’گؤرکشکوں نے 3 سال میں مار ڈالے 44 ، پی ایم دیکھتے رہے:ہیومن رائٹس واچ

Share Article
protectors-killed
بھلے ہی وزیر اعظم’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کا نعرہ دیتے رہے ہو، لیکن گؤ رکشا کے نام پر ان کے پانچ سال کی مدت میں جو کچھ بھی ہوا ہے وہ ان کی شبیہ پر بد نما داغ ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ جاری کر دعویٰ کیا ہے کہ، بھارت میں تین سالوں میں مبینہ گؤرکشک تنظیموں نے کم سے کم 44 لوگوں کے قتل کر دیا، جو کوئی بھی ان ہلاکتوں میں ملوث تھا انہیں قانونی ایجنسیوں اور’ہندو قوم پرست رہنماؤں‘کی طرف سے حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ رپورٹ 104 صفحات کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 36 مسلم فرقے سے تھے۔
اس رپورٹ کے مطابق،مئی 2015 سے لے کر دسمبر 2018 کے درمیان 100 سے زیادہ حملوں میں 280 افراد زخمی ہوئے ہیں، حالانکہ رپورٹ میں پرانے اعداد و شمار یا کسی مدت کی تقابلی معلومات نہیں دی گئی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کی ایسے واقعات میں ملوث لوگوں کو حکمران بی جے پی کی مکمل حمایت ہے۔پی ایم نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی ہندوؤں کے ذریعہ پوجے جانے والی گائے کی حفاظت کے لئے پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا کہ بی جے پی کے فرقہ وارانہ بیان بازیوں کی وجہ سے بیف کھانے کی مخالفت پرتشدد مہم شروع ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ گؤرکشکوں کے نام پر تشدد کرنے کے ملزمان کے خلاف پولیس اکثر کارروائی کرنے میں کوتابرتی ہے، وہیں بہت سارے بی جے پی لیڈر عوامی طور پر ان حملوں کو جائز قرار دیتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، اس طرح کے تشدد سے دلت اور قبائلی بھی شکار ہیں۔ ایک انسانی حقوق کارکن نے غیر ملکی میڈیا تنظیم کو بتایا کہ کئی قتل کے ویڈیو تک بنائے گئے، جو بعد میں وائرل ہو گئے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں گورکشکوں کے دیہی معیشت کے اثر کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے،حالانکہ اپنی تقریر میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی خود گؤرکشا کے نام پر ہو رہے تشدد کی مخالفت کر چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ گؤرکشا کے نام پر ایسی کارروائی قابل قبول نہیں ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *