علائو الدین خلجی پر تنقیدی نظر کتنی حقیقت ،کتنا فسانہ

Share Article

خالد علوی
پدمنی اور علائوالدین خلجی سے متعلق بنائی گئی فلم پر تازہ اطلاع یہ ہے کہ راجستھان کی وزیر اعلیٰ نے وزیر اطلاعات ونشریات کو خط لکھ کر فلم میں تبدیلیوں کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وزیر اعلیٰ خود بھی ایک راجپوت گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ممکن ہے ان کے پیش نظر راجستھان کے آئندہ اسمبلی انتخابات ہوں۔
اگرچہ اس تنازعہ پر کم و بیش ہر ہندوستانی کو معلوم ہوچکا ہے کہ سلطان علائوالدین خلجی اور رانی پدمنی کے عشق کی داستان کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور یہ تمام خبریں الیکٹرانک میڈیاکی پروردہ ہیں۔ اگر علائوالدین خلجی کی زندگی اور فتوحات پر نظر کی جائے تو عجیب و غریب حقائق سامنے آتے ہیں جن میں کسی دوسرے کی بیوی سے کسی عشقیہ تعلق کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ علائوالدین خلجی نے جب1296ء عنانِ حکومت سنبھالی تو دہلی کی لاقانونیت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ اس عہد میں کسی مخصوص واقعہ کے خلاف مظاہرے تو نہیں ہورہے تھے لیکن محتلف النوع فسادات عام تھے۔ تاریخ فیروزشاہی میں ضیاء الدین برنی اطلاع دیتا ہے کہ ایسے دنگوں کو فرو کرنے کے لئے علائوالدین نے سخت قدم اٹھائے اور مجرموں کے جسموں کو دو برابر حصوں میں تقسیم کردیا۔ اس کے بعد کسی طرح کی لاقانونیت دیکھنے میں نہیں آئی۔
سفاکی کی مثال
اپنی حکومت اور اقتدار کو سلامت رکھنے کے لئے علائوالدین کی سفّاکی بے مثال تھی۔ برنی ہی کی اطلاع کے مطابق ایک بار شہر قاضی نے علائوالدین خلجی کو متنبّہ کیا کہ اس کے دور حکومت میں جو سزائیں دی جارہی ہیں وہ غیر شرعی اور غیر اسلامی ہیں علائوالدین خلجی نے جواب دیا ’’جب فوجی وقت ضرورت محاذپر نہیں پہنچتا میں اس سے تین سال کی تنخواہ واپس طلب کرلیتا ہوں۔ اگر کوئی مرد کسی دوسرے کی بیوی کی عصمت دری کرتا ہے میں اس کو خصّی کردیتا ہوں۔ باغیوں کو قتل کرکے ان کی بیوی بچوں کو بھکاری بنادیتا ہوں۔ رہزنوں کو زنجیروں میں باندھ کر قید خانے میں ڈال دیتا ہوں اور ایک ایک پیسہ برآمد کرکے اصل مالک تک پہنچاتا ہوں۔ کیا یہ سب غیر قانونی ہے؟
قاضی اپنی جگہ سے اٹھا اور کٹگھرے میں جاکر اپنی گردن رکھ کر کہنے لگا۔ ’’سلطان محترم، آپ خواہ مجھے قید خانے میںڈال دیںیا گردن کاٹ دیں یہ زیادہ تر سزائیں غیر شرعی ہیں اور میں پیغمبر اسلام کی فرمودات میں ان سزائوں کا کوئی حوالہ نہیں پاتا‘‘ ۔ علائوالدین بغیر کوئی جواب دئے دربار ہال چھوڑ کر حرم میں چلا گیا ۔اگلے دن قاضی اپنے تمام اہل خانہ اور رشتہ داروں کو الوداع کہہ کر آیا ۔اس کو قوی امید تھی کہ اس کو موت کی سزا دی جائیگی۔ لیکن تمام امیدوں کے برعکس علائوالدین خلجی نے اس کو شاہی عبا پیش کی اور انعامات سے نوازا۔ علائوالدین خلجی ذاتی زندگی میں بھی قطعی لا مذہب تھا۔ تاریخ فیروز شاہی کے مطابق جمعہ کی نماز میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔

 

 

 

 

 

 

مشہور مورخ ابراہم اریلی لکھتا ہے کہ اس عہد کے تمام فرماں روائوں کی طرح علائوالدین بھی صرف اور صرف حکومت سازی میں دلچسپی رکھتا تھا۔ اس نے اپنے چچا جلال الدین خلجی کا اس وقت قتل کردیا تھا جب جلال الدین وفور محبت میں اپنے بھتیجے علائوالدین کو چوم رہا تھا۔ اس کے بعد علائوالدین خلجی نے دلّی سلطنت پر قبضہ کرکے سلطنت کی ہر شے پر مکمل قبضہ رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن یہ المیہ بھی عجیب تھا کہ اس کی اپنی بیوی اس کی سعادت مند نہ تھی۔ ابن بطوطہ نے علائوالدین خلجی کی خانگی زندگی کو قریب سے مشاہدے کے بعد لکھا کہ علائوالدین کی بیوی اپنی ماں کے ساتھ مل کر علائوالدین کی زندگی مشکل بنادیتی تھی۔ واضح ہو کہ علائوالدین کی بیوی اس کی چچا زاد بہن تھی جلال الدین کی بیٹی تھی۔
علائوالدین خلجی کا اولین حملہ گجرات میں1298میں ہوا۔ جہاں کا راجہ کرن وگھیلا اپنی جان اور اپنی کم سن بیٹی کو بچاکر دیوگری بھاگ گیا۔ اس کے بعد علائوالدین کا دوسرا نشانہ رنتھنبور تھا۔ لیکن اس مہم میں علائوالدین کی جان بال بال بچی ۔وہ اپنے سگے بھتیجے کی سازش کا شکار ہوتے ہوتے بچا۔ علائوالدین مئی1301 میں واپس دارالحکومت آیا اور اس نے چتّوڑ کے قلعے پر قبضہ کیا ۔اس جنگ میں رانارتن سنگھ اور اس کی راجپوت فوج نے بہادری سے مقابلہ کیا لیکن ناکامی نصیب ہوئی۔ لیکن قلعہ پر قبضہ سے چتّوڑ قلعہ کی تمام راجپوت عورتیں خود کو آگ کے حوالے کرکے راکھ ہوچکی تھیں۔ اس عمل کو راجپوتوں میں ’’جوہر‘‘ کہا جاتا ہے۔
علائوالدین خلجی نے کم و بیش تیس ہزار راجپوتوں کو تہہ تیغ کیا جن کی عورتوں نے بھی خود کوجوہر کرلیا۔ آج بھی ہولی کے گیارہویں دن اس اجتماعی جوہر کی یاد میں چتّوڑ میں ہون کیا جاتا ہے۔ علائوالدین خلجی کے زمانے کے کسی مورخ نے بھی پدمنی اور علائوالدین کے عشق کی طرف ہلکا سا بھی اشارہ نہیں کیا۔ بلکہ لگ بھگ ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد بھی آج تک کسی مورخ نے اس کہانی کو سنجیدگی سے انگیز نہیں کیا۔ اس میں سنگھ پریوار کے مورخ بھی شامل ہیں جو ایسا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں دیتا چاہتے۔
معروف مورخ مکھیہ کی رائے
مشہور مورخ ہربنس مکھیہ نے رانی پدمنی کا جنم ہی علائوالدین خلجی کی موت کے ڈھائی سو سال بعد قرار دیا ہے اور رانی پدمنی کے جنم داتا مشہور صوفی کوی ملک محمد جائسی ہیں۔ امیر خسرو، جو علائوالدین خلجی کے ہم عصر ہیں اور اپنے عہد کی ہر ایک واردات کو محفوظ کرنے کے لئے مشہور ہیں، اس سلسلے میں کوئی حوالہ نہیں دیتے۔ خسرونے ’’تاریخ علائی‘‘ اور ’’نہہ سپہر‘‘ میں30 ہزار راجپوتوں کے قتل کا ذکر کیا ہے لیکن پدمنی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
’’پدمنی‘‘ کا ذکر پہلی بار ملک محمد جائسی کی پدماوت‘‘ میں ملتا ہے۔ وہیں سے ’’ابوالفضل‘‘ اور ’’فرشتہ‘‘ نے اپنی تصنیفات میں حوالہ دیا ہے لیکن وہ بھی محض سرسری حوالے ہیں اوروہ بھی علائوالدین خلجی کے چار سو سال بعد، جن کی کوئی تاریخی اہمیت نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

تمام تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ علائوالدین خلجی کی سلطنت سازی کی مہم کو دیکھتے ہوئے یہ بات قرین قیاس بھی نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کی بیوی سے کوئی عشقیہ تعلق رکھے گا۔گجرات کے راجا وگھیلا کو شکست دینے کے بعد اس کی بیوی سے شادی تو کی لیکن عشق نہیں کیایہ شادی تو محض ایک سیاسی ضرورت تھی۔ وہ تو ایک مہم کے بعد فوراً دوسری مہم میں مصروف ہوجاتا تھا اور کسی عورت کے چہرے پر کئی نقاب ڈال کر پھر آئینہ میں اس کا عکس دیکھنا بھی علائوالدین کے کردار سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتا۔ یہ صرف جائسی کا شاعرانہ تخیل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کے پائوں کہاں؟ لیکن اس جھوٹی کہانی نے صدیوں کا سفر طے کیا۔ رمیّا سری نواسن نے شمالی ہند راجستھان اور بنگال میں مختلف زبانوں میں بیان کی گئی۔ اس خیالی کہانی کی بہت سی شکلوں کا ذکر کیا ہے۔ جس میں علائوالدین خلجی اور پدمنی قطعی مختلف شکلوں میں نظر آتے ہیں۔ سری نواسن نے اپنی معرکۃ الاراء کتاب “The Many Lives of Rajput Queen” میں بہت سی زبانوں میں بیان کی گئی اس کہانی کا ذکر کیا ہے۔ اردو فارسی میں بھی اس کہانی پر لاتعداد کہانیاں اور مثنویات موجود ہیں۔لیکن کہانی میں طوطے کے ذریعے بیان کیا گیا پدمنی کا حسن آج حقیقت بنتا نظر آرہا ہے۔
سری نواسن کے علاوہ شانتنوں پھکن اور ٹامس بروجن نے اس کہانی کی حقیقت کو اپنی کتابوں میں ایمانداری سے آشکارا کیا ہے۔ دویا چیرین نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں بعض قدیم مخطوطوں کے حوالے سے اس متصوفانہ داستان کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جائسی کی پدماوت میں چتّوڑ ایک جسم ہے، رتن سین روح، پدمنی دماغ، ہیرامن روحانی رہنما اور علائوالدین مایا ہے۔
علائوالدین خلجی دلّی کا پہلا سلطان ہے جس نے بازاروں میں ہر جنس کا نرخ مقرر کیا۔ دلی کی منگولوں کے حملے سے حفاظت کی۔ ملتانی سودخوروں کے سود خوری کا روبار کو ختم کیا۔ شراب اور جسم فروشی پر مکمل پابندی عائد کی۔ کوئی بھی زمین دار ایک حد سے زیادہ دولت نہیں جمع کرسکتا تھا۔ زنانہ و مردانہ ملازمین کی تنخواہیں مقرر کیں۔ قیمتی اشیا صرف سرکاری دیوان کی تحریریں اجازت کے بعد ہی خریدی اور استعمال کی جاسکتی تھیں۔ بازاروں کے نرخ پر علائوالدین خود نظر رکھتا تھا اور وقتاً فوقتاً بازاروں کا معائنہ کرتا تھا۔ اس نے مذہب کو اور حکومت کو قانونی طور پر الگ الگ کیا۔ عوامی بہبود کی ہمیشہ مدّ نظر رکھتا تھا۔ اس نے عوامی بہبود اور سیکولر (غیر مذہبی) حکومت کے جن نظریات پر عمل کیا ،وہ اس کے بعد کئی صدیوں تک بھی نظر نہ آسکے۔
(مصنف سماجی کارکن اور دہلی یونیورسٹی میں استادہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *