دلت مسلم اورعیسائیوں کو درج فہرست ذات کا درجہ ملے

Share Article

زاہد خان
مسلمانوں اور عیسائیوں کو درج فہرست ذات کے دائرے میں شامل کرنے کی لڑائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو4سال ہونے کو ہیں، لیکن آج بھی یو پی اے سرکار اس رپورٹ کی سفارشات کو عمل میں لانے کو لیکر کشمکش میں ہے۔جب کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں ہی جگہ حکومت پر رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے کا دبائو ہے۔حال ہی میں ایک با رپھر اس مطالبے کو لے کر ممبئی میں واقع کیتھولک سیکولر فورم، وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملا اور ان سے مطالبہ کیا کہ دلت مسلمانوں اور عیسائیوں کی سماجی اور مالی حالت میں اصلاح کے لیے انہیں جلد سے جلد درج فہرست ذات کا درجہ دیا جائے۔وزیر اعظم نے وفد کو یقین دلایا کہ اس معاملے پر جلد ہی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔
فی الوقت آئین (درج فہرست ذات)1950کی دفعہ3 دلت مسلمانوں اور عیسائیوں کو درج فہرست ذات کا درجہ دینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ درج فہرست ذات کو اگر فائدہ اٹھانا ہے تو سبھی دلتوں کو ایک خاص مذہب سے تعلق رکھنا ہوگا۔ظاہر ہے یہ کالا قانون دفعہ341(1) کے پروویژن اور دستور کے مطابق عوام کو دیے گئے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔اس قانون کو چیلنج دینے والی ایک درخواست سپریم کورٹ میں2004سے زیر غور ہے، لیکن ابھی تک اس پر فیصلہ نہیں آ پایا ہے۔ دلت مسلمانوں اور عیسائیوں کو درج فہرست ذات کا درجہ دلانے کے لیے یو پی اے سرکار کتنی سنجیدہ ہے یہ اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ سات سال ہو گئے لیکن حکومت ابھی تک اس مسئلے پر اپنا موقف سپریم کورٹ میں نہیں رکھ پائی ہے۔ اس دوران کئی ریاستی حکومتیں عوامی سطح پر مرکز میں دلت مسلمانوں اور عیسائیوں کے حقوق کے نفاذ کے لیے اپیل کر چکی ہے۔ یہی نہیں ملک میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے ساتھ تفریق دور کرنے کے راستوں کی تلاش کے لیے خود یو پی اے حکومت کے ذریعہ تشکیل کردہ رنگناتھ مشرا کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں اقلیتوں کی سماجی اور مالی حالت میں اصلاح کے لیے مشورہ دیا تھا اور انہیں درج فہرست ذات کا درجہ دینے کی وکالت کی۔ دراصل گیند اب مرکزی حکومت کے پالے میں ہے اور مشرا کمیشن کی سفارشات کے بعد حکومت کو ہی اس ایشو پر اپنا آخری فیصلہ کرنا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس مسئلے پر پہلے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا بلکہ سال 1996میں اس وقت کے کانگریس صدر اور دلت لیڈر سیتا رام کیسری کی پہل پر کانگریس حکومت ایک بل 1950 کی دفعہ3میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں لائی تھی،لیکن شیو راج پاٹل نے جو اس وقت لوک سبھا کے اسپیکر تھے تکنیکی خامی بتا کر اس بل کو مسترد کر دیا۔اب جبکہ ایک بار پھر کانگریس کی قیادت والی مرکزی حکومت اقتدرا میں ہے تو اس کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بل کو دوبارہ ایوان میں لائے اور اس تاریخی بھول کو درست کرے جس کا خمیازہ طویل مدت سے دلت مسلمان اور عیسائی بھگت رہے ہیں۔ان کو درج فہرست ذات میں شامل نہیں کیا جانا ایک آئینی غلطی ہے اور یہ ملک کے آئین کے بنیادی اصول کے خلاف ہے۔
دراصل دلت مسلمانوں اور عیسائیوں کو درج فہرست ذات میں شامل کیے جانے کا مطالبہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا 1935کا حکومت ہند کا قانون۔ یہ قانون ہندوستان کے سبھی دلتوں کو تعلیم، روزگار اور انصاف کے حقوق دیتا ہے۔ لہٰذا صدیوں سے نظر انداز کیے جانے والے اور استحصال زدہ ان طبقوں کی سماجی و مالی حالت کو سدھارنے کے لیے حکومت نے آئین کی دفعہ341کے تحت سبھی دلتوں کو درج فہرست ذات میں شامل کیا۔بہر حال1950میںہندوستان کے پہلے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجیندر پرساد نے اپنے اعلامیے کے ذریعہ ہندو دلتوں کوتو درج فہرست ذات میں شامل کر لیا لیکن باقی ماندہ غیر ہندو دلتوں کو فہرست سے نکال دیا۔ نتیجتاً 85فیصد دلت مسلمان اس سے محروم رہ گئے۔ تب سے آج تک دلت مسلمانوں کو درج فہرست ذات میں شامل کیے جانے کا مطالبہ کئی بار اٹھا لیکن صحیح پلیٹ فارم نہ ملنے اور سیاسی طاقت کے فقدان میں یہ مطالبہ خود بخود دم توڑتا رہا۔ آزادی سے پہلے جو ہندودلت ذاتیں مسلمانوں کے مقابلے بد سے بدتر حالت میں تھیں وہ درج فہرست ذات میں شامل ہونے کے بعد ریزرویشن کے فائدے سے بہتر حالت میں آ گئی ہیں۔جبکہ آج مسلمان درج فہرست ذاتوں سے  بھی پیچھے ہو گیا ہے۔
عالم یہ ہے کہ مسلمانوں کی کل آبادی کے 80فیصد لوگ خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد آج بھی اپنی روزی روٹی کے لیے چھوٹے موٹے دھندوں اور کم آمدنی والی پرائیویٹ ملازمتوں وغیرہ کے اوپر منحصر ہے۔سرکاری ملازمتیں ان کے لیے محض خواب ہے۔ تعلیم کے فقدان میں اول تو وہ ملازمتوں کے لیے امتحان میں بیٹھ ہی نہیں پاتے ہیں اور اگر تعلیم یافتہ ہو بھی جائیں تو دوسروں کے مقابلے کہیں بھی ٹک نہیں پاتے۔ اس کے سبب جو مسلم طبقہ آزادی سے پہلے سرکاری ملازمتوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھا وہ آہستہ آہستہ ملازمتوں سے تقریباً بے دخل ہو گیا ہے۔اس کا جیتا جاگتا ثبوت سرکاری ملازمتوں میں ملک بھر میں مسلمانوں کو حصہ داری ہے، جو نچلے عہدوں پر بھی کبھی 6فیصد سے زیادہ نہیں رہے، وہیں ہندو دلت ذاتیں جنہیں درج فہرست ذات میں شامل کرکے ریزرویشن دیا گیا آج مسلمانوں سے کہیں زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ قوم جس کی80فیصد سے زیادہ آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اس کے حقوق کی بات کی جائے جو کہیں سے بھی نا جائز نہیں ہے۔ برابری، انصاف اور ترقی کے مطالبے مسلمانوں کے آئینی اور بنیادی حقوق ہیں۔ 1935 کے حکومت ہند کے قانون کے مطابق صدر جمہوریہ کا1950 کا اعلامیہ بین الاقوامی قانون کی نظر میں سب سے بڑا کالا قانون ہے۔ حقیقت میں یہ اعلامیہ دفعہ14اور 15کی خلاف ورزی ہے۔جس میں بتدریج قانون کے مطابق برابری اور مذہب ، ذات، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر تفریق کی مخالفت کی بات کہی گئی ہے۔دلت مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھی درج فہرست ذات میں شامل کرکے ریزرویشن دینا قانوناً درست ہے۔ ہندو- مسلم، ہندو- عیسائی کے چشمے سے پرے ان فرقوں کے مطالبے کو ہندوستانی قوم کی ترقی سے جوڑ کر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔ دلت مسلمان و عیسائی درج فہرست ذات کے حقوق کے مطالبے کے لیے ملک میں گزشتہ64سالوں سے جدو جہد کررہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے مطالبوں پر سنجیدگی کے ساتھ غور ہو اور انہیں جلد سے جلد درج فہرست ذات کا درجہ دیا جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *