دیوالی کے بعد بنگال میں مشترکہ تحریک چلائیں گی سی پی ایم اور کانگریس

Share Article

 

مغربی بنگال میں اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس حاصل کرنے کے لئے بائیں بازو پارٹیاں کانگریس کے ساتھ مل مشترکہ تحریک کی حکمت عملی بنانی شروع کر دی ہے۔

دونوں پارٹیوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ دیوالی گزرتے ہی سی پی ایم اور کانگریس مشترکہ طور پرتحریک کے لئے سڑکوں پر اتریں گے۔ ریاست میں بدعنوانی، تشدد، بے روزگاری جیسیے مسائل کو لے کر یہ تحریک چلائی جائے گی ۔ اس میں بایاں محاذ چیئرمین ومان بوس، سی پی ایم پارٹی اراکین کے لیڈر سجن چکرورتی، ریاستی سیکریٹری جنرل سوریہ کانت مشرا کے علاوہ کانگریس کے ریاستی صدر سومین مترا، راجیہ سبھا ایم پی پردیپ بھٹاچاریہ، سابق صدر پرنب مکھرجی کے بیٹے ابھیجیت مکھرجی سمیت پارٹی کے دیگر قد آور لیڈر شامل ہوں گے۔

دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ پوری ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے خلاف مشرکہ جنگ چھیڑیں گی۔ کانگریس کے ریاستی صدر سومین مترا نے بتایا کہ ابھی ہم کم از کم مشترکہ پروگرام تیار کرنے کے عمل میں ہیں، جس کی بنیاد پر مشترکہ تحریک یا سیاسی پروگرام کئے جائیں گے۔ یہ یکطرفہ معاملہ نہیں ہوگا،یہ دوطرفہ بات ہوگی اوردونوں فریق مل کر فیصلہ کرے گے۔ دیوالی کے فورا بعد ہم ریاست بھر میں اپنا پہلی مشترکہ تحریک شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے بی جے پی ریاست میں زمین تیار کر رہی ہے، یہ ضروری ہے کہ سی پی ایم اور کانگریس فرقہ وارانہ افواج کو روکنے کے لئے ایک ساتھ آئیں۔ انہوں نے ممتا بنرجی پر ریاست کے حالات بگاڑنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صرف سی پی ایم اور کانگریس مل کر اس فرقہ وارانہ فساد کو روک سکتی ہیں اور ریاست کے لوگوں کے مفاد میں ہم ایسا ضرور کریں گے۔

سی پی ایم کے سینئر لیڈر سجن چکرورتی نے ریاست میں بی جے پی کی مضبوطی کے لئے ترنمول کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترنمول کانگریس ہے جس نے بنگال میں بی جے پی کو بڑھنے میں مدد کی۔ ترنمول اور بی جے پی کے درمیان جنگ جعلی ہے، جس کا مقصد لوگوں کو بیوقوف بنانا ہے۔ یہ ایسا وقت ہے کہ جب سیکولر اور جمہوری قوتوں کو ایک ساتھ آنا چاہیے۔ سی پی ایم کے ایک اور رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کانگریس اور بائیں بازو جماعتوں کے سرکردہ لیڈروں کے درمیان مسلسل میٹنگیں ہو رہی ہیں۔ کئی طرح کی اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں۔ اس کا جلد ہی نفاذ پوری ریاست میں کیا جائے گا۔ یہ ریاست کے لوگوں کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ مغربی بنگال میں بڑی آبادی ایسی ہے جو نہ تو ترنمول کانگریس اور نہ ہی بی جے پی کو ریاست کے اقتدار پر دیکھنا چاہتی ہے۔ ان لوگوں کے لئے سی پی ایم اور کانگریس کا مشترکہ اتحاد ایک آپشن ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ سال 2019 میں ختم ہوئے لوک سبھا انتخابات میں لیفٹ پارٹیوں نے ریاست کی 42 میں سے 40 سیٹوں پر امیدوار اتارا تھا اور 39 سیٹوں پر ضمانت ضبط ہو گئی تھی۔ اسی طرح سے کانگریس ریاست میں محض 2 سیٹوں پر جیت درج کر سکی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *