دلت اور پسماندہ کی حمایت میں

Share Article

ڈاکٹر ارشد احمد
گزشتہ ایک عشرے سے ’دلت اور پسماندہ مسلمان‘ جیسے الفاظ کچھ زیادہ سننے میں آرہے ہیں، ورنہ اس سے قبل عام طور پر سماج میں اور خاص طور پر غیرمسلموں کے درمیان یہی سمجھاجاتا تھا کہ مسلمانوں میں ذات برادری اور اونچ نیچ کا مسئلہ نہیں ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے تو یہ بات بالکل درست ہے، لیکن سماجی اور تہذیبی اعتبار سے غلط ہے۔ ہم جس سماج میں سانس لیتے ہیں، اس میں ہندؤں کی طرح مسلمانوں میں بھی ذات، برادری اور اونچ نیچ کا احساس موجود ہے۔ اس احساس اور جذبے کے پیچھے کون سے عوامل کام کر رہے ہیں، یہ ایک الگ بحث کا موضوع ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی دلت اور پسماندہ برادریاں نہایت ہی ذلیل و خوار اور انسانیت سوز زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ننگے بدن رہنا، آئے دن فاقہ کشی کرنا، علاقے کے متمول اور دبنگ لوگوں کے ہاتھوں استحصال اور زد و کوب اور ان کی عورتوں کی آبروریزی بالکل عام بات ہے۔ مجھے اس بات پر بہت دکھ ہے کہ وہ مسلم تنظیمیں اور ادارے جو کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور سماجی، تعلیمی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے حکمت عملی تیار کرنا مناسب نہیں سمجھتیں۔ علاقے کے معزز، متمول اور شرفا کی حالت یہ ہے کہ وہ ان سے آنکھیں چراتے ہیں اور حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایسا کبھی بھی یہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ کسی دولت مند انسان کے یہاں کوئی تقریب ہو اور وہ شخص ان دلت اور پسماندہ افراد کو اس میں شامل کرے۔ میں نے ایسے ہی ایک شخص سے ان خلف اکبر کی شادی مبارک کے موقع پر یہ سوال کیا کہ ’بھئی! آپ کے پڑوسی جو کہ دلت فرقے سے تعلق رکھتے ہیں،ان کو شادی میں دعوت کیوں نہیں دی؟‘ ان کا جواب سن کر میں نے اپنا سر پیٹ لیا۔ وہ برجستہ بولے ’کیا بتاؤں؟ یہ لوگ شراب پیتے ہیں اور گندے جانوروں کے درمیان زندگی گزارتے ہیں۔ بھلا ایسے لوگوں کو شادی جیسے مبارک موقع پر جس میں میرے وی آئی پی مہمان شامل ہوتے ہیں، کیوں کر بلاؤں۔‘ جب کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کئی متمول مسلمانوں کی گھریلو تقریبات میں امیر غیر مسلم حضرات اپنے کتوں اور نوکروں کے ساتھ شامل ہوتے ہیں اور کثرت سے شراب نوشی بھی کرتے ہیں، لیکن ان کی ان حرکتوں پر صاحب خانہ ناراض نہیں ہوتے، بلکہ فخر سے سر اونچا کیے سماج میں گھومتے ہیں۔ یعنی کتا پالنا اور انگریزی شراب پینا اعلیٰ تہذیب و تمدن کی نشانی ٹھہری اور ٹھرا پینا اور نفع بخش جانوروں کو پالنا معیوب اور حقیر ٹھہرا۔ جب تک ہماری ذہنیت ایسی رہے گی، یقین جانیے دلت مسلمانوں میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ آج کی تاریخ میں ہی وہ برائے نام ہی مسلمان ہیں اور اسلام کی ہلکی سی کرن بھی ان کو چھو کر نہیں گزرتی ہے اور نہ ہی ہم یہ چاہتے ہیں کہ ان کی حالت میں کوئی تبدیلی رونما ہو۔ جناب محمد اشرف الہدیٰ اپنے ایک مضمون میں ان کی حالت زار کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچتے ہیں:’میں اپنی ڈیوٹی میں ایک دلت برادری کے ٹولے سے روزانہ گزرتا ہوں۔ بہت ہی افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اس علاقے میں آج بھی پہلے جیسی خاموشی ہے۔ا س برادری کے افراد اپنی ٹوٹی ہوئی مٹی کی جھونپڑیوں میں یا تو سو رہے ہیں یا پھر کسی چبوترے یا کھلی جگہ پر نڈھال بیٹھے ہوتے ہیں۔ صبح اٹھنے کے بعد انہیں اپنے بچوں کو کھلانے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ اپنے بچوں کو ایک دن پہلے کا بچا ہوا چاول اور پانی جیسی پتلی دال گندے برتن میں دے دیتے ہیں۔ ایسا وہ ہر موسم میںکرتے ہیں۔ جاڑا گرمی اور برسات ہر موسم میں ان کے بچے ننگے گھومتے رہتے ہیں۔ ان کے بدن پر برائے نام کوئی کپڑا رہتا ہے۔‘(قومی تنظیم، پٹنہ، یکم ستمبر2010)
یہ حقیقت کی ایک مثال ہے۔ اس سے روگردانی کرنا ٹھیک اس مریض کے مانند ہے جو جذام جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہے اور وہ اس کا علاج کرانے کے بجائے اسے چھپانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ ٹھیک آج مسلمانوں کی حالت ایسی ہی ہے۔ ہمیں مرض کی پردہ پوشی نہیں، بلکہ علاج کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ہمارے لیے یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ سچر اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات نے ہمارے مطالبات کو اور تقویت بخشی ہے۔ اس سلسلے میں تمام مسلمان حکومت ہند سے یہ مطالبہ کرسکتے ہیں کہ دلت ہندؤں کی طرح دلت مسلمانوں کی نشاندہی کر کے ان کو بھی وہی تمام سہولیات فراہم کی جائیں جو آئین ہند کے مطابق دلت ہندؤں اور دلت سکھوں کوعرصہ دراز سے مل رہی ہیں۔ کچھ سماجی اور اصلاحی تنظیموں کی طرف سے یہ مانگ زور پکڑنے لگی ہے کہ دلت مسلمانوں کو بھی شیڈول کاسٹ کا درجہ ملے اور اس مانگ میں یقینا بہت دم ہے۔ اگر حکومت یہ مطالبہ قبول کر لیتی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے اندر جو گمراہی اور تعطل ہے وہ دور ہوںگے اور وہ لوگ بھی سماج کی مین اسٹریم میں شامل ہوسکیںگے۔
سرکاری سطح پر ہماری مانگ پر عمل ہونے سے قبل ہمیں فرداً فرداً تنظیمی سطح پر یا پھر اجتماعی سطح پر بھی ان کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی حالت کو سدھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تاریخ الامت کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو اذان پر مامور کیا، یعنی ایک حبشی خاندان جن کی حالت اس زمانے میں دلتوں سے بھی بدتر تھی، کے فرد کو اذان پر مامور کرنا اپنے آپ میں ایک انقلابی قدم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قدم سے ایسا قطعی نہیں ہوا کہ عرب کے تمام حبشی قبیلوں کی حالت سدھر گئی، بلکہ یہ قدم امت مسلمہ کے لیے ایک پیغام تھا کہ تمہارے سماج میں بھی حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ جیسے افراد ہوںگے، اس لیے تم بھی انہیں اونچا مقام دو، لیکن افسوس ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عظیم انقلابی سنت امت مسلمہ کے ہاتھوں سے نکل کر دوسرے مذاہب کے لوگوں میں چلی گئی ہے۔ ہم مسلمانوں کا کیا کہنا۔ ہم صرف انہیں حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور ان کی جسمانی ضروریات جو کہ بعض مقام پر عبادات پر بھی مقدم ہیں، ان پر کوئی توجہ نہیں دیتے، حالانکہ اسلام نے عریبوں اور مسکینوں کے حقوق نہ صرف یہ کہ سب سے پہلے تسلیم کرتے ہوئے ان کی ادائیگی کی ضمانت دی ہے، بلکہ رکن کا درجہ دے کر اس راہ میں مزاحمت کرنے والوں سے باقاعدہ جنگ کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔
دین فطرت یعنی اسلام میں اجتماعیت کو شرعی درجہ حاصل ہے۔ اگر اجتماعیت کو دین سے خارج کردیاجائے تو اس کی روح پرواز کرجائے گی۔ جب ہم ایک مسلمان کی شکل میں زندگی گزارتے ہیں تو ہمیں قدم قدم پر اجتماعیت سے سابقہ پڑتا ہے۔ اس طرح ہماری زندگی اجتماعیت کی مرہون منت ہے۔ عطیات، خیرات، انفاق اور صدقات انفرادی احسان کے مقابلے زیادہ وسیع معنی کے حامل الفاظ ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ان ساری چیزوں کو اجتماعی خیر نہیں، بلکہ انفرادی احسان تصور کربیٹھے ہیں، لیکن تاریخ اسلام کے مطالعے سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اسی جذبۂ خیر کی برکت سے اوائل اسلام میں جبر و قوت کے بغیر ہی مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں اقتصادی انقلاب برپا ہوگیا تھا۔ تاریخ انسانی میں ایسی مثال کہیں نظر نہیں آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں ہر فرد کو اجتماعی مفاد اور جماعتی مصالح کا نگراں بنایا گیا ہے، کیوں کہ زندگی کے سمندر میں رواں دواں کشتی کی سلامتی کا ہر شخص ذمہ دار ہے اور کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ انفرادی آزادی کے نام پر اس کشتی میں سوراخ کرے۔ دوسری جانب جماعت کو بھی غریبوں مسکینوں اور ضرورت مندوں کی کفالت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، کیوں کہ قوم کا ایک فرد بھی اگر شب بھر بھوکا رہا تو ساری قوم مجرم اور گنہگار گردانی جائے گی۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ اسلام میں ایک انسان کو انفرادی آزادی تو دی گئی ہے، لیکن اسے اجتماعی ذمہ داری کے احساس میں مقید بھی کیا گیا ہے۔ اس لیے اجتماعی ذمہ داری کا احساس ہی ہمیں اپنے نادار اور مفلس مسلم بھائیوں کی طرف جذبۂ خیر کے لیے متحرک کرتا ہے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج بیشتر افراد اور مسلم تنظیمیں اس عظیم ذمہ داری کو یا تو بھول گئیں ہیں یا پھر انہیں اس کا احساس ہی نہیں رہا۔ مشہور و معروف سماجی کارکن اور ایم پی علی انور اپنی کتاب ’دلت مسلمان‘(ہندی) میں تحریر کرتے ہیں۔ ’’پھلواری شریف ٹاؤن کے پیچھے ایک کالونی بسی ہے، جہاں کئی دلت مسلم خاندان رہتے ہیں، یہاں کنواں کا پانی پینے سے ہیضے کی بیماری پھیل گئی۔ پانچ آدمی بیک وقت انتقال کرگئے۔ محمد شفیع حلال خور بتاتے ہیں، پھلواری شریف میں ہی دیس کا نامی گرامی ادارہ ’امارت شرعیہ‘ ہے۔ وہاں کے لوگ ماتم پرسی تک کے لیے نہیں آئے۔ دنیا بھر کے مسلمان غریب بہاری مسلمانوں کی مدد کے لیے اس ادارے کو پیسہ دیتے ہیں، لیکن کبھی اس ادارے کے دماغ میں یہ بات نہیں آئی کہ صاف پینے کے پانی کے لیے یہاں ایک ہینڈ پائپ لگوادیں۔ خدا بھلا کرے اس خاتون ایس ڈی او کا جس نے اس حادثے کے بعد ایک ہینڈ پائپ لگوادیا۔‘‘ یہ تو محض ایک مثال ہے، ورنہ پورے ملک کا سروے کرلیجئے ہر جگہ کم و بیش یہی حالت ملے گی۔ عیدالفطر اور عیدالضحیٰ جیسے تہوار بھی ان کے لیے کچھ معنی نہیں رکھتے۔ اس لیے ان تہواروں کے مبارک موقع پر بھی خاص تو خاص عام مسلمان بھی ان کے دروازے پر جانا بہتر نہیں سمجھتا ہے۔ مصافحہ کرنا اور گلے لگانا تو خواب کی باتیں ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر بھی لوگ ان کے گھروں تک جانے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔
علی انور پٹنہ کے عالم گنج محلے میں مقیم ایک دھوبی ذات کی شادی کا واقعہ یوں رقم طراز ہیں۔’’عالم گنج محلہ کی امبیڈکر کالونی میں 90ہندو دلتوں کے ساتھ دس گھر مسلم دلت بھی رہتے ہیں، اسی محلے میں محمد جمیل نام کا ایک مسلم دھوبی خاندان بھی رہتا ہے۔ جمیل کی ماں بیوہ نرگس اس بات کو لے کر بہت پریشان ہیں کہ لوگ اپنے کو مسلمان تو کہتے ہیں، لیکن اسے چھوٹی ذات سمجھتے ہیں۔ نرگس بتاتی ہے کہ اس نے اپنے بیٹے جمیل کی شادی کے موقع پر ولیمہ میں بڑے شوق سے مسلمانوں کو دعوت دی، لیکن لوگ نہیں آئے۔ بہت کھانا برباد ہوگیا۔ لوگ دعوت تو قبول کرلیتے ہیں، مگر دھوکے بازی کرتے ہیں۔ صاف کہتے کہ نہیں آئیںگے۔ اپنی برادری کو چھوڑ کر کوئی نہیں آتا۔‘‘
ان واقعات سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ہم کس مقام پر کھڑے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس ذات پات اور اونچ نیچ کو اپنے قدموں تلے روند دیا، اسے اپنے سروں کا تاج بنائے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو عزت و وقار بخش کر ہمیں ایسا کرنے کا پیغام دیا، اس سے اب ہمارا کوئی علاقہ نہیں رہا۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سارے مسلمان ذات پات، اونچ، نیچ، نسل اور نسبی تفاخر، اعلیٰ و ادنیٰ جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہیں اور اس میں اصلاح کی دور دور تک کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔ اللہ ہمیں سماج کے لیے بہتر سوچ و فکر عطا کرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *