کٹ منی معاملے میں مرکز نے ریاست سے مانگی رپورٹ

Share Article

 

سرکاری منصوبوں کو عام لوگوں تک پہنچانے کے بدلے میں وصول کی گئی’کٹ منی‘ کی رقم کو لے کر مغربی بنگال میں ہنگامے کے درمیان مرکزی حکومت نے اس پر رپورٹ طلب کی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ریاست کے چیف سکریٹری مالائی دے کے نام ایک خط بھیجا گیا ہے جس میں ریاست بھر میں کٹ منی کو لے کر ہو رہے ہنگامے، مارپیٹ اور تشدد کے واقعات پر تفصیلی رپورٹ مانگی گئی ہے۔

 

ہفتہ کو وزیر برائے تعلیم اور پارلیمانی امور اور حکمران ترنمول کے سیکریٹری جنرل پارتھ چٹرجی نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے رپورٹ طلب کیا جانا غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کا نظام ریاستی حکومت کا مسئلہ ہے۔ یہاں کسی بھی طرح کے کوئی مشکل حالات پیدا ہوں گے تو حکومت اسے کنٹرول کرے گی۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ اس میں مرکزی حکومت مداخلت نہیں کر سکتی۔ پارتھ نے کہا کہ کبھی تشدد تو کبھی کسی اور وجہ سے حالیہ دنوں میں مرکزی وزارت داخلہ ریاستی حکومت کے کام میں کسی بھی طرح سے مداخلت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتے وزارت داخلہ کی اس رپورٹ کا جواب پختہ طور پر دے دیا جائے گا۔

 

دراصل ہگلی سے بی جے پی لیڈرلاکٹ چٹرجی نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے سامنے مغربی بنگال کے حالات کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سرکاری منصوبوں کو لوگوں کو دینے کے بدلے میں حکمران ترنمول کے رہنماؤں نے وسیع پیمانے پر رشوت خوری اور بدعنوانی کی ہے۔ اسے لے کر ریاست بھر میں لوگ سڑکوں پر اتر گئے ہیں۔ رہنماؤں کا گھیراؤ ہو رہا ہے، مارپیٹ، توڑ پھوڑ، پولیس لاٹھی چارج اور لوگوں کی گرفتاریاں مسلسل کی جا رہی ہیں۔ اس سے مغربی بنگال میں بد نظمی کاماحول بن گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس پر ریاستی انتظامیہ کنٹرول کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایسے میں بنگال کے حالات کیا ہیں اس کی اطلاع دی جانی چاہئے۔ اس پر وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔کہا گیا تھا کہ اس کی رپورٹ لے کر بتایا جائے گا۔ اس کے بعد ہی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ہدایت پر وزارت کی جانب سے یہ رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *