دلیپ چیرین
مسلسل ہو رہے انکشافات نے پبلک سروس سے متعلق افسران کو پریشان کر دیا ہے۔جس کے نتیجے میں پبلک سروس میں مسلسل آ رہی گراوٹ سے سابق نوکر شاہ فکر مند نظر آ رہے ہیں اور سپریم کورٹ سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے۔ زیادہ تر مبصرین اسے ایک غیر معمولی قدم مانتے ہیں۔سابق کابینی سکریٹری ٹی ایس آر سبرامنیم اور دیگر82سابق نوکرشاہوں ، جن میں ریٹائرڈ الیکشن کمشنر ، ڈپلومیٹ، چیف سکریٹری اور پولس افسران شامل ہیں، نے سپریم کورٹ سے انتظامی اصلاحات جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق درخواست گزاروں میں ٹی ایس آر سبرامنیم کے علاوہ سابق چیف الیکشن کمشنر کرشن مورتی اور این گوپال سوامی ، سابق سی بی آئی ڈائریکٹر جوگندر سنگھ، سابق سینئر پولس آفیسر اور منی پور کے گورنر ویدمارواہ کے نام شامل ہیں۔ ظاہر ہے یہ سابق نوکر شاہ اکیلے ایسے لوگ نہیں ہیں جنہوں نے بہتر انتظامیہ میں آ رہے تعطل کو لیکر پہلے کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ لیکن امید ہے کہ اس بار ان کی اجتماعی کوششیں رنگ لائیں گی۔گزشتہ دنوں جس طرح سپریم کورٹ نے بدعنوانی سے متعلق کئی معاملوں میں فیصلہ کرتے وقت سخت رخ اپنایا ، اس سے ایک امید تو جاگتی ہی ہے۔کم سے کم ان سابق نوکرشاہوں کو یہ امید تو ہے کہ شاید کورٹ کے سخت رخ سے ہی انتظامی اصلاحات کی رفتار تھوڑی اور بڑھ جائے۔
اعلیٰ سطح پر بدبو
یہ  وقت ہماری کچھ عوامی شعبہ کی اکائیوں(پی ایس یو) کے لیے اچھا نہیں مانا جا سکتا۔ حال فی الحال میں کچھ پی ایس یو کے چیف غلط وجہ سے سرخیوں میں چھائے رہے۔سب سے بڑا جھٹکا تھا نالکو کے سابق چیئر مین او رمنیجنگ ڈائریکٹر اے کے شریواستو اور ان کی بیوی کی گرفتاری۔ان دونوں پر رشوت خوری کے الزامات تھے۔ابھی سی بی آئی نے جانچ شروع ہی کی تھی کہ ایک اور معاملہ سامنے آگیا۔ کوئلہ کی وزارت کے نوکر شاہ سی بی آئی کو ویسٹرن کول فیلڈس لمیٹڈ کے چیف ڈی سی گرگ کے خلاف کیس درج کرنے سے روکنے کی کوشش کررہے تھے۔جبکہ وجیلنس افسران نے سی بی آئی سے کیس درج کرنے کی سفارش کی تھی۔ذرائع کے مطابق سی بی آئی کے پاس چیف وجیلنس افسر کی رپورٹ سے ملے وافر ثبوت ہیں۔یہ ثبوت بتاتے ہیں کہ کیسے گرگ نے ایک پرائیویٹ کانٹریکٹر کی طرفداری کی اور جس کی وجہ سے کوئلہ سے متعلق پی ایس یو کو بھاری خسارہ اٹھانا پڑا۔ایک سال پہلے ہی سی بی آئی کے ایک سینئر افسر نے کوئلہ کی وزارت کے سکریٹری سی بالا کرشنن کو خط لکھ کر گرگ کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ذرائع کے مطابق تب سے یہ فائل آگے نہیں بڑھی۔حالانکہ سی بی آئی نے اس بارے میں کئی باریاددہانی بھی کرائی۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر اشونی کمار نے بھی اپنی طر ف سے یاد دہانی کرائی تھی لیکن کچھ نہیں ہوا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here