کانگریس اور ترنمول: ٹوٹ گیا اتحاد

Share Article

کولکاتہ میونسپل کارپوریشن انتخابات میں محض10 سیٹوں کو لے کر ترنمول اور کانگریس کے درمیان اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بقیہ 80نگر پالیکائوں پر بھی گھمسان جاری ہے۔ آئندہ اسمبلی انتخابات کی لہربنانے کے لئے ان انتخابات کے نتائج کافی اہم ہوں گے۔ پرانی کہاوت ہے کہ کشتی وہاں ڈوبی، جہاں پانی کم تھا۔ 33سالوں سے انگد کے پائوں کی طرح جمے بایاں محاذ کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے کانگریس اور ترنمول قدم سے قدم ملا کر چل رہے تھے اورکامیاب بھی ہو رہے تھے، مگر جب 2011کے اسمبلی انتخابات سے قبل ٹرائل کا ایک بڑا موقع آیا تو دونوں نے الگ الگ راہ اختیار کر رلی۔ اب وہ انتخابی تشہیر کے دوران آپس میں ہی لڑ رہے ہیں۔ کولکاتہ میونسپل کارپوریشن اور 80نگر پالیکائوں کے انتخابات میں کامیابی پا کر بایاں محاذ کو ہوا کا رخ پلٹنے کا موقع ہاتھ آیا ہے۔
اس طرح 30مئی کو بنگال میں ہونے والے انتخابات نے اپوزیشن کی دونوں جماعتوں کے درمیان کی زور آزمائی کو ایک فیصلہ کن لڑائی میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان جماعتوں نے اپنی رہیں الگ اختیار کر کے عوامی رجحان کی پروا نہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ زمین ہتھیانے کے چکر میں اپنا اتحاد توڑ دیا ہے۔ سیٹوں پر تال میل کے لئے ایک ماہ سے چل رہی قوائد ایک مئی کو کانگریس کے کولکاتہ میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لئے 88امیدواروں کی فہرست جاری کرنے کے ساتھ ہی بیکار ہو گئی ہے۔ بوکھلائی ممتا نے کولکاتہ میونسپل کارپوریشن ہی نہیں، باقی 80مقامی میونسپل انتخاب بھی اپنے دم پر لڑنے کا فرمان جاری کر دیا ہے۔
بایاں محاذ خوش ہے، کیونکہ ایک بار پھر وہی فارمولہ بن رہا ہے، جس کے دم پر اسے گزشتہ 33سالوں سے حکومت کرنے میں سہولت ہوئی ہے۔ 2008کے پنچایتی انتخابات سے لے کر گزشتہ لوک سبھا انتخابات تک میں عوام نے اپوزیشن کو اپنا اشارہ دے دیا ، مگر بنگال کو ایسی بدنصیب اپوزیشن ملی ہے، جسے گھر آئی لکشمی کو سنبھال کر رکھنے کا سلیقہ نہیں ہے۔رائے عامہ کے گھوڑے پر سوار دونوں جماعتوں نے لگام کی ایک ایک رسی پکڑ لی ہے اور اسے کسی خود کش کھائی کی جانب لے جانے میں مصروف ہیں۔ موجودہ انتخابات یہ طے کرنے والے ہیں کہ2011میں بنگال پر راج کس کا ہوگا؟ دھیان رہے کہ 2005کے کولکاتا میونسپل کارپوریشن انتخابات میں اس وقت کے میئر سبرت مکھر جی نے آنجہانی غنی خان چودھری اور پرنب مکھر جی کواعتماد میں لے کر ایک اتحاد بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت سبرت نے ’انین منچ‘کے بینر تلے انتخاب لڑا تھا اور کانگریس سے اتحاد کیا تھا۔ اس منچ کو صرف پانچ سیٹیں ملی تھیں، جبکہ کانگریس 15رکھنے میں کامیاب رہی تھی۔پچھلی مرتبہ اگر اتحاد ہوا ہوتا تو کولکاتہ میں بایاں محاذ کا بورڈ نہیں بنتا۔ 2005کے انتخابات میں ترنمول اور بی جے پی اتحاد نے 45سیٹیں جیتیں، جو 2000میں ہوئے انتخابات سے 16کم تھیں۔جبکہ وام مورچہ نے 75وارڈوں یعنی 2000 کے مقابلہ میں15زیادہ وارڈوں پر قبضہ جمایا۔ کانگریس نے 20 وارڈوں میں فتح حاصل کی، جو 2000میں ہوئے انتخابات سے 16کم تھیں۔جبکہ بایاں محاذ نے 75وارڈوں یعنی 2000کے مقابلہ 15وارڈوں پر مزید قبضہ کیا۔کانگریس 20وارڈوں میں جیتی اور ایک سیٹ آزاد امیدوار کے کھاتے میں گئی۔ بایاں محاذکی حلیف پارٹیوں میں تنہا مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کو 58، آر ایس پی کو 6، سی پی آئی اور فارورڈ بلاک کو 4-4، باغی بنگلہ کانگریس ، مارکسوادی فارورڈ بلاک اور آر جے ڈی کو ایک ایک سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی۔ اس بار بھی حلیف پارٹیوں کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر کوئی شور شرابہ نہیں ہوا۔ واضح ہو کہ 2005کے کارپوریشن انتخابات میں بایاں محاذ کو 52فیصد، ترنمول کانگریس کو 25فیصد اور کانگریس کو 16فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ اس طرح سہ رخی مقابلہ میں بایاں محاذ نے سبقت حاصل کرلی، لیکن طے شدہ جیت کو بھانپ کر بھی ترنمول کانگریس نے کولکاتا کو لڑائی کا میدان بنا دیا ہے۔
اب یہ طے ہو گیا ہے کہ ترنمول اور کانگریس میں کوئی اتحاد نہیں ہوگا اور اس طرح کولکاتامیونسپل کارپوریشن سمیت ریاست کے 81میونسپل بورڈوں کے انتخابی نتائج بنگال کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات دونوں پارٹیوں نے مل کر لڑے تھے اور 42میں سے 25سیٹوں پر قبضہ کیا تھا، لیکن اب حالات کافی تبدیل ہوچکے ہیں اور اگر آخری لمحوں میں کچھ طے نہیں ہوا تو سہ رخی اور چہار رخی لڑائی طے ہے۔
ویسے تو کہنے کے لیے یہ مقامی انتخابات ہیں، لیکن اس میں مرکزی سطح پر سونیا گاندھی، بنگال کے انچارج کیشو راؤ، پرنب مکھرجی اور ممتا کے درمیان گزشتہ ایک ہفتہ سے بات چیت ہو رہی تھی۔ 22اپریل کو کابینہ کی میٹنگ کے فوراً بعد کیشو اور ممتا کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر میٹنگ ہوئی، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ 28اپریل کو ترنمول کانگریس نے اپنے 116امیدواروں کی فہرست جاری کر دی۔ اس کے اگلے ہی دن کانگریس نے 85سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارنے کا اعلان کیا۔ کانگریس نے 2005میں جیتی گئیں 21سیٹیں اور 30ایسی سیٹیں مانگیں جن پر اس کے امیدوار بایاں محاذ کے امیدواروں سے ہارے تھے۔ ممتا صرف چار سیٹ آگے بڑھیں۔ سونیا گاندھی اور کیشو راؤ کے درمیان ہوئی بات چیت کے بعد کانگریس نے مزید 10سیٹوں پر معاملہ رفع دفع کرنا چاہا۔ یعنی کل 35سیٹیں۔ مگر ممتا کو اتنا بھی منظور نہیں ہوا۔ دہلی کے کانگریسی ذرائع کے مطابق ممتا کا اڑیل رخ دیکھ کر سونیا نے ہی ہری جھنڈی دے دی اور کانگریس نے 88سیٹوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا۔
کولکاتا میں کانگریس کے ایک لیڈر نے بتایا کہ ترنمول کو دی جانے والی 25سیٹیں ایسی تھیں جہاں اپوزیشن کے امیدوار 9ہزار سے 19ہزار ووٹوں کے فرق سے ہارے تھے۔ یہ دیکھ کر کولکاتا کے کانگریسیوں کے غصے کی انتہا ہوگئی۔ ناراض کارکنان کا کہنا تھا کہ کسی بھی انتخاب میں ممتا، کانگریس کو اہمیت نہیں دے رہی ہیں۔ 24اپریل کو ہی سیٹوں پر اتفاق ہونے کے لیے بڑا بازار ضلع کانگریس کے صدر سنتوش پاٹھک، کارپوریشن میں پارٹی کے لیڈر پردیپ گھوش، پرنب رائے اور نروید رائے دہلی گئے اور انہوں نے قومی لیڈروں کو زمینی حقیقت بتائی۔ ویسے ممتا کے ارادوںکو بھانپنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے کولکاتا سمیت جنوبی بنگال کی ایک بھی سیٹ کانگریس کو نہیں دی، تاکہ کانگریسی کارکنان مایوس ہو کر ترنمول کانگریس میں شامل ہوجائیں۔ کانگریس اسی وجہ سے کیپٹل سٹی میںاپنے وجود کو برقراررکھنا چاہتی ہے۔ کانگریس کا خیال ہے کہ تال میل نہ ہونے کی وجہ سے اگر بایاں محاذ پھر اقتدار میں آ جاتا ہے تو اسے ریاست کے لوگوں سے یہ کہنے میں آسانی ہوگی کہ ممتا نے محض 10سیٹوں کے لیے اتحاد توڑ دیا۔ اس سے کانگریس آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے مول تول کی صلاحیت کو اور مزید مضبوط کرسکے گی، حالانکہ خطرہ یہ ہے کہ اس کے برعکس اگر لوگوں نے ترنمول کو اہم اپوزیشن مان کر اسے اکثریت میں لے آئی تو کانگریس کہیں کی نہیں رہے گی۔ تب ممتا ویسا ہی کھیل کھیل سکتی ہیں، جیسا اڑیسہ میں بیجو پٹنائک نے بی جے پی کے ساتھ کھیلا تھا۔
مرکزی حکومت میں شامل ہو کر بھی ممتا کو کانگریس پر یقین نہیں ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ جب بھی مرکزی اقتدار میں مبینہ فرقہ وارانہ خطرہ آئے گا،کانگریس اور بایاں محاذ ایک ساتھ جائیں گے۔ ویسے کولکاتا کے سلسلہ میں بات چل رہی تھی اور باہر کے کئی میونسپل بورڈوں پر ترنمول اور کانگریس کے درمیان اتحاد بھی ہوگیا تھا۔ کوچ بہار کے تمام چارمیونسپل بورڈوں، شانتی پور کی ایک اور ہاوڑہ کی تین سیٹوںپر پورا اتحاد ہوچکا تھا۔ اسی طرح ہگلی، شمال و جنوب 24پرگنہ، ندیا اور مرشدآباد اضلاع میں بھی اپوزیشن اتحاد بننے کی امید تھی، لیکن اب سب کچھ ناممکن لگتا ہے۔ ریاست میں نکسلی تحریک سے نمٹنے میں ناکامی، بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی، برسات میں تالاب بن رہے کیپٹل سٹی، پارک اسٹریٹ کا اسٹیفن کورٹ آتشزدگی اور مہنگائی جیسے اہم مسائل سے ناراض لوگوں میں اب بھی بایاں محاذ کے تئیں غصہ پایا جاتا ہے، لیکن اپوزیشن کی دونوں پارٹیاں اپنی طاقت بڑھانے کے لیے عوام کی حمایت کھونے کے دہانے پر آگئی ہیں۔ بایاں محاذ نے ایک ہفتہ پہلے ہی اپنی فہرست جاری کر دی ہے اور اس کے امیدوار انتخابی مہم میں مصروف ہوگئے ہیں۔مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے صاف ستھری شبیہ رکھنے والے لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ سدھانشو سیل کو میئر کے عہدہ کے لیے امیدوار بنایا ہے۔ پھر بھی ہوا کا رخ اب تک بایاں محاذ کے خلاف ہی ہے۔ 2008کے پنچایتی انتخابات کے بعد سے 2009کے لوک سبھا انتخابات میں بایاں محاذ صرف 42میں سے 15سیٹیں ہی جیت پائی۔ اسے 43.3یعنی 2004کے انتخابات کے مقابلہ 7.5فیصد کم ووٹ ملے۔ صرف مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے ہی ووٹوں میں 2004کے مقابلہ میں 5.5فیصد کمی درج کی گئی۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے خود جانچ کرائی تومعلوم ہواکہ ریاست کی 294اسمبلی سیٹوں میں سے 195پر وہ پیچھے ہوگئی ہے، جب کہ 2006کے انتخابات میں بایاں محاذ نے 235سیٹیں جیتی تھیں۔ بعد میں حالات تب اور خراب ہوگئے، جب بایاں محاذ 28جون 2009کو ہوئے انتخابات میں 16میں سے صرف 3میونسپل بورڈوں پر ہی اپنا قبضہ برقرار رکھ سکا۔ 5سال پہلے بایاں محاذ نے ان میں سے 10پر قبضہ کیا تھا۔
سرخیوں میں آئے کولکاتا میونسپل کارپوریشن علاقے میں گزشتہ انتخابات کا کیسا اثر رہا، اس پر تبصرہ کرنے سے معلوم ہوا کہ 141وارڈوں میں121پر اپوزیشن کو برتری حاصل رہی۔ اگر اپوزیشن کے ووٹوں میں کچھ کمی بھی آئی ہو تو عام اکثریت پانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں بایاں محاذ کے 75اور اپوزیشن کے 66کونسلر ہیں، لیکن سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ترنمول اور کانگریس کے درمیان اتحاڈ ٹوٹ گیا ہے۔ یہی نہیں، دونوں پارٹیوں کے بیچ جھڑپیں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ ایک مئی کی رات ہاوڑہ کے شیوپور میں کانگریس اور ترنمول حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور علاقے میں آر اے ایف کو تعینات کرنا پڑا، جن دیگر 80مقامی میونسپل بورڈوں کے انتخابات 30مئی کو ہونے والے ہیں، ان میں 54پر بایاں محاذ، 17پر کانگریس اور 14پر ترنمول کانگریس کا قبضہ ہے۔ اگر اتحاد ہوتا تو تصویر پوری طرح بدل جاتی۔ مثال کے طور پر شمالی 24پرگنہ کے صنعتی علاقے کے 20میونسپل بورڈوں میں سے 19مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے قبضہ میں ہیں، جب کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں اس نے اس علاقہ میں آنے والی 5لوک سبھا سیٹیں گنوا دیں۔
موجودہ انتخابات کے لیے بھی مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے ایک سروے کرایا ہے، جس سے یہ امید لگائی گئی ہے کہ پارٹی یا حلیف پارٹی تمام 54میونسپل بورڈوں پر قبضہ برقرار نہیں رکھ پائیںگے۔ مارکسوادی کی15ضلع کمیٹیوں کی رپورٹ کے مطابق، 81میں سے 38میونسپل بورڈ شمالی 24پرگنہ، جنوبی 24پرگنہ، مشرقی مدنا پور اور ہگلی میں ہیں، جہاں ابھی بھی ترنمول کا زور دکھائی دے رہا ہے۔ شمالی بنگال کی 7میں سے 3سیٹوں پر بایاں محاذ اور باقی پر کانگریس کا قبضہ ہے۔ 4مئی کو جب ممبئی میں ریلوے موٹر مینوں کی ہڑتال کے سلسلہ میں پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہورہا تھا، ممتا کولکاتا میں بیٹھ کر کارپوریشن انتخابات کا حساب لگا رہی تھیں۔ وہ دن ان کے لیے کافی اہم بھی تھا۔ اسی دن سابق میئر اور ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر سبرت مکھرجی نے ایک بار پھر کانگریس چھوڑ کر ’دیدی‘ کا دامن تھاما تو کولکاتا پریس کلب میں دانشوروں کے ایک گروپ نے اعلان کیا کہ ممتا ہی ریاست میں تبدیلی لا سکتی ہیں۔ پارلیمنٹ میں ترنمول کانگریس کے مشیر خاص سودیپ بندوپادھیائے نے ممتا کی غیر حاضری کا دفاع کیا اور مارکسوادی لیڈروں پر بھڑک اٹھے تو اس کے پس پردہ ترنمول کی سیاسی مشکلات ہی تھیں۔ ویسے سبرت کو اپنی پارٹی میں لے کر ممتا نے کانگریس کو سخت جھٹکا دیا ہے۔ سبرت نے پارٹی بدلنے کی ہیٹرک لگائی ہے، کیوں کہ 2000میں وہ ترنمول کانگریس میں تھے اور پھر 2005میں کانگریس میں آگئے۔ اس بار پھر وہ ترنمول میں یہ کہہ کر شامل ہوئے ہیں کہ کانگریس نے اتحاد کے اصولوں کی پابندی نہیں کی۔ ویسے ترنمول کانگریس کے لیے باعث سکون ہے کہ وہ انتخابات میں کھڑے نہیں ہوئے ہیں اور صرف امیدواروں کے لیے انتخابی مہم میں حصہ لیںگے۔ ویسے ان کی ہندی بولنے والوںسے مخالفانہ شبیہ کی وجہ سے ترنمول کانگریس کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ واضح ہو کہ سبرت نے کہا تھا کہ بہار کے لوگوں کی وجہ سے ہی کولکاتا میں گندگی بڑھ رہی ہے۔ ہندی بولنے والے اس بے عزتی کو بھولے نہیں ہیں۔ اداکار سبھ پرسنا کی قیادت میں  لوگوں نے اتحاد توڑنے کے لیے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ان میں سے زیادہ تر دانشور ممتا کی مہربانی سے ریلوے کی کئی کمیٹیوں میں شامل ہو کر اقتدار کا مزہ لے رہے ہیں۔
ان سب کے باوجود بایاں محاذ کے پاس خوش ہونے کی سب سے بڑی وجہ اپوزیشن کی آپسی نا اتفاقی ہے، جو اسے اگلا اسمبلی انتخاب جیتنے کی طاقت دے گی۔ وہ لوگوں سے کہہ سکے گا کہ آپ جنہیں اقتدار سونپنا چاہتے ہیں، انہیں مل جل کر رہنا بھی نہیں آتا۔ جی ہاں، کانگریس اور ترنمول کے درمیان اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔ بنگال کی سیاست میں اپوزیشن کی ان دو پارٹیوں کے درمیان شادی جیسا اتحاد کبھی ہوا ہی نہیں۔ اسے منگنی یا ’لیو ان ریلیشن شپ‘ ہی کہیں تو زیادہ اچھا ہوگا۔ اگراتحاد مضبوط ہوتا تو 10وارڈوں کے معمولی پیکیج کے سلسلہ میں یہ اتحاد نہیں ٹوٹتا۔ اس سے بھلے ہی مرکزی اقتدار پر ابھی اثر نہ پڑے، لیکن اگر کولکاتا میونسپل کارپوریشن بایاں محاذ کے ہاتھ میں واپس آیا تو ممتا کے موڈ کو دیکھتے ہوئے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *