تخلیق کے بطن سے ہی تنقید جنم لیتی ہے: شیخ عقیل احمد

Share Article

 

قومی کونسل کے صدر دفترمیں جاوید صدیقی اور یحییٰ بھوجپوری کااستقبال

اردو ایک ایسی زبان ہے جس کے ذریعہ ہندوستان کی تہذیب وثقافت کا فروغ دنیابھر میں ہورہاہے۔اردو کے شعرا دنیا کے جن ملکوں میں بھی ہیں وہاں وہ نہ صرف اردو زبان کوفروغ دے رہے ہیں بلکہ ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کا پرچم بھی بلند کررہے ہیں۔ان خیالات کا اظہارقومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے قومی کونسل کے صدر دفترمیں متحدہ عرب امارات کے مشہور شعرا یحییٰ بھوجپوری اور جاوید صدیقی کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انھوںنے کہا کہ یحییٰ بھوجپوری اور جاوید صدیقی اردو کے بہترین شاعرہیں اور ہندوستانی تہذیب وثقافت کو متحدہ عرب امارات میں بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس موقعے پر انھوںنے دونوں مہمانان کو گلدستہ پیش کیا اور اور ان کا جامع تعارف کرایا۔انھوںنے کہا کہ یحییٰ بھوجپوری اور جاوید صدیقی بہت سی صلاحیتوں کے حامل ہونے کے ساتھ اچھے تخلیق کار بھی ہیںاور تخلیق کار کی عظمت واہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ تخلیق کے بطن سے ہی تنقید جنم لیتی ہے۔

یحییٰ بھوجپوری نے اپنے خطاب میں قومی کونسل کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ قومی کونسل اردو کا بہت بڑا ادارہ ہے۔اس کے ذریعے زبان کا بہت کام ہورہا ہے اور پوری دنیا میں اردو زبان کو تقویت حاصل ہورہی ہے۔عہد حاضر میں سوشل میڈیا کے بڑھتے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوںنے کہاکہ اردو والوں کو چاہیے کہ وہ اردو کے فروغ کے لیے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریںاور کمپیوٹر پر اردو کے استعمال کو آسان بنانے کی طرف توجہ دیں۔جاوید صدیقی نے بتایاکہ متحدہ عرب امارات میں اردو کا دائرہ بڑھ رہا ہے اور وہاںاردو شاعری کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ وہاںبڑے مشاعروں کے انعقاد کے ساتھ طرحی نشستوںکا بھی رواج عام ہوتا جارہا ہے۔اس کے علاوہ ادبی اور علمی سمینار بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس موقع پر دونوں مہمان شعرا نے اپنا مرصع کلام بھی سنایاجس پر سامعین جھوم اٹھے۔ کونسل کے اسٹاف میںسے عبدالرشید ،جناب انصراور جناب منیر صاحب نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔جلسہ استقبالیہ میں جن شخصیات نے شرکت کی ان میں جناب کمل سنگھ اسسٹنٹ ڈائرکٹر( ایڈمن)، ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی اسسٹنٹ ڈائرکٹر( اکیڈمک)،حقانی القاسمی، ڈاکٹر فیروز عالم، جناب سعید اجمل، ڈاکٹر عبدالحی، ڈاکٹر یوسف رامپوری وغیرہ کے نام خاص طورپر قابلِ ذکر ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *