بلیا کے ایک پرائمری اسکول کے دلت بچوں کو الگ بیٹھا کر کھانا کھلائے جانے کے واقعہ کی بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے مذمت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں سخت قانونی کارروائی کی جائے، جس سے ایسا واقعہ پھر سے نہ ہو۔
جمعرات کو صبح کئے گئے ٹویٹ میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے لکھا ہے کہ یوپی کے بلیا ضلع کے سرکاری اسکول میں دلت طالب علموں کوعلیحدہ بٹھا کر کھانا کرنے کی خبر انتہائی افسوسناک ہے اور قابل مذمت ہے۔ آگے انہوں نے لکھا ہے ’’بی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ ایسے گھناؤنے نسل پرست امتیاز کے قصورواروں کے خلاف ریاستی حکومت فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کرے، جس سے دوسروں کو اس سے سبق ملے اورپھر سے ایسا نہ ہو۔
بلیا کے بیلتھرا روڈ علاقے میں ابھائوں پرائمری اسکولکا یہ معاملہ دو ہفتے پہلے کا ہے۔ اس کی جانچ بھی تقریبا ًمکمل ہو چکی ہے۔ پرائمر ی اسکول میں ہر بچے کو پلیٹ دی گئی ہے، جو خود گھر لے جاتے ہیں اور گھر سے ہر روز لے کر آتے ہیں۔ اس دن دو بچے پلیٹ گھر پربھول کرآ گئے تھے۔ اس وجہ سے انہیں کیلے پتی پر کھانا دیا گیا تھا۔ اسی کو لے کر ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اسے ذات سے جوڑ کر تبصرہ کیا تھا۔ مایاوتی کا جمعرات کو کیا گیا ٹویٹ اسی کو لے کر ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here