابات کے پہلے 26 فروری، 2019 کو بالاکوٹ ایئر اسٹرائک کے بعد بڑھی کشیدگی کی وجہ سے بھارت اور پاکستان دونوں نے ہی ایک – دوسرے کے لئے اپنے فضائی حدود بند کر دیے تھے۔ اس دوران اسے صرف ایک بار مئی میں دونوں ممالک نے وزراء خارجہ کے لئے کھولے تھے۔ اب وزیر اعظم نریندر مودی کو 13 جون کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے لئے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک جانا ہے تو حکومت ہند نے پاکستان سے فضائی حدود کھولنے اور وزیر اعظم مودی کو گزنے دینے کی اپیل کی ہے تاکہ وہ پاکستان کی فضائی حدود سے صرف چار گھنٹے میں بشکیک جا سکیں۔ اگر پاکستان راضی نہیں ہوا تو وزیر اعظم مودی کو گھوم کر جانا پڑے گا، جس میں تقریبا دو گنا وقت لگے گا۔

 

امید ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم کے سفر کے لئے پاکستان اجازت دے گا۔ اس نے 21 مئی کو اس وقت کے وزیر خارجہ سشما سوراج کو سفر کے لئے اپنے ہوائی علاقے سے ہوکر جانے کی اجازت دی تھی۔ اس نے ابھی تک بھارت کے لئے اپنے 11 میں سے صرف دو روٹ ہی کھولے ہیں۔ اس کی وجہ سے بھارتی ہوائی جہازوں کو پاکستان کے شمالی فضائی حدود سے اڑ کر جانا – آنا پڑ رہا ہے۔ ان روٹوں میں وقت زیادہ لگتا ہے اور خرچ بہت بڑھ جا رہا ہے۔ اس کو لے کر وسطی ایشیا میں پڑھ رہے، کاروبار کر رہے، سیاحت پر جانے والے ہندوستانیوں کی ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے بڑے لیڈروں کے سفر کے لئے فضائی حدود کھولے جا رہے ہیں، عام شہریوں کے لئے نہیں۔ اس سے بہت نقصان ہو رہا ہے۔ایک ٹریول ایجنسی کے مینیجر کا کہنا ہے کہ بھارت – پاک کی طرف سے ایک دوسرے کے لئے فضائی حدود بند کر دینے کی وجہ سے دبئی کی پرواز بہت مہنگی ہو گئی ہے۔ دبئی کے لئے جو ٹکٹ 10 سے 15 ہزار روپے میں ملتا تھا، وہ بڑھ کر 50 ہزار روپے تک ہو گیا ہے۔

 

 

دہلی کے ایک کاروباری، جن کاروبار وسطی ایشیا میں ہے اور ان کو وہاں کے ممالک میں مسلسل جانا پڑتا ہے، کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے ایک – دوسرے کے لئے اپنے فضائی حدود بند کئے ہیں۔ حالانکہ اس سے پاکستان کو جو نقصان ہو رہا ہے اس سے تقریبا 4 گنا زیادہ نقصان بھارت کو ہو رہا ہے، کیونکہ پاکستان سے جو پرواز بھارت کی فضائی حدود سے سنگاپور، ملائیشیا اور ایسے ہی کچھ دیگر ممالک کو جاتی ہیں، انہی میں پاکستانیوں کو پریشانی ہوتی جبکہ پاکستان کی فضائی حدود سے ہوکر بھارت سے زیادہ ترپرواز وسطی ایشیا کے ممالک میں جاتی ہیں۔ یہاں سے جانے اور یہاں آنے والے مسافر بھی بہت ہوتے ہیں۔ لہذا بھارت کو اقتصادی محاذ پر بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *