کانگریس کی چار رکنی کمیٹی کی اگنی پریکشا

Share Article

سنتوش بھارتیہ
شریمتی سونیا گاندھی امریکہ میں اپنی بیماری کے بعد صحت یاب ہورہی ہیں۔ انہوں نے ہندوستان میں کانگریس پارٹی کو چلانے کے لیے چار رکنی کمیٹی بنائی۔ ان کی غیر موجودگی میں پارٹی کا سارا کام یہ کمیٹی دیکھنے والی ہے اور اہم فیصلے لینے والی ہے۔ اس کمیٹی میں راہل گاندھی ، اے کے انٹونی، جناردن دویدی اور احمد پٹیل ہیں۔ ترتیب میں دیکھیں تو پہلا نمبر راہل گاندھی کا، دوسرا احمد پٹیل ، تیسرا جناردن دویدی اور چوتھا اے کے انٹونی کا ہونا چاہیے۔اے کے انٹونی اس کمیٹی میں اس لیے رکھے گئے ہیں کیونکہ اے کے انٹونی کو سونیا گاندھی کا سب سے وفادار مانا جاتا ہے، اور دس جن پتھ کی رائے میں سب سے بے ضرر اگر کوئی آدمی ہے تو وہ اے کے انٹونی ہیں۔لیکن اس کمیٹی کو بنانے میں سونیا گاندھی سے ایک چوک ہوگئی۔ چوک سونیا گاندھی کی نظر میں نہیں ہوئی ہوگی، لیکن یہ چوک کانگریس کے کارکنان کی نظر میں ہوئی ہے۔ اتر پردیش میں انتخاب آنے والے ہیں۔ اسمبلی کے انتخابات میں جانے یا انجانے میں راہل گاندھی نے اپنی ساکھ اترپردیش کے انتخاب کے ساتھ جوڑ دی ہے ۔ راہل گاندھی کچھ جگہوں پر جاسکتے ہیں۔ راہل گاندھی کے جانے سے انتخاب جیتا نہیں جا سکتا،ہوا بنائی جاسکتی ہے۔ اگر ہوا بنتی ہے تو اس کو کنسولڈیٹ کون کرے گا۔اتر پردیش میں اس وقت جو ٹیم کام کر رہی ہے اس کے پیشوا دگ وجے سنگھ ہیں ، پرویز ہاشمی ہیں اور اسی کے بعد اتر پردیش کے عہدیداران کے نام آتے ہیں۔ اگر اس چار رکنی کمیٹی کو سونیا گاندھی نے پانچ رکنی بنا دیا ہوتا اور اس میں دگ وجے سنگھ کو بھی رکھ دیا ہوتا تو اترپردیش کے تمام کارکنان میں یہ پیغام جاتا کہ دگ وجے سنگھ کا اتر پردیش کے انتخاب میں ایک بڑا رول ہونے والا ہے۔
حالانکہ سچ یہی ہے کہ اتر پردیش کے انتخاب میں اگر راہل گاندھی کے نمائندے کے طور پر کسی کا رول ہے تو وہ دگ وجے سنگھ ہیں۔انہوں نے اتر پردیش کے ضلع  ضلع ، قصبے قصبے میں کئی میٹنگیں کی ہیں۔ وہاں پر انہوں نے سمیکرن بنائے ہیں۔ کارکنوں کو کھڑا کیا ہے۔ پارٹی کو تیز رفتاری میں لانے کے لیے اپنی ساری طاقت لگا دی۔ لیکن مجموعی طور پر کانگریس پارٹی اترپردیش میں ابھی بھی بیہوشی کی حالت میں ہے۔ بیہوشی کی حالت میں اس لیے کہ اترپردیش کے کانگریس لیڈروں کے سامنے کوئی روڈ میپ نہیں ہے، جس کی وجہ سے کانگریسی کارکنان میں جوش پیدا ہوسکے۔ ابھی تک کانگریس کارکنان کو یہ نہیں پتہ ہے کہ وہ انتخاب ملائم سنگھ کے ساتھ لڑیں گے یا مایا وتی کے ساتھ یا پھر اکیلے لڑیں گے۔ اکیلے لڑنے کی طاقت کانگریس میں کم دکھائی دیتی ہے ، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ اگر ایک اسمبلی امیدوار کو 20  سے 25  لاکھ روپے پارٹی دے دے تو وہ اپنے پوسٹر بینر تو چھپوا سکتا ہے ،جیپوں پر لوگوں کو گھما سکتا ہے لیکن پوسٹر بینر اور جیپوں کے گھومنے سے ووٹ نہیں ملتے۔ووٹ کے لیے ضروری ہے ساکھ ہو، ایسی ساکھ والے ڈھائی سو، تین سو ، چار سو کارکنان اتر پردیش میں ان دنوں کانگریس کے پاس ہیں یا نہیں، کہا نہیں جا سکتا۔خود کانگریسی کارکنان کو یہ نہیں پتہ۔دراصل انتخاب لڑنے والی ایک نئی پیڑھی پیدا ہوگئی ہے ۔ یہ پیڑھی ہے ٹھیکیداروں کی۔اسکارپیو والوں کی، بولیرو والوں کی۔ یہ پیڑھی ان کی نہیں ہے جو جیل جاتے ہیں یا کانگریس کے لیے کام کرتے ہیں۔کانگریس کے لیے میٹنگ کرتے ہیں۔یہ وہ ہیں جو میٹنگ کرنے والوں یا پوسٹر چپکانے والوں کے لیے فائننس کرتے ہیں۔ ایسے لوگ انتخاب میں ٹکٹ مانگنے کے لیے آگے آجاتے ہیں۔ پارٹی بھی پوچھتی ہے، تم کتنا خرچ کر سکتے ہو؟ ہر پارٹی کے سامنے یہی خطرہ ہے۔ کانگریس  کے سامنے یہ خطرہ زیادہ ہے، کیونکہ کانگریس کی مرکز میں حکومت ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر ہمیں ٹکٹ مل گیا یا ہم نے ٹکٹ پانے میں بازی مارلی،تُکّابھڑ گیا تو ودھان سبھا میں پہنچ جائیں گے اور اگر ودھان سبھا میں نہیں پہنچے تو دہلی میں کم سے کم یہ کہنے کے لائق ہوجائیں گے کہ ہم اتنے ووٹ لائے اور آگے اتنے ووٹ لائیں گے۔ اس طرح دہلی کے اقتدار کے گلیارے میں کچھ کام کرنے یا کروانے کی حیثیت میں آجائیں گے۔ اس سے پارٹی نہیںکھڑی ہوتی۔ اس سے تنظیم نہیں بنتی۔ کانگریس کی مجبوری یہ ہے کہ کانگریس تنظیم کیسے بنائے۔ اس کے بارے میں کانگریسی لیڈروں میں ہی اتفا ق رائے نہیں ہے۔ایک سیدھا راستہ ہے۔ اتر پردیش سے کانگریس کے تقریباً 20 ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ ان بیس ممبران پارلیمنٹ کو اگر اتر پردیش میں ضلع بانٹ دیے جائیں اور ان ممبران پارلیمنٹ سے کہا جائے کہ وہ انہی اضلاع میں رہ کر ہی کانگریس کی تنظیم بنائیں، انہی اضلاع میں رہیں۔ ممبران پارلیمنٹ کے پاس وسائل بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ وسائل اکٹھا کر سکتے ہیں اور اس حالت میں، جو منتخب لوگ ہیں وہ وہاں کے لوگوں کی نبض بھی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔اگر کانگریس پارٹی ان کا استعمال کرے تو ابھی بھی پارٹی بیہوشی کی حالت سے نکل سکتی ہے۔ لیکن کانگریس شاید بیہوشی کی حالت سے نکلنا نہیں چاہتی۔ وہ کسی بیساکھی کی تلاش میں ہے۔ اس چار رکنی کمیٹی، جو سونیا گاندھی کی غیر موجودگی میں بنی ہے یا شریمتی سونیا گاندھی نے پارٹی کا کام کاج چلانے کے لیے بنائی ہے، کو یہ فیصلہ لینا پڑے گا کہ جب تک سونیا گاندھی دہلی واپس نہیں آجاتیں اور پارٹی کے کام کاج میں جب تک سرگرم حصہ نہیں لیتیںتب تک کیا اتر پردیش کے انتخاب  میں کچھ نئے عناصر جوڑے جا سکتے ہیں۔ پارٹی کو کھڑا کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اگر کمیٹی یہ کام نہیں کرتی ہے تو کمیٹی کیا کرے گی۔ یہ کمیٹی سی اے جی رپورٹ میں جن کے نام ہیں، جس میںایک نام شیلا دکشت کا بھی ہے، اس کے بارے ٰمیں کوئی فیصلہ لے گیکیا؟ یہ کمیٹی گجرات میں ہونے والے انتخاب کو دھیان میں رکھ کر کوئی حکمت عملی بنائے گی کیا؟کیا یہ کمیٹی اس سے بھی آگے بڑھ کر 2014  میں جب پارلیمنٹ کا انتخاب سر پر ہوگا، کیا اس کے لیے ابھی سے کوئی حکمت عملی بنائے گی؟کیونکہ عام طور پر کانگریس کے کارکنان کا ماننا ہے کہ ان کی پارٹی کے لیے دوبارہ اقتدارمیں آنا مشکل ہے۔ مہنگائی جتنی بڑھی ہے ، جس طرح سے بد عنوانی کے معاملے کھل رہے ہیں، جس طرح سے کانگریس کے کچھ بڑے لوگ ان میں ملوث دکھائی دے رہے ہیں۔ جو سرکار چلاتے ہیں اسے دیکھتے ہوئے کانگریس اگر یہ مانے کہ دوبارہ اکثریت سے آئے گی اور راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنادے گی تو یہ کانگریس سوچ سکتی ہے، کانگریسی کارکن نہیں سوچ رہا ہے۔ اس کمیٹی کے سامنے اہم کام ہے پارٹی کو اس ذہنیت سے باہر نکالنا۔اگر یہ کمیٹی ناامیدی کی اس ذہنیت سے اتر پردیش میں یا ملک میں پارٹی کو نکال سکتی ہے تو یہ کمیٹی ایک نئی طرح کی شروعات کرے گی۔ اور وہ شروعات ہے اجتماعی قیادت کی، حالانکہ کانگریس میں اجتماعی قیادت کا تصور کرنا دن میں خوا ب دیکھنے جیسا ہے۔ راہل گاندھی چونکہ اس کمیٹی میں ہیں، اس لیے یہ امکان دکھائی دیتا ہے کہ راہل گاندھی اپنے تجربے کو، جتنا تجربہ گزشتہ 3-4 سالوں میں ملک میں گھوم کر لیا ہے ، اور باقی تین لوگوں کے لمبے تجربے کو ایک ساتھ ملاتے ہیں تو ایک اجتماعی قیادت ابھرے گی۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قیادت راہل گاندھی کی ہوگی لیکن باقی تین لوگوں کا فیصلہ بھی اس میں شامل ہوگا۔اور وہ فیصلہ راہل گاندھی کا نہیں ہوگا۔ چار رکنی کمیٹی اپنے کام کو آگے بڑھانے کے لیے پارٹی کے اور کتنے سینئر لیڈروں کو اپنے ساتھلیتی ہے، یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا۔ اس کمیٹی میں اگر کوئی مسلم لیڈر شامل ہوتا تو اسی کا بھی اثر پڑتا، کیوںکہ اتر پردیش میں کانگریس کو مسلم ووٹوں کی بہت ضروت ہے۔ اگر کانگریس کو مسلم ووٹ چاہیے تو اسے مسلم قیادت کھڑی کرنی پـڑے گی۔ آج اترپریش میں کانگریس کے پاس مسلم قیادت نہیں ہے۔ کانگریس کے پاس پسماندہ طبقے کی بھی قیادت نہیں ہے۔ بینی پرساد ورما ہیں، لیکن انہیں لیڈر کے رول میں کانگریس نہیں دیکھ رہی ہے۔ کانگریس صدر کا اپناالمیہ ہے،کوشش بہت کرتی ہیں لیکن کوشش کامیاب نہیں ہورہی ہے۔ اتر پردیش کے ساتھ گجرات اور پھر ملک، کانگریس کی اس چار رکنی کمیٹی کی یہی اگنی پریکشا ہے ۔ اگر اس نے سونیا گاندھی کے آنے تک کوئی بھی نیا فیصلہ نہیں لیا یا کانگریس میں جان پھونکنے کی کوئی نئی کوشش نہیں کی تو مانا جائے گا کہ کانگریس میں اجتماعی قیادت جیسی چیز اس کے لیے بیکار ہے۔ اس کے لیے اس کاکوئی مطلب نہیںہے۔ لیکن بھروسہ کرنا چاہیے کہ جناردن دویدی ، اے کے انٹونی ، احمد پٹیل اور راہل گاندھی مل کر شاید بیہوشی کی حالت میں پڑی پارٹی کے لیے انجکشن کی ڈوز تلاش کریں گے اور پارٹی میں جان پھونکنے کی کچھ کوشش ضرور کریں گے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *