سربجیت کی بہن دلبیر کور کو پاکستان کاایک مہینے کا ویزا، کشمیری لیڈر میر فاروق عمرکی سفارش پر دیا گیا۔ اس کے لیے انھوں نے اس وقت کی ہوم منسٹر رحمٰن ملک سے کہاتھا۔ اس کے بعد ایک مہینے تک وہ لاہور میں رہیں۔ ان کے لا ہور آنے سے پہلے میں نے ہوم ڈپارٹمنٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے لاہور سینٹرل جیل میں21 سال سے بند ان کے بھائی سے ملنے کے لیے درخواست داخل کر دی تھی۔ لیکن ہوم ڈپارٹمنٹ، پنجاب سرکار اور جیل سپرنٹنڈنٹ مجھے انتظار کر وا رہے تھے۔ جب بھی میں ان سے ملنے جاتا، وہ مجھے یہی جواب دیتے کہ ہمیں ابھی تک ہوم منسٹری اسلام آباد سے کوئی کلیرینس یا اجازت نہیں ملی ہے۔ لیکن تب تک 6 جون 2011 کو دلبیر کورواگھہ بورڈر پر پہنچ گئیں۔ آٹھ جون کو ہم دونوں نے پریس سے خطاب کیا ۔ لیکن 12 جون تک ہوم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سربجیت سے ملاقات کے متعلق کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔ ہندوستانی ہائی کمیشن لگاتار میرے رابطہ میں تھا اور مجھ سے ہوم ڈپارٹمنٹ کی جانب ے اجازت ملنے کے بارے میں معلومات کرتا رہا۔ ڈپٹی ہائی کمشنرنے مجھے فون کرکے بتایا کہ انھوں نے خارجی دفتر سے رابطہ کیا تھا اور وہ لگاتار یہی کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کے ہوم سکریٹری نے پہلے ہی اس کے لیے اجازت دیدی ہے اور حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے۔ ہوم ڈپارٹمنٹ سے مایوس ہونے کے بعد میں نے 14 جون کو ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی اور سربجیت سے ملاقات کرنے کی مانگ کی۔ 15 جون کو میں اور دلبیر کور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجاز چودھری کے سامنے پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے فوری طور پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ دلبیر کور کو دو بار سربجیت سے ملنے کی اجازت دیں۔ مجھے بھی ان کے ساتھ ملاقات کے لیے جانے کی اجازت دیدی گئی۔ اس ہدایت نے پہلے سے اداس دلبیر کور کے حوصلے کو بڑھایا۔ وہ بہت خوش تھیںاور انھوں نے چیف جسٹس کا منصفانہ اور تیزی سے کارروائی کرنے کے لیے شکریہ ادا کیا ۔ لیکن ایک روزنامہ اخبار ’دی نیشن‘ نے دلبیر کور کے نام سے ایک جھوٹا بیان شائع کیا، جس میں لکھا کہ پاکستان اور ہندوستان اجمل قصاب اور سربجیت کی رہائی کے مسئلے پر بات کر رہے ہیں۔ اس بیان سے ہندوستان میں دلبیر کے بارے میں ایک منفی خیا ل بن گیا۔ انھیں اپنی معتبریت کو قائم رکھنے کے لیے بہتسے سوالوں کے جواب دینے تھے۔ ہندوستانی میڈیا نے کہا کہ انھوں نے اپنے

واپسی سے ایک دن پہلے ہم نے پریس کو خطاب کیا۔ تب ایک نامہ نگار نے کہا کہ آپ ’را‘ کے ایجنٹ ہیں، آپ کو اس کے لیے ٹریننگ دی گئی ہے؟دلبیر کور نے اس بات پر اپنا تیکھا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ثبوتوں کے بنا کوئی بات نہ کہیں ، نہ تو میں را کی ایجنٹ ہوں اور نہ ہی آئی ایس آئی کی ۔ میں ایک سرکاری ملازمہ ہوں اور اپنے بے گناہ بھائی کی رہائی کے لیے کوشش کر رہی ہوں۔

بھائی کی رہائی کے لیے اجمل قصاب کے تعلق سے حکومت ہند کے رخ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس سے دلبیر کور بہت پریشان تھیں۔ میں نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے روزنامہ ’دی نیشن‘ کے چیف ایڈیٹر مجید نظامی کو ایک قانونی نوٹس بھیج دیااور ان سے ہتک عزت و ذہنی اذیت رسانی کے عوض دو کروڑ روپے کا مطالبہ کر دیا۔ یہ بات ہندوتانی میڈیا میں آئی۔ میری فوری کارروائی نے انھیں شرمندہ ہونے سے بچالیااور اس طرح انھوں نے راحت کی سانس لی۔ 16جون کو ہم نے سربجیت سے جیل میں ملاقات کی۔ یہ بھائی بہن دونوں کے لیے جذباتی لمحے تھے۔ انھیں لگا کہ ان کے کالے دن اب ڈھل چکے ہیں۔ وہ چند ساعتیں چپ چاپ کھڑے رہے ، اس کے بعد وہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہے۔ انھوںنے ایک دوسرے کو کچھ تحفے بھی دیے۔ دلبیر کور نے جیل کے باہر میڈیا سے بھی بات کی اور کہا کہ میرا بھائی دہشت گرد نہیں ہے، وہ بے گناہ ہے، وہ دونوںملکوںکے خراب تعلقات کا مارا ہوا ہے۔ انھوں نے پاکستانی صدر سے اپنے بھائی کو معاف کرنے یا اس کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کی اپیل کی۔
’دی نیشن ‘ خبار کے چیف ایڈیٹر، جنھیں میں نے دلبیر کور کا غلط بیان شائع کرنے پرایک قانونی نوٹس دیا تھا، انھوں نے ایک سیمنارکا انعقاد کیا ، جس میں مذہبی رہنمائوں نے لوگوں کو خطاب کیا۔ انھوں نے وہاں سربجیت کو چھوڑ نے کی مخالفت کی اور اور ایسا کرنے پر سرکار کو نتیجہ بھگتنے کا انتباہ بھی دیا۔ انھوں نے وہاں ہندوستان اور امریکی سرکار کے خلاف نعرے بلند کیے۔ اگلے دن پنجاب ودھان سبھا کے سامنے احتجاج ہوا، جس میں پریس کلب نے سربجیت کی سزا پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے میرا پتلا بھی نذر آتش کیا۔ یہ سب ہندوستانی میڈیا کو بتایا گیا۔
ہم داتا دربار اور میاں میر کی درگاہ پر گئے اور وہاں سربجیت کی رہائی کی دعا مانگی۔ ہندوستان واپس جانے سے پہلے دلبیر کور کی یکم جولائی کو سربجیت سے ایک بار پھر ملاقات ہونی تھی۔ یہ ملاقات پچھلی ملاقات کے مقابلے میں کچھ الگ تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے مسکراتے ہوئے ملے۔ سربجیت میں یہ اعتماد دکھائی دیا کہ وہ جلدی ہی رہا ہو جائے گا۔اس دوران سربجیت نے کہا کہ میں دونوں سرکاروں سے اپیل کرتاہوں کہ دونوں ملکوں میں بند قیدیوں کے خاندان والوں کو ان سے جیل میں ملنے کی اجازت دی جائے۔اس نے یہ بھی کہا کہ جب قیدیوں کو ان کے خاندان والوں سے ملنے نہیں دیا جاتا ہے، تو وہ اپنے ہوش کھو بیٹھتے ہیں۔ جب ہم سربجیت سے ملکر جا رہے تھے ، تو سربجیت نے جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ (جو میٹنگ کے وقت وہاں موجود تھے ) سے درخواست کی کہ اس کی بہن کوہندوستانی قیدی کرپال سنگھ سے ملنے دیا جائے، جو الگ بیرک میں بند ہے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے دلبیر کورکو کرپال سنگھ سے ملنے کی اجازت دیدی۔ وہ اگلی بیرک میں کرپال سنگھ سے ملنے گئی، جو وہاں 19 سال سے بندہے۔
واپسی سے ایک دن پہلے ہم نے پریس کو خطاب کیا۔ تب ایک نامہ نگار نے کہا کہ آپ ’را‘ کے ایجنٹ ہیں، آپ کو اس کے لیے ٹریننگ دی گئی ہے؟دلبیر کور نے اس بات پر اپنا تیکھا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ثبوتوں کے بنا کوئی بات نہ کہیں ، نہ تو میں را کی ایجنٹ ہوں اور نہ ہی آئی ایس آئی کی ۔ میں ایک سرکاری ملازمہ ہوں اور اپنے بے گناہ بھائی کی رہائی کے لیے کوشش کر رہی ہوں۔
ہاں !وہاں ایک بہن دل سے بول رہی تھی۔ انسان ہونے کے ناتے ہم یہ جانتے ہیں کہ خاندان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا پیار امنڈتا ہے۔ ایک بہن اپنے بھائی کے ساتھ تب تک کھڑی رہے گی جب تک کہ اس کی رہائی نہیں ہوجاتی اور یہی خدا کو بھی منظور ہے۔
ان کی واپسی کے دن میرے پاس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کا فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ پیارے شیخ صاحب ہم ایک بڑی پریشانی میں پڑگئے ہیں۔ ہم نے دلبیر کور کو سرکار کی اجازت کے بغیر کرپال سنگھ سے کیوں ملنے دیا، اس لیے ہمارے خلاف ایک اعلیٰ سطحی جانچ ہو رہی ہے۔ میں نے یہ بات دلبیر کور کو بتائی اور انھوں نے یہ مانا کہ پریس کے سامنے کرپال سنگھ سے ہوئی بات کا ذکر کر کے ہم نے غلطی کی۔ 5جولائی کو وہ ہندوستان واپس چلی گئیں۔ بورڈر پرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں امید کر رہی تھی کہ میں اپنے بھائی کو اپنے ساتھ لے کر جائو ں گی،لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ کم سے کم اس کی رہائی کا اعلان ہی ہو جاتا، لیکن میں نا امید نہیں ہوئی ہوں۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس کی رہائی جلد ہوگی۔میں پاکستان کے لوگوں ، میڈیا اور ان سبھی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں، جنھوں نے میرے سفر کے دوران مجھے عزت دی اور میرا خیال رکھااور خاص طور سے میں اپنے بھائی سربجیت کے وکیل اویس شیخ صاحب کا شکریہ ادا کرتی ہوں، جنھوں نے پورے سفر کے دوران میرا خیال رکھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here