عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی ضروری ہے

Share Article

مولانا ندیم الواجدی
ہمارے دانشور طبقے کو کبھی بھول کر بھی یہ خیال نہیں آتا کہ نونہالانِ قوم کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی دینی چاہیے ، اس کے بر عکس وہ اس نہج پر ضرور سوچتے ہیں کہ طلبۂ مدارس کے لیے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی ضروری ہے ۔ اس موضوع پر اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ اب اخبارات میں صرف اسی کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے ،عصری تعلیم گاہوں کی کوئی بات بھی نہیں کرتا۔ بلاشبہ دینی تعلیم کے ساتھ اگر کچھ ضروری تعلیم عصریات کی بھی ہو جائے تو ہمارے دینی مدارس دین ودنیا کے اس امتزاج کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں خدمت کر سکتے ہیں ،لیکن مدارس کی اصلاح کے چکر میں پڑ کر ہمیں ان بچوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جو محض دنیوی تعلیم میں لگے ہوئے ہیں اور انہیں یا ان کے سر پرستوں ، یا ان کے ٹیچروں کوکبھی بھول کر بھی یہ خیال نہیں آتا کہ ہمارے بچوں کو دین کا اتنا علم ضرور ہونا چاہیے جو انہیں اچھے تعلیم یافتہ انسان کے ساتھ ساتھ اچھا مسلمان بھی بنا سکے۔ اس وقت اخبارات میںہائی اسکول اورانٹر میڈیٹ کے سالانہ نتائج پر کافی کچھ آرہا ہے۔ جو بچے اپنے شہروں میں یا قصبوں میں امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوئے ہیں ان کے فوٹو چھپ رہے ہیں ، انٹرویو شائع کیے جا رہے ہیں ، ہر طرف خوشی کا ماحول ہے۔ جن اسکولوں اور کالجوں کا رزلٹ اچھا رہا ہے ان کی کوششوںکو خوب سراہا جا رہا ہے ، اور جن اسکولوں کا رزلٹ مایوس کن رہا ہے ان پر تنقید کے نشتر بھی چل رہے ہیں۔ پوری قوم عصری تعلیم کے نشے میںسر شار ہے ، جو کچھ ہو رہا ہے ، بہت اچھا ہو رہا ہے ، لگتاہے عصری تعلیم کے تئیں قوم بیدار ہو چلی ہے۔ یقینی طور پر قوم کو انجینئروں کی ، ڈاکٹروں کی اور دوسرے ماہرین کی ضرورت ہے اوریہ ضرورت عصری تعلیم گاہوں سے ہی پوری ہو سکتی ہے۔ ملّت میں عصری تعلیم کے تئیں زبردست بیداری آئی ہے ،یہ بڑی خوش آئند بات ہے اس کی جتنی بھی پذیرائی کی جائے کم ہے ، مگر یہاں کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
عصری تعلیم کے شور میں دین کا پہلو نگاہوں سے اوجھل ہو تا جا رہا ہے ، یہ ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ آج ڈاکٹروں، انجینئروں اور دوسرے پیشہ وروں کی ایسی ٹیم تیار ہو رہی ہے جو صرف نام کے مسلمان ہیں۔ یہ ان کا قصور نہیں ہے ، قصور اس نظام ِ تعلیم کا ہے جس نے ان کا راستہ غیر محسوس طریقے سے الگ کر دیا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد سے ہی ماں باپ کو یہ فکر ستانے لگتی ہے کہ ان کا بچہ اس نظام تعلیم میں کہاں اور کس طرح فٹ ہو گا ،کیوں کہ وہ یہ بات جانتے ہیں کہ اگر اس کے لیے ابھی سے جدوجہد نہ کی گئی تو وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ اس فکر نے ماں باپ کو ان کے اس فرض سے غافل کر دیا ہے کہ وہ اپنے بچے کو ایک اچھا مسلمان بنانے کی سعیٔ پیہم بھی کریں۔ بچہ ابھی ٹھیک سے ہوش بھی نہیں سنبھالتا کہ اسے انگلش میڈیم اسکول میں داخل کر دیا جاتا ہے ، اس اسکول سے وہ بہترین انگریزی بولتا ہوا نکلتا ہے ہندواور عیسائی مذہب کے متعلق اسے بہت سی باتیں معلوم ہو جاتی ہیں لیکن وہ اپنے مذہب سے قطعی بے گانہ رہتا ہے ، ماں باپ یہ سوچ کر خوش ہو تے رہتے ہیں کہ ہمارے بچے نے ترقی کی شاہراہ پر قدم بڑھا دیے ہیں،ان بیچاروں کو یہ معلوم نہیں کہ ترقی کا یہ صرف ایک رخ ہے ، یقیناً ان کا بچہ بڑا ہو کر اچھا پیشہ ور انسان ضرور بنے گا اور لاکھوں کما کر گھر بھر دے گا ، لیکن اس کے دل کی دنیا دین جیسی بیش قیمت متاعِ زندگی سے خالی رہ گئی ہے اسے کون پُر کرے گا ؟
مسلمان اور دین دونوں لازم اور ملزوم ہیں۔ دین کا ایک علم تو وہ ہے جو مکمل نظام کے ساتھ اسلامی مدارس میں جاری ہے ، جہاں مفسر ، محدث ، اور فقہیہ پیدا کیے جاتے ہیں۔ یقیناً یہ بڑا کام ہے اور امت کو دینی رہنمائی کے لیے ماہر علماء کی سخت ضرورت ہے ، مگر یہ ضرورت ایک محدود تعداد پر ختم بھی ہو سکتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے قوم کو میڈیسن ، انجینئرنگ اور لاء وغیرہ کے شعبوں میں ماہرین کی ضرورت ہے ، مگر یہ ضرورت اس وقت پوری ہو سکتی ہے جب ایک معقول تعداد ان ماہرین کی پیدا ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح قوم کے ہر فرد کا ڈاکٹر یا انجینئربننا ضروری نہیں ہے اسی طرح قوم کے ہر فرد کا محدث ، فقیہ، اور مفسر بننا بھی ضروری نہیں ہے ، لیکن بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جو ہر شخص کے لیے ضروری ہیں ، مثال کے طور پر ایک اچھا شہری بننے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ملک کا قانون کن امور کو صحیح اور کن امور کو غلط کہتا ہے ، نہ صرف جاننا ضروری ہے بلکہ صحیح امور پر چلنا اور غلط امور سے بچنا بھی ضروری ہے۔ ملک کا قانون ہمیں فتنہ وفساد اور شر انگیزی سے روکتا ہے ، اور پُر امن بقائے باہم کے اصول پر زندگی گزرانے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس صورت میں ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم ملکی قوانین پر عمل کرتے ہوئے ہر ایسے کام سے بچیں جس سے معاشرے میں فتنہ وفساد پھیلتا ہو اور ہر وہ کام کریں جس سے امن وامان کو فروغ ملتا ہو۔ اسی طرح ہمیں یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ ایک اچھا مسلمان بننے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے ، کن چیزوں کو اختیار کرنا چاہیے اور کن چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے ، یہ وہ ضرورت ہے جس کا اظہار اس حدیث شریف میں کیا گیا ہے’’طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم  (ابن ماجہ ۱/ ۸۱ حدیث نمبر ۲۲۴)  ’’ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ‘‘  اس علم کوجس کا اس حدیث میں ذکر ہے۔ اگر ہم ان علوم پر محمول کریں جو مدارس اسلامیہ میں پڑھائے جا رہے ہیں تو یہ بات نا قابل فہم ہے کہ ان علوم کا حصول تمام مسلمانوں پر فرض کر دیا جائے اور اگر دنیوی علوم مراد لیں جیسا کہ بعض لوگ ’اطلبو العلم ولو کان بالصین‘،’’ علم حاصل کرو اگرچہ چین جانا پڑے ‘‘  جیسی ضعیف احادیث سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ جدید علوم کا حصول بھی فرض کے درجے میں ہے ، کیوں کہ حدیث شریف میں چین جانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے اور چین نہ پہلے علوم دینیہ کا مرکز تھا اور نہ آج ہے ، وہ اُس زمانے میں بھی ٹکنا لوجی کا مرکز تھا اور آج بھی ہے ، اس سے ثابت ہوا کہ اسلام میں جدید علوم کے حصول کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے ، یہ دعویٰ بھی غلط ہے اور استدلال بھی ، دعویٰ تو اس لیے غلط ہے کہ جدید علوم کا حصول سب کے لیے یکساں طور پر ضروری نہیں ہو سکتا ، اور نہ یہ ممکن ہے کہ سب لوگ ایک ہی راستے کے مسافر بن جائیں ، اس طرح تو زندگی کا سفر رک سکتا ہے۔ استدلال اس لیے غلط ہے کہ اگر حدیث کے ضعف کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تب بھی چین اصل میں دوری کی علامت ہے ، منشائِ حدیث یہ ہے کہ علم حاصل کرو اگرچہ اس کے لیے کتنی ہی دور کیوں نہ جانا پڑے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض علوم وہ بھی ہیں جو بلا استثناء سب پر فرض ہیں اور ان کے حصول کے لیے جد وجہد کرنا بھی فرض کے درجے میں ہے ،ہم ان علوم کو دین کی بنیادی تعلیمات سے تعبیر کرسکتے ہیں ۔
قوم کے نوجوان ترقی کی شاہراہ پر تو آگے بڑھ رہے ہیں مگر دین کے راستے سے دور ہو تے جا رہے ہیں ، کیا یہ ممکن نہیںہے کہ ہمارے بچے اس طرح آگے بڑھیں کہ وہ پکے سچے مسلمان بھی ہوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری بھی ، اس کے لیے والدین کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے جو تعلیم کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ بچہ پیدا ہو تو جس طرح آپ کو یہ فکر ہو تی ہے کہ ہمارا بچہ کس مشہور ومعروف اور اعلیٰ معیار کے حامل اسکول میں تعلیم حاصل کرے گا ؟ اسی کے ساتھ آپ کو یہ فکر بھی ہونی چاہیے کہ آپ کا بچہ دین دار کیسے بنے گا ؟ یاد رکھئے اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان بننے میں اور دین دار بننے میں کوئی تضاد نہیں ہے ،ایک بچہ دین داری کے ساتھ دنیا داری کے تقاضے بھی پورے کر سکتا ہے ،اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ، لیکن وہ اتنی کم ہیں کہ ہم انہیں قابل تقلید نمونہ تو کہہ سکتے ہیں مگر ان پر قناعت نہیں کر سکتے ،ان مثالوںکوعام کرنے کے لیے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے ۔
اس وقت ملت کے سامنے سب سے اہم کام یہ ہے کہ مسلمان نر سری اسکولوں سے لے کر کالج کی سطح تک تمام ادارے اپنے قائم کریں ، پھر ان اداروں میں دینیات کو لازمی مضمون کی حیثیت سے اختیار کریں۔ اگر بچے کو نرسری سے لے کر کالج کی سطح تک دینی تعلیم دی جاتی رہی تو جس وقت وہ عملی زندگی میں قدم رکھے گاہراعتبار سے مکمل انسان ہو گا ، ایک ایسا انسان جس کے اندر تعلیمی صلاحیت بھی ہو گی ، تہذیبی شعور بھی ہو گا ، اور دین کی سمجھ بھی ، یہ نوجوان نہ صرف اپنے والدین کے لیے دنیا وآخرت میں متاعِ گراں مایہ ثابت ہو گا بلکہ قوم وملت کے لیے بھی باعث افتخار بنے گا ۔
عصری علوم کے مدارس میں یہ غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے کہ اگر ان میں مذہبی تعلیم دی جائے گی تو حکومت ان کو جو مالی تعاون دیتی ہے وہ بند ہو جائے گا، اور ہو سکتا ہے ان اداروں کی منظوری بھی ختم ہو جائے ، یہ بڑی غلط فہمی ہے ، دستور ہند کے آرٹیکل ۲۸؍ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ایسے تعلیمی ادارے جنہیں اقلتیں چلا رہی ہیں اور جو حکومت سے منظور شدہ ہیں اور جنہیں حکومت کی امداد مل رہی ہے ان میں مذہبی تعلیم دی جا سکتی ہے۔ یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ اقلیتوں کو اپنے اداروں میں مخلوط تعلیم سے حتی الامکان بچنا چاہیے۔ مخلوط تعلیم اس دور کا وہ فتنہ ہے جس نے معاشرے کو اخلاقی اعتبار سے تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ہے۔ آج جدید تعلیم یافتہ معاشرے میں جس قدر برائیاں عام ہیں وہ ان ہی دو چیزوں کی وجہ سے ہیں، ایک دینی تعلیم سے دوری اور دوسرے طلبہ وطالبات کا آزادانہ اختلاط ومیل وجول۔ ہم دینی تعلیم کو اپنے اداروں کے نصاب تعلیم کا لازمی جز بنا کر اور مخلوط تعلیم سے دور رہ کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو ایک طرف جدید تعلیم یافتہ بھی ہو اور دوسری طرف اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والا بھی ۔
یہ وقت تعلیمی سر گرمیوں کے آغاز کا زمانہ ہے ، کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے بچے ایسے ماحول میں تعلیم حاصل کریں جو دین کی آمیزش سے تیار کیاگیا ہو ۔اگر کسی جگہ اسکولوں اور کالجوں میں یہ ماحول میسر نہیں آتا تو گھر کی فضائوں میں یہ ماحول بنانا ضروری ہے۔ اگر بچے اس ماحول سے محروم رہ گئے تو وہ آپ کی خواہش کے مطابق اچھا ڈاکٹر یا انجینئر یا قانون داں یا اکاؤنٹنٹ تو بن جائے گا مگر ایک اچھا مسلمان نہ بن سکے گا ، اور اس کی تمام ترذمہ داری آپ پر ہو گی، والدین کی حیثیت سے آپ اس ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتے اور نہ آخرت کی جواب دہی سے دامن بچا سکتے ہیں۔
ہمارے ملک میں مسئلہ صرف یہی نہیں ہے کہ عربی مدارس کے نصاب تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ عصری تعلیم کے اداروں کے نصاب تعلیم کو بھی دینی تقاضوں سے مربوط کیا جا ئے ، دونوں ہی مسئلے اہم ہیں دونوں پر بہ یک وقت توجہ دینے کی ضرورت ہے ، اگر مدارس میں عصری علوم کی شمولیت پر علماء اور ذمہ داران مدارس کو غورکرنا چاہیے تو عصری تعلیم گاہوں میں دینی علوم کے اضافے کے موضوع پر دانشوروں اور ماہرین تعلیم کوبھی توجہ دینی چاہیے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *