کانگریس پارٹی نے ہمیشہ ملک کوجوڑنے کی بات کی ہے:راہل گاندھی

Share Article
rahul-gandhi
کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے پارٹی کے 84ویں اجلاس میں ہفتہ کے روز اپنے استقبالیہ خطاب سے تقریب کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سات منٹ تک بی جے پی پر زبردست طریقہ سے حملہ بولا اور کہا کہ آج ملک میں ایک دوسرے کو آپس میں لڑوایا جا رہا ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا کہ آج ملک میں غصہ پھیلایا جا رہا ہے، لوگوں کو تقسیم کرنے کاکام کیا جارہا ہے جبکہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ ملک کو جوڑنے کی بات کی ہے۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہاتھ کے نشان کی طاقت سے ہی ملک کوآگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ راہل نے کہا کہ پارٹی نئے طریقہ سے آگے بڑھے گی، نوجوان لوگ پارٹی کو چلائیں گے لیکن سینئر رہنماؤں کو ساتھ لے کر ہی پارٹی آگے بڑھے گی ۔ ہم گزرے ہوئے وقت کو بھولتے نہیں ہیں۔
راہل نے کہا کہ ملک کو صرف کانگریس پارٹی ہی راستہ دکھا سکتی ہے کیونکہ ملک تھکا ہوا ہے۔ کسان، مزدور، غریب افراد جب مرکزی کی مودی حکومت کی جانب دیکھتے ہیں تو انہیں راستہ نہیں دکھائی دیتا ہے۔ بی جے پی پارٹی صرف غصے کا استعمال کرتی ہے، لیکن کانگریس پارٹی پیار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ملک سب کا ہے، ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پارٹی کے اجلا س کی راہل گاندھی کے استقبالیہ خطاب سے شروعات ہوئی ہے اور اختتامیہ خطاب میں تفصیل سے اپنی اور کانگریس کارکنوں کی بات رکھیں گے جس سے پارٹی کی آئندہ پانچ برسوں کی سمت اور حالت طے ہوگی۔
منعقدہ پروگرام سے سابق کانگریس صدرمحترمہ سونیاگاندھی نے بھی کارکنوں کوخطاب کیا۔سونیاگاندھی نے بھی اپنی تقریرمیں مودی سرکاراوربی جے کی جم تنقیدکی۔70کی دہائی میں اندراگاندھی کے چکمنگلور ضمنی انتخاب میں جیت کویاد کرتے ہوئے سونیانے کہاکہ یہ وقت تقریباً 77کی ہارجیساہے۔ کرناٹک کے آئندہ انتخابات میں بھاری جیت کے ساتھ کانگرس کارکنان ملک کوبڑاپیغام دیں ۔سونیانے مزیدکہاکہ آج صرف ایک ہی بات معنی رکھتی ہے کہ جس مہان پارٹی سے ہمارااتنا پرانا ناطہ ہے، اسے کس طرح سے اورمضبوط کیاجائے، جس سے موجودہ چیلنجزکا سامنا کیاجاسکے اورپارٹی کوجیت مل سکے۔سونیا گاندھی نے موجودہ مرکزی حکومت کواڑے ہاتھوں لیا۔انہو ں نے کہاکہ آج دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ منریگا جیسی ہماری اسکیموں کومودی سرکارکمزورکررہی ہے اورنظرانداز کررہی ہے۔ پچھلے چارسال میں کانگریس کوبرباد کرنے کیلئے اہنکاراوراقتدارکے نشے میں مدمست سرکار نے کوئی کسرباقی نہیں رکھی۔ سام ، دام، دنڈ ، بھیدکا کھلاکھیل چل رہاہے۔لیکن کانگریس نہ کبھی جھکی اورنہ جھکے گی۔
سونیاگاندھی نے پی ایم مودی کے وعدوں اورنعروں کوبھی نشانے پرلیا۔انہوں نے کہاکہ پی ایم مودی اوران کے قربیوں کے جھوٹے، فرضی وعدے اوربدعنوانی کاہم ثبوتوں کے ساتھ خلاصہ کررہے ہیں۔لوگ اب سمجھ رہے ہیں کہ 2014کے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ اور’ میں ناکھاؤں گا ،ناکھانے دوں گا‘ جیسے انکے وعدے صرف اورصرف ڈرامہ بازی اورووٹ بٹورنے کی چال تھی ،کرسی ہتھیانے کی چال تھی۔
خطاب سے قبل کانگریس صدر راہل گاندھی نے پرچم کشائی بھی کی اور مجاہدین آزادی کو اعزازات سے نوازا بھی۔ ساتھ ہی اجلاس میں کانگریس کے آنجہانی رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس اجلاس میں کئی سینئر رہنماؤں کو اسٹیج پر جگہ نہیں دی گئی ہے۔ محض مقررین کے لئے ہی الگ اسٹیج بنایا گیا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *