کونسل کا لانگ مارچ

Share Article

اعجاز حفیظ خاں
ایک سونامی آیا اور گزر بھی گیا ۔ نہ کوئی پھول کھلا ،نہ کوئی پتا ہلا ۔نہ بات بنی ،نہ رات سجی ۔نہ کوئی فسانہ،نہ کوئی بہانہ اور نہ ہی ’’کسی ‘‘ کا آنا۔ کئی بار عرض کر چکے ہیں کہ اب 1977ء کا زمانہ نہیں ہے ،جب ایک شخص کی خوشنودی کے لئے تحریک چلائی گئی۔شروع میں وہ چھپ کر سب کچھ کر رہا تھا ۔5جولائی کو پاکستان کا یہ بروٹس منظر ِ عام پر آگیا ۔اُس کے بعد کے 11سال اس خونچکاں داستاں پر آج بھی ہماری تاریخ خون کے آنسو بہاتی ہے ۔اس پر لکھنے بیٹھ گئے تو سوائے آنسو ئوں کے اور کچھ نہیں رقم ہو گا ۔البتہ یہ ضرور عرض کریں کہ ڈکٹیٹر ضیا نے مذہب کے نام پر پاکستان کو سوائے رسوائی کے اور کچھ نہیں دیا ۔احسان فروشی کی اس سے پہلے بھی کئی مثالیں ہیں ۔لیکن اپنے محسن کا قتل کسی نے نہیں کیا تھا ۔احسان فراموشی کی روایت آج بھی جاری ہے ۔ تمام سیاست دانوں کے حضور عرض کریں گے کہ اب وہ اس کام سے توبہ کر لیں ۔جب بھی کسی پر احسان کیا گیا، اُس سیاست دان کے ساتھ اُس نے جو کیا سو کیا ،اس کی سزا پیارے عوام نے بھی کاٹی ۔کاٹنے کا یہ عمل اب بھی ’’رواں دواں ‘‘ ہے۔ ایک سوال کہ اس میں پیارے عوام کا کیا قصور ہے۔ایک بار پھر سے عرض کریں گے کہ سیاست دان اس عمل سے توبہ کر لیں ۔اس سے پاکستان کو فائدہ ہو گا ۔اُس کے پیارے عوام کو فائدہ ہو گا ۔

بہت سے خواتین و حضرات دفاع پاکستان کونسل کے لانگ مارچ کے ’’مثبت نتائج ‘‘ نہ ملنے سے غمگین ہیں ۔اب انہیں عمران خان صاحب کے سونامی عرف لانگ مارچ کا انتظار ہے ۔رسمی طور پر وہ نیٹو سپلائی کی بحالی پر گوجرانوالہ میں احتجاج کر چکے ہیں لیکن وہاں پر بھی بات نہیں بن سکی۔ بات بنتی بھی کیسے۔ پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ ’’وہ عمران خان سے بھی ملے ہیں اور نواز شریف سے بھی اور دونوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ امریکہ کے مکمل حامی ہیں ‘‘۔

پھول سمجھ کو احسان کیا جاتا ہے ،اور کانٹے بن پر اُس کا جواب دیا جا تا ہے ۔دفاع پاکستان کونسل کا لانگ مارچ رات کے کسی پہر اسلام آباد میں ختم ہو گیا۔ اس بات کی خوشی ہے کہ سب کچھ خیریت سے گزری ۔ عرض ہے کہ پر امن احتجاج بھی کسی سونامی سے کم نہیں ہوتا ۔الیکشن کا دن انقلاب کی صورت میں ظہور پذیر بھی ہو سکتاہے ۔لگتا ہے کہ انہوں نے سرکار سے کئے گئے اپنے وعدے کی پوری طرح سے پاس داری کی ۔ جو کسی بڑی خبر کے انتظار میں تھے، اُن کا حال … یہ بات لانگ مارچ کی طرح یہیں پر ختم کر دیتے ہیں ۔ویسے بھی ہم ڈپریشن پھیلانے کے شدید خلاف ہیں ۔بہر کیف اتنا سچ کہیں گے کہ دفاع پاکستان کونسل کا ’’تاریخ ساز ‘‘لانگ مارچ ، رات کی تاریکی کی نذر ہو گیا۔پچھلے دنوں انہوں نے اپنے بڑے بڑے جلسوں سے ملک کی سیاست میں بھی بھرپور طریقے سے شریک ہونے کا اعلان کیا تھا۔نظر تو یہی آ رہا ہے کہ یہ بھی لانگ مارچ کی طرح کا کوئی خواب ہو گا ۔جمہوریت میں تو ہر کسی کو خواب دیکھنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیںکہ دوسروں کی نیندکو ڈسٹرب کیا جا ئے۔اوپر سے آج کل تو گرمیاں بھی ہیں ۔جس پر لوڈ شیڈنگ کا ’’حُسن ‘‘ پوری طرح سے چڑھا ہواہے۔ ایسے میں رات سے خوف تو آئے گا۔
بہت سے خواتین و حضرات دفاع پاکستان کونسل کے لانگ مارچ کے ’’مثبت نتائج ‘‘ نہ ملنے سے غمگین ہیں ۔اب انہیں عمران خان صاحب کے سونامی عرف لانگ مارچ کا انتظار ہے ۔رسمی طور پر وہ نیٹو سپلائی کی بحالی پر گوجرانوالہ میں احتجاج کر چکے ہیں لیکن وہاں پر بھی بات نہیں بن سکی ۔ بات بنتی بھی کیسے ۔پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ ’’وہ عمران خان سے بھی ملے ہیںاور نواز شریف سے بھی اور دونوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ امریکہ کے مکمل حامی ہیں ‘‘۔عمران خان صاحب کے سونامی کا خواب دیکھنے والوں کی اس بیان سے کیاآنکھیں کھل جائیں گی ؟ہم کئی ماہ سے ان کے مداحوں کے مشق ِ ستم بنے ہو ئے ہیں ۔بلاشبہ انہیں اختلاف رائے کا پوراحق حاصل ہے لیکن اس کامطلب ہر گز یہ نہیں کہ فحش الفاظ کا استعمال کیا جا ئے ۔بہر کیف ابھی عمران خان صاحب کے سونامی کی امید باقی ہے لیکن اس کے لئے ان کی شرط بڑی کڑی ہے ۔’’جب حکمران سپریم کورٹ پر حملہ کریں گے تب سونامی آئے گا ‘‘۔عرض ہے کہ پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت ایسا کیوں کرے گی۔اُس نے تو ججوں کو پہلے دن ہی رہا کیا اور پھر اُس کے بعد بحال کیا ۔جناب یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ کا یہ کریڈ ٹ ہے ۔وہ خود پھرسپریم کورٹ کے فیصلے سے نہ صرف اپنی وزارت عظمیٰ گنوا بیٹھے بلکہ پانچ سال کے لئے نااہل بھی ہو گئے ۔جس حکومت نے سپرم کورٹ پر حملہ کیا تھا، عمران خان صاحب اور وہ دونوں پیپلز پارٹی کی حکومت کے کسی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کی دائر رِٹ میں یکجا ہو تے ہیں اوراپنے جلسے میں لیگ(ن) سے اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ‘‘۔’’اندر ‘‘ اور ’’باہر ‘‘ کا مشترکہ ایجنڈا کب عوام کے سامنے آئے گا ؟اس قسم کی سیاست بھی پیارے عوام کے لئے کسی درد سے کم نہیں۔
ایک خبر کے مطابق ’’ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے کہا ہے کہ ’’اگر انہیں نگران وزیراعظم کی پیش کش ہوئی تو وہ اُس پر غور کریں گے ‘‘۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اُن کے اس بیان پر بڑی حیرت ہوئی ۔اب نگران وزیراعظم کے لئے حکومت اور اپوزیشن کامتفق ہونا ضروری ہے ۔بلاشبہ ایک خاص مائنڈ سیٹ کی وجہ سے انہیں ’’محسن ِ پاکستان ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔لیکن اندرونی و بیرونی طور پر اُن کی شخصیت انتہائی متنازعہ ہے ۔ایسے میں نگران وزیر اعظم کی پیش کش ؟یہ کیسے ممکن ہے ۔اُن کے پسندیدہ سیاست دان چوہدری شجاعت حسین ہیں ۔اُن کی کوششوںسے حکومت کی رضا مندی کے لئے تو کچھ کیا جا سکتا ہے ۔مسلم لیگ (ن) کو کو کون منائے گا ؟ڈاکٹر صاحب ان کی قیادت پر دبائو سے ایٹمی دھماکے کرنے کا کئی بار کہہ چکے ہیں ۔ہماری رائے میں بہتر یہی ہے کہ ڈاکٹر صاحب مشورے دینے کی بجائے اپنی کوئی سیاسی جماعت بنا لیں۔اس طرح سے انہیں بھی پاکستان کی بے رحم سیاست کا علم ہو جا ئے گا یا پھر وہ بھی دفاع پاکستان کونسل کا حصہ بن جا ئیں ۔ g
(کالم نگار پاکستان کے سینئر صحافی ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *