عالمی سطح پر تارکین وطن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ خانہ جنگی سے دوچار ملکوں کے شہری زیادہ تعداد میں نقل مکانی کرتے ہیں۔یہ تمام تارکین وطن وقت کے ستائے ہوئے ہیں۔یہ جس ملک میں بھی پناہ لینے کے لئے جاتے ہیں ،عام طور پرپورے کنبہ اور اہل و عیال کے ساتھ جاتے ہیں۔کچھ ممالک تو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں پناہ دے دیتے ہیں مگر کچھ ممالک کے قوانین میں ایسی پیچیدگی ہے کہ ایک ہی کنبہ کے ارکان الگ الگ سرحدوں میں بٹ جاتے ہیں۔ یہ صورت حال بہت درد پہنچانے والی ہے ۔ خاص طور پر جب کنبہ کا کوئی معصوم اور چھوٹا بچہ اپنے والدین سے الگ کردیا جائے تو اس وقت انسانیت شرمسار نظر آتی ہے۔ ایسے قانون پر امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے سخت ناپسندگی کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی معصوم بچے کو والدین سے الگ کیا جانا قابل نفرت عمل ہے۔
ان کا یہ بیان اس لئے بھی اور اہم ہوگیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس تاثر کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا جب ان کے شوہر اور امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کو امریکہ سے نکالنے کے لئے کچھ نئی ہدایات جاری کئے ہیں۔اس ہدایت کی وجہ سے کئی ایسے معصوم بچے بھی اپنے والدین سے الگ کردیئے جاتے جن کے والدین غیر قانونی طریقے سے ملک میںداخل ہوئے ہیں۔لیکن امریکہ کی خاتون اول اور دیگر متعدد تنظیموں کی تنقید کا بڑا مثبت اثر پڑا اور صدر ٹرمپ کو مہاجر والدین سے ان کے بچوں کو الگ کرنے کا حکم واپس لینا پڑا۔ اب ان بچوں کو ان کے والدین سے الگ نہیں کیا جائے گا اور ان کو ان کے والدین کے ساتھ حراستی مرکز میں رکھا جائے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے میکسکو سے امریکہ آنے والے غیر قانونی مہاجرین کے خلاف شدید کریک ڈاؤن کیا جا رہا تھا اور اس سلسلے میں والدین کو قید کر کے ان کی تحویل سے ان کے بچوں کو لیا جا رہا ہے۔اس کریک ڈائون کی وجہ سے گزشتہ 6ہفتوں میں امریکی سرحد پر تقریباً2ہزار مہاجر بچوں کو ان کے گھر والوں سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔امریکی انتظامیہ کے اس عمل پر خود امریکہ کے اندر سخت نقطہ چینی بھی کی جارہی تھی ۔ دراصل ٹرمپ انتظامیہ کا یہ کریک ڈاؤن امریکہ کی طویل المدتی پالیسی میں تبدیلی کا ایک حصہ ہے جس کے تحت پہلی مرتبہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے آنے والوں کو مجرمانہ سزاؤں کا سامنا کرتا پڑتا ہے جبکہ پہلے اسے صرف ایک چھوٹا سا جرم تصور کیا جاتا تھا۔
 
 
 
امریکی محکمہِ ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق 19 اپریل سے 31 مئی 2018 تک 1995 بچوں کو 1940 افراد سے علیحدہ کیا جا چکا ہے۔البتہ ان بچوں کی عمروں کی تفصیلات کے بارے میں ہنوز معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ان تمام بچوں کو امریکی محکمہِ صحت اور ہیومن سروسز کے حوالے کر دیا گیا تھا۔امریکہ کے اس طرز عمل پر پوری دنیا میںتشویش کا اظہار کیا جارہا تھا یہاں تک کہ اقوام متحدہ نے امریکہ سے فوری طور پر بچوں کو ان کی فیملیوں سے علیحدہ کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے کہا تھا۔
بچوں کی والدین سے علاحدگی قابل نفرت
امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے میکسیکو سے امریکہ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کو والدین سے علیحدہ کرنے کی پالیسی کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں بچوں کو ان کے والدین سے جدا کرنے کے عمل سے نفرت ہے۔ہمیں ایسا ملک ہونا چاہیے جو تمام قوانین کی پاسداری کرے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں ایسا ملک بھی ہونا چاہیے جہاں دل کی حکومت ہو۔
حالیہ 6 ہفتوں کے دوران تقریباً دو ہزار خاندانوں کو ان کے بچوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔اس تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میکسیکو اور دیگر ملکوں سے بڑی تعداد میںتارکین وطن امریکہ آتے ہیں۔ان میں سے جو بالغ سرحد عبور کرکے آتے ہیں، انہیں حراست میں لے کر ان کے خلاف غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے جرم میں مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ حالانکہ ان میں بہت سے پناہ حاصل کرنے کی غرض سے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوتے ہیں۔ان تارکین وطن کے سینکڑوں بچے حراستی مراکز میں اپنے والدین سے علیحدہ کر کے رکھے جا رہے ہیں۔
اس نئی پالیسی کو انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ ایسا آج تک کبھی نہیں کیا گیا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ میں جو کچھ بھی ہورہا ہے ،یہ انسانیت کو شرمسار کرنے والا ہے۔اس سلسلہ میں امریکی صدر ڈونا لڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھیں بچوں کو اپنے والدین سے جدا کیے جانے کے عمل سے سخت نفرت ہے اور وہ امید کرتی ہیں کہ دونوں پارٹیاں (ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس) حتمی طور پر مل جل کر کامیاب امیگریشن اصلاحات کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوںاور کوئی ایسا راستہ نکالیں گے جس سے ان معصوم بچوں کو والدین سے الگ کرنے کی پالیسی سے بچا جاسکے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو والدین سے علیحدہ حراست میں رکھنے کی پالیسی کا اعلان گزشتہ ماہ امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے کیا تھا اور اس کو روکنے کے لیے کانگریس کے اقدام کی ضرورت نہیں۔
 
 
 
 
اس پالیسی نے ریپبلکنز کو منقسم کر دیا ہے۔ اس پالیسی کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جو والدین بار بار جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ان سے ان کے بچوں کو لے لیاجانا برا نہیں ہے۔بچوں کی اضافی حراست میں مبینہ طور پر شیرخوار اور پاؤں پاؤں چلنے والے بچے بھی شامل ہیں ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پناہ گاہوں اور عارضی ٹھکانوں میں جگہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔جگہ کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکام نے شہر خیمہ بنانے کے منصوبے کا علان کیا ہے تاکہ ٹیکسس کے ریگستان میں جہاں درجہ حرارت مستقل طور پر 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے مزید سینکڑوں بچوں کو رکھا جا سکے۔مقامی قانون ساز جوز روڈریگیز نے اس منصوبے کو مکمل طور پر غیر انسانی اور اشتعال انگیزقرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو کوئی بھی اخلاقی ذمہ داریوں کا حامل ہے، وہ اس کی مذمت کرے گا۔بچوں کو ان کے والدین سے علاحدہ رکھنے کے عمل کی مخالفت کرتے ہوئے ٹیکسس کے ٹورنیلو میں ایک ریلی بھی نکالی گئی۔یہ ریلی اس آبادی کی جانب نکالی گئی جہاں سینکڑوں بچے اپنے والدین کے بغیر رہ رہے تھے۔
بہر کیف امریکی انتظامیہ کا یہ فیصلہ یقینا غیر انسانی تھا اور ان بچوں کے ساتھ ناانصافی بھی جنہیں ہر وقت والدین کے سائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر گناہ والدین کررہے ہیں تو اس کی سز ا والدین کو ہی ملنی چاہئے ،پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آخر یہ گناہ کس مجبوری اور بے بسی کی حالت میں ہوئی ہے ۔لیکن ان بچوں کو ذہنی و نفسیاتی اذیت دینا کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دیگر تنظیموں سمیت خود امریکی صدر کی اہلیہ بھی اس قانون کے خلاف بولنے پر مجبور ہوگئیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی کانگریس اس قانون کو نافذ کرنے میں حکومت کا کس حد تک ساتھ دیتی ہے؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here