تو کیا بہار میں اکیلے الیکشن لڑنا چاہتی ہے کانگریس؟ مہاگٹھ بندھن ٹوٹنے کے دہانے پر

Share Article

 

گزشتہ دنوں بہار میں مہاگٹھ بندھن کی سیٹوں کی تقسیم کو لے کر ڈیل فائنل ہو گئی تھی۔ لیکن بہار مہاگٹھ بندھن میں اب بھی اختلاف رائے دیکھی جا رہی ہے۔ جس کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بہار میں مہاگٹھ بندھن اس وقت ٹوٹنے کے دہانے پر ہے اور آنے والے دنوں میں کانگریس کی طرف سے یہ اعلان کیا جا سکتا ہے کہ وہ بہار میں لوک سبھا انتخابات اکیلے ہی لڑے گی۔

معتبر ذرائع کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ بہار میں مہاگٹھ بندھن کاحساب گڑبڑا گیا ہے۔بہار میں مہاگٹھ بندھن ٹوٹنے کے دہانے پر ہے۔آپ کو بتا دیں کہ مہاگٹھ بندھن میں کانگریس، آر جے ڈی، لوک سمتا پارٹی، ہندوستان عوام مورچہ، وکاس شیل انصاف پارٹی، لوک تانترک جنتا دل اور بائیں بازو پارٹی کا باہمی تعاون ہے۔

 

 

اب تک یہ خبر بحث میں تھی کہ کانگریس 11 سیٹوں پر راضی ہوئی ہے جبکہ آر جے ڈی 22 سیٹوں پر لوک سبھا انتخابات لڑے گی (قومی لوک سمتا پارٹی کو تین سیٹ، ہندوستان عوام مورچہ کو 1 سیٹ، وکاس شیل انصاف پارٹی کو 1 سیٹ، لوک تانترک جنتا دل ایل ٹی ڈی کو 1 سیٹ اور لیفٹ پارٹی کو ایک یا دو سیٹ اس طرح کے حساب پر حتمی طورپر تیار کیا گیا تھا اور یہ فیصلہ 17 مارچ کو کیا جاناہے) لیکن اس درمیان خبر یہ آ رہی ہے کہ کانگریس 16 سیٹوں پربضد ہے اور کانگریس کی ضد بہار میں مہاگٹھ بندھن کو ٹوٹنے کے دہانے پر لے جا سکتی ہے۔

 

 

کانگریس لگاتار بہار مہاگٹھ بندھن میں 16 لوک سبھا سیٹوں کی مانگ کر رہی ہے جس پر آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو اور آر جے ڈی کارکنان سبھی ناراض ہیں۔اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ 17 مارچ کو بہار مہاگٹھ بندھن کی جانب سے کیا اعلان کیا جاتا ہے؟ کیا بہار میں مہاگٹھ بندھن قائم رہتا ہے؟ کانگریس اپنی ضد میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر بہار میں مہاگٹھ بندھن آخر کار ٹوٹ جاتا ہے؟

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *