بد عنوانی سعودی ولی عہد کا بھی پیچھا کررہی ہے

Share Article

سعودی عرب میں بدعنوانی کے نام پر شہزادوں اور وزراء کی گرفتاری کا حکم دینے والے ولی عہد محمد بن سلمان ذاتی زندگی میں نہ صرف عیش و عشرت کے دلدادہ ہیں بلکہ ان کے پاس اس وقت دنیاکا مہنگا ترین محل بھی فرانس میںموجود ہے۔ اس محل کی قیمت تقریباً30 کروڑ ڈالر یعنی 20ارب روپے بتائی جاتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد عوامی طور پر سادگی اور کفایت شعاری کا درس دیتے نظر آتے ہیں مگر ان کے قول و فعل میں شدید تضاد پایا جاتاہے۔ ابھی چند روز قبل ہی انکشاف ہوا تھا کہ سعودی ولی عہد نے حضرت عیسی کی ایک پنٹنگ 45 کروڑ ڈالر میں خریدی ہے ۔ ابتدائی انکشاف سے یہ پتہ چلا کہ محمد بن سلمان نے فرانس میں ایک لگژری محل خرید لیا ہے ۔انہوں نے جس محل کو خریدا ہے وہ اپنی نوعیت کا گراں قیمت محل ہے جس میں ایک سنہری فوارہ قیمتی سنگ مرمر کے مجسمے اور ایک وسیع عریض پارک اورحسین نظاروں کے لئے دیگر کئی سہولتیں دستیاب ہیں۔ یہ محل 1.57 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ محل آج نہیں بلکہ دو سال قبل خریدا تھا۔ حضرت عیسی کی پنٹنگ کی طرح ہی اس خریداری میں بھی انہوں نے اپنے ایک معاون کی مدد حاصل کی تھی۔ گزشتہ دو سال کے دوران اس کے مالک کی شناخت صیغہ راز میں رکھا گیا ۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ محل 2015 میں خرید اتھا ۔یہ محل شہزادہ محمد سلمان کی فرانس میں موجود متعدد املاک میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 50کروڑ ڈال رکی ایک لگژری کشتی بھی خریدی تھی۔

 

 

 

 

 

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’نیویارک ٹائمز‘ نے پیرس کے مغرب میں واقع محل کو دنیا کا مہنگا ترین گھر قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ اپنے ملک میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے طاقتور ولی عہد کی غیر معمولی قیمتی خریداریوں کی ایک کڑی ہے۔ نئے تعمیر ہونے والے محل کو 2015 میں ایک نامعلوم گاہک نے خریدا تھا اور اس کے مالک کی شناخت کو شیل کمپنیوں کے ذریعے خفیہ رکھا گیا تھا تاہم شاہی خاندان کے مشیروں نے تصدیق کی ہے کہ محل کے خریدار محمد بن سلمان ہیں۔
سعودی عرب کے حکام نے جولائی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ پر ردعمل دینے سے انکار کیا تھا جس میں فرانس کی تحقیقاتی صحافت کی ویب سائٹ میڈیا پارٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ شہزادہ محمد بن سلمان محل کے اصل خریدار ہیں۔فارچون میگزین نے 2015 میں اس محل کی فروخت کے وقت بتایا تھا کہ محل کے فواروں کو آئی فون کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اپنے طرز تعمیر کے لحاظ سے یہ 17ویں صدی کی عمارت دکھائی دیتی ہے۔اس وقت محل کی خریداری کو دنیا کا سب سے مہنگا گھر قرار دیا گیا تھا۔اصل میں عمارت کو 19 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا ۔مگر سعودی عرب کی ایک کمپنی نے اسے خرید کر منہدم کر دیا تھا اور اس کی جگہ نئی عمارت کھڑی کی تھی۔
57 1.ایکٹر پر مشتمل اس محل میں سینیما گھر، ڈیلکس سوئمنگ پول، فوارے، سرنگ اور زیر آب کمرہ ہے جس کی شیشے کی چھت سے پانی میں تیرتی رنگ برنگی مچھلیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ترین پینٹنگ ‘ سلاوتور مندی’ کے خریدار سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔نیویارک ٹائمز کے مطابق محل کو ایٹ انویسٹمنٹ کمپنی کے ذریعے خریدا کیا گیا تھا اور اسی کمپنی کے ذریعے 2015 میں 50 کروڑ ڈالر کی ایک لگژری کشتی خریدی گئی تھی۔

 

 

 

 

 

اس سے پہلے رواں ماہ ہی امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اطالوی آرٹسٹ لیونارڈو ڈاونچی کی بنائی ہوئی دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ ‘سلاوتور مندی’ کے خریدار سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔یاد رہے کہ گذشہ ماہ نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں 500 سال پرانی پینٹنگ 45 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی لیکن نیلام میں خریدنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔
بہر کیف یہ تو چند انکشافات ہیں جو یوروپین اخباروں میں ہوئے ہیں اور نہ جانے شہزادے کے نام اور کتنی جائیدادیں ہیں جو پردہ خفا میں ہیں۔ یوں تو سعودی شہزادوں کے پاس جائیداد کا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے مگر اچنبھے کی بات یہ ہے کہ جو شہزادہ دوسرے شہزادوں اور وزراء و صنعتکاروں کو بد عنوانی کے نام پر گرفتار کرکے جیل بھیج رہے ہیں ،وہ خود بھی آمدنی سے زیادہ جائیدادرکھنے کے معاملہ میں مشتبہ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *