چھٹے مرحلے میں کئی سیٹوں پر بی جے پی کا کھیل بگاڑے گی کانگریس

Share Article

 

یوپی کے چھٹے مرحلے میں تمام جماعتوں نے تشہیر کے لئے اپنی طاقت جھونک دی ہے۔ ان سیٹوں میں اعظم گڑھ میں ایس پی جیتی تھی جبکہ پھول پور میں ضمنی انتخابات ہوا تو وہاں بھی ایس پی کو کامیابی ملی، ان دونوں سیٹوں کو چھوڑ کر کچھ بھی اپوزیشن کے پاس کھونے کے لئے نہیں ہے، جبکہ بی جے پی کے پاس اپنی ساکھ بچانے کی چیلنج پہاڑ جیسی کھڑی ہے۔

 

اس کی وجہ چھٹے مرحلے میں 14 سیٹوں پر ہونے والے انتخابات کے لئے بی جے پی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ وہیں اپنی ساکھ بچانے کے لئے ایس پی-بی ایس پی سربراہوں کی زبان بگڑتی جا رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنے اپنے پارٹیوں کے ووٹ کھسکتے نظر آ رہے ہیں۔ بھدوہی میں ایس پی کا ووٹ بینک کانگریس کی طرف سفٹ ہوتا دیکھ مایاوتی وہاں اپنے امیدوارکوجتانے کے لئے اکھلیش یادو کو لے کر پہنچ گئی اور واضح کیا کہ کانگریس امیدوار جو اپنے آپ کواکھلیش یادو کا خاص بتا رہے ہیں وہ غلط ہے۔ اس کی وجہ سے اکھلیش یادو کویہاں لے کر آئی ہوں۔ وہیں اس مرحلے میں کئی سیٹوں پر کانگریس ووٹ کاٹنے کے کردار میں ہی ہے۔

 

 

الہ آباد میں بی جے پی کا کھیل بگاڑے گی کانگریس
چھٹے مرحلے کے انتخابات پر نظر دوڑآئیں تو الہ آباد لوک سبھا سیٹ پر بی جے پی امیدوار ریاستی حکومت میں وزیر ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی الیکشن لڑ رہی ہیں۔ آخری بار وہاں بی جے پی کے شیاماچرن گپتا انتخابات جیتے تھے لیکن اس بار وہ سماجوادی پارٹی میں شامل ہو گئے۔ شیاما چرن گپتا کو 313772 ووٹ ملے تھے، جبکہ دوسرے مقام پر 251763 ووٹ پاکر ایس پی کے کنور ریوتی رمن سنگھ رہے۔ برہمن ووٹروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے اس بار بی جے پی نے ریتا بہوگنا جوشی پر داؤ لگایا ہے لیکن بی جے پی کو ہی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوئے یوگیش شکلاکو امیدوار بنا کر کانگریس نے بی جے پی کے ووٹوں میں نقب زنی کا کام کیا ہے۔
دوسری جانب گاندھی خاندان سے مرکزی وزیر مینکا گاندھی سلطان پور سیٹ پر بی جے پی سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ سیٹ بھی کافی سرخیوں میں ہے۔ اس سیٹ پر آخری بار ورون گاندھی انتخابات جیتے تھے لیکن اس بار بی جے پی نے اس سیٹ پر ان کی ماں کو امیدوار بنایا ہے۔ یہاں آخری بار ورون گاندھی کا پرچارکرنے والے چندربھدر سنگھ اس بار بی ایس پی کے ٹکٹ پر ان کی ماں کے سامنے انتخابی میدان میں ہیں۔ وہ دبنگ لیڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔پچھلی بار ورون گاندھی 410338 ووٹ پائے تھے، جبکہ 231446 ووٹ پاکر بی ایس پی کے پون پانڈے دوسرے نمبر پر رہے۔ اس بار پون پانڈے بی ایس پی میں رہتے ہوئے بھی مینکا گاندھی کی تشہیر کر رہے ہیں۔ وہی کانگریس نے سنجے سنگھ پر داؤ لگا کر مقابلے کو سہ رخی بنانے کی فراق میں ہے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں رہا ہے۔

 

 

پھول پور لوک سبھا سیٹ بھی بی جے پی کے لئے کافی چیلنج بھرا ہے، کیونکہ یہ2014 میں بی جے پی کے کھاتہ میں گئی اس سیٹ پر ضمنی انتخابات میں سماج وادی پارٹی نے قبضہ جما لیا تھا۔ اس بار ایس پی سے سیٹ کو دوبارہ واپس لینے کے لیے بی جے پی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ اس سیٹ پر بی جے پی نے کیشری دیوی پٹیل کو امیدوار بنایا ہے۔ وہیں یادو اکثریتی سیٹ پر مہاگٹھبدھن نے پندھاری یادو کو میدان میں اتارا ہے۔ 2014 میں کیشو پرساد موریہ اس سیٹ سے تین لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے۔بی جے پی جہاں قوم پرستی کے نام پر ووٹوں کے پولرائزکی امید لگائے بیٹھی ہے، وہیں اتحاد ذات پات کے اعداد و شمار پر بھروسہ کر رہی ہے۔ اس سیٹ پر ڈھائی لاکھ یادو ووٹر، دو لاکھ مسلم، دو لاکھ کرمی، ڈیڑھ لاکھ برہمن، دو لاکھ پرجاپتی، ایک لاکھ موریہ ووٹرہیں۔

 

پرتاپ گڑھ سیٹ پر کانگریس سے وزیر خارجہ رہے راجہ دنیش سنگھ پارلیمنٹ پہنچتے رہے ہیں لیکن 1998 ء میں پہلی بار بی جے پی نے رام ولاس ویدانتی کواتار کر یہاں کمل کھلانے میں کامیاب رہی۔ 2014 میں اتحاد کے کھاتہ میں رہی اس سیٹ کو اپنا دل کے امیدوار نے کانگریس امیدوار رتنا رانی سے چھن لیا، اس بار بی جے پی کے سنگم لال گپتا، مہاگٹھبدھن کے اشوک ترپاٹھی اور کانگریس امیدوار رتنا رانی سنگھ کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہے۔
سنگم لال گپتا فی الحال پرتاپ گڑھ صدر سے رکن اسمبلی ہیں۔ اس سیٹ پر راجپوت اور کرمی ووٹروں کے علاوہ برہمن ووٹر فیصلہ کن کردار میں ہیں۔ گزشتہ مرتبہ اپنا دل کے کنوربنش سنگھ کو 375789 ووٹ ملے تھے جبکہ بی ایس پی کے نظام الدین صدیقی کو 309858 ووٹ ملے۔کانگریس کی رانی رتنا سنگھ کو 138620 ووٹ ملے تھے۔

 

 

امبیڈکر نگر سیٹ پر گزشتہ مرتبہ بی جے پی امیدوار ہری اوم پانڈے 432104 ووٹ پاکر کامیاب رہے تھے، جبکہ بی ایس پی امیدوار راکیش پانڈے دوسرے نمبر پر تھے۔اس بار بی جے پی نے مکٹ بہاری ورما کو امیدوار بنایا ہے۔ شراوستی لوک سبھا سیٹ پر بی جے پی نے موجودہ ایم پی ددن مشرا پر ہی داؤ لگایا ہے۔ ان کا پارلیمنٹ میں موجودگی کا ریکارڈ 92 فیصد رہی ہے۔2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ددن مشرا 345964 ووٹ پائے تھے، جبکہ عتیق احمد کے کھاتہ میں 260051 ووٹ آئے تھے۔
بھدوہی میں گزشتہ مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے وریندر سنگھ مست نے بی ایس پی امیدوار کو ڈیڑھ لاکھ ووٹوں سے شکست دی تھی۔وریندر سنگھ کو 403695 ووٹ ملے تھے، جبکہ 245554 ووٹ پاکر بی ایس پی کے راکیشدھر ترپاٹھی دوسرے نمبر پر رہے تھے لیکن اس بار بی جے پی نے انہیں ان کی سیٹ بدل کر بھدوہی سے رمیش بند کو امیدوار بنایا ہے۔ بی ایس پی نے اس بار جہاں رنگناتھ مشرا کو ٹکٹ دیا ہے، وہیں کانگریس نے رماکانت یادو کو ٹکٹ دے کر مہاگٹھبندھن کے امیدوار کے لئے مشکل کھڑی کر دی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *