کانگریس کی ہار : بٹلہ ہائوس سانحہ کی گونج

Share Article

رضوان عابد
یو پی کے الیکشن سے ایک بات تو طے ہوگئی کہ یوپی کا الیکشن بغیر مسلمانوں کی مدد کے نہیں جیتا جا سکتا ۔ 2009 کے پارلیمانی انتخابات  میں کانگریس نے یوپی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ۔اس بنیاد پر کانگریس سمجھ رہی تھی کہ 2012  کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی اس سے بھی بہتر ہوگی لیکن کیا کہنا کانگریسی دانشوروں کا وہ 2012 کے اسمبلی انتخابات  بری طرح سے ہارنے کے بعد بھی یہ نہیں سمجھ پائے کہ ان کی ہار کی اصلی وجہ کیا ہے۔ اس سے پہلے کانگریس  کی سیٹیں 22 تھیں اب 28 ہوگئی ہیں ۔ کانگریس نے اپنی پوری طاقت یوپی میں جھونک دی پھر بھی 403  ممبران کی اسمبلی میں کانگریس کو صرف 28 سیٹیں مل پائیں۔ کانگریس کو بٹلہ ہائوس سانحہ کی گونج نہیں سنائی دی۔

کانگریس پارٹی  کی ایک اور بہت بڑی کمی ہے جسے وہ محسوس ہی نہیں کرتی اور کانگریس کے نام نہاد دانشوروں کو تو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہے۔ کانگریس نے یوپی  اسمبلی 2012 کے انتخابات میں بی ایس پی کی حکومت کو تو نا اہل ثابت کردیا لیکن بی ایس پی سے منحرف ہوئے ووٹوں کو اپنی طرف نہیں لاپائی اور ملائم سنگھ کی جھولی میں سارے ووٹ ڈال دیے۔ یہی غلطی کانگریس نے بہار میں کی تھی۔ لالو پرساد یادو کو تو بہار سے ختم کردیا لیکن جو ووٹ لالو پرساد سے منحرف ہوا تھا اس کو کانگریس اپنی طرف لانے میں ناکام رہی۔

سماجوادی پارٹی نے مسلمانوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا  بٹلہ ہائوس سانحہ کو غلط بتا کر اس کی انکوائری کی مانگ کی کیونکہ یہ معاملہ اعظم گڑھ سے جڑا ہوا تھا  اس لئے یوپی کے مسلمانوں کی دکھتی رگ تھی ۔ اس سانحہ کو ملائم سنگھ نے سمجھا اور بہت اچھے طریقے سے مسلمانوں کے جذبات کو ووٹوں میں تبدیل کیا ۔ شروع میں الیکشن کے پرچار میں ،جلسوں میں مسلمانوں کی غیر حاضری اور بٹلہ ہائوس سانحہ کی انکوائری کی مانگ کے بعد بھی ولی عہد سلطنت ہندوستان جناب راہل گاندھی صاحب ہوا کا رخ نہیں سمجھ پائے۔ چلو مان لیا کہ شہزادے تو ناسمجھ ہیں ، نا تجربہ کار ہیں لیکن ان کانگریس کے نام نہاد دانشوروں کو کیا ہوگیا جنہوں نے بٹلہ ہائوس سانحہ کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں  اور ایک لفظ بھی یوپی  کے پورے پرچار میں راہل گاندھی نے بٹلہ ہائوس سانحہ کے بارے میں نہیں کہا۔سلمان خورشید صاحب نے اس معاملہ کو سمجھا اور جھوٹ بولا کہ بٹلہ ہائوس سانحہ کی تصویریں دیکھ کر سونیا گاندھی روپڑیں۔ دوسرے کانگریسی لیڈروں  نے خود ہی  اس بات کی تردید بھی کردی اور بعد میں سلمان خورشید صاحب نے بھی اپنے بیان کو بدل دیا اور کہا کہ سونیا گاندھی کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔اگر سونیا گاندھی کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں  تو انہوں نے ہوم منسٹر ی کے ذریعے بٹلہ ہائوس کی انکوائری کے احکامات کیوں جاری نہیں کیے۔ بٹلہ ہائوس سانحہ کی انکوائری میں کیا قباحت ہے ۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی، کانگریس کی حکومت بٹلہ ہائوس سانحہ سے کیوں اتنا بچ رہی ہے ۔یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ کیا اس سانحہ میں کسی بڑے کانگریسی لیڈر کا ہاتھ تو نہیں ہے؟کیا یہ جال کانگریسیوں نے خود ہی تو نہیں بُنا ہے؟ایک پولیس انسپکٹر بھی اس میں شہید  ہوا۔ کیا اس شہید کے خون کی بھی کوئیحیثیت نہیں ؟مسلمان کا خون تو ارزاں ہے،انسپکٹر شرما کا خون تو قیمتی تھا؟انتولے صاحب نے اس بات  کو اٹھایا تو سختی کے ساتھ ان کو بھی چپ رہنے  کا حکم مل گیا۔ آخر اس بٹلہ ہائوس سانحہ کی سچائی ہے کیا۔ ہماری تو سمجھ میں نہیں آتا۔ کیا آپ کی سمجھ میں آتا ہے؟
کانگریس کی مرکز کی حکومت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ یوپی کے 2012 اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی بری طرح شکست بٹلہ ہائوس سانحہ کی گونج ہے جو کانگریس کو سنائی نہیں دے رہی ہے۔شاید سنائی تو دے رہی ہے لیکن سب کی زبانوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ سب سمجھ رہے ہیں لیکن بول نہیں پارہے ہیں۔
جب راہبر ہی راہزن بن جائیں تو کیا کیا جائے؟یہ راہزنی کا کردار زیادہ نہیں چلے گا۔مسلمان نے پچھلے 65 سالوں  میں کانگریس کو اپنی پارٹی سمجھا۔ ہم نے قومی سطح پر کوئی اپنی پارٹی نہیں بنائی۔ ہمارے بڑے ہمیں سمجھا گئے تھے کہ ہمیشہ کانگریس کا ساتھ دینا۔ہم نے وہ وعدہ 1977 تک نبھایا۔ 1977 میں ہندوستان کے مسلمانوں کو اندازہ ہوگیا کہ کانگریس کی اصلیت کیا ہے۔ اس کے بعد سے مسلمان کانگریس سے بد ظن ہونے لگا۔ جن کو اپنا سمجھا تھا انہوں نے دھوکہ دیا۔ ایک بات اور قابل غور ہے کہ آزادی کے بعد سے 1977 تک مسلمان کا معاشی اور تعلیمی معیار  دن بدن گرتا رہا۔  1977 میں جب جنتا پارٹی کی حکومت آئی تو مسلمانوں کا معاشی گراف اوپر جانے لگا ،معلوم ہوا کہ  مسلمان تو کانگریس کے ہاتھوں میں یرغمال ہے اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی۔کیونکہ مسلمان کے پاس کانگریس کا کوئی بدل بھی  نہیں تھا۔مسلمان نے  اپنی کوئی سیاسی پارٹی نہیں بنائی نہ تو قومی سطح پر اور نہ ہی ریاستی سطح پر۔ یا یوں کہئے کہ مسلمانوں کو کوئی سیاسی پارٹی بنانے نہیں دی گئی۔ڈاکٹر فریدی نے 1974 میں یوپی میں ایک کوشش کی مسلم مجلس بنانے کی۔ اس مسلم مجلس کے اتنے ٹکڑے کردیے گئے کہ گنے بھی نہ جائیں۔دوسری وجہ یہ رہی کہ ڈاکٹر فریدی کی عمر نے بھی ساتھ نہیں دیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بٹلہ ہائوس سانحہ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کی کوئی بین الاقوامی سازش ہو۔کیونکہ آج پوری دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ بٹلہ ہائوس سانحہ بھی اسی بین الاقوامی سازش کا ایک حصہ ہو؟ہندوستان میں ہر طریقے سے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کے سیکڑوں واقعات ہیں ۔ بیس بیس سال مسلمانوں  پر دہشت گردی کے  مقدمے چلتے ہیں اور بیس سال بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسلمان تو بے گناہ تھا۔1996 میں  دہلی میں ایک 18 سالہ  نوجوان کو اسپیشل سیل نے پکڑا۔18 دہشت گردی کے مقدمے لگائے۔ اب معلوم ہوا کہ وہ نوجوان بے گناہ ہے۔ آج کل اوکھلا کے مسلمان پریشان ہیں۔ آئے دن سرکاری ایجنسیاں دہشت گردی کے شبہ میں اور غیر قانونی بنگلہ دیشی ہونے کے شک میں مسلم  نوجوانوں کو حراست میں لیتی ہیں تفتیش کے بعد چھوڑ دیتی ہیں۔بڑے مزے کی بات یہ ہے کہ دہلی پولیس کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کون سی ایجنسی کس کو اٹھا کر لے گئی۔ اس علاقے میں مسلمان اپنے آپ کو  بہت غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں اور یہ سب دین ہے مرکزی  یو پی اے کی سرکار کی۔ یہ سارے کام یوپی اے کی حکومت میں ہورہے ہیں۔
کانگریس پارٹی  کی ایک اور بہت بڑی کمی ہے جسے وہ محسوس ہی نہیں کرتی اور کانگریس کے نام نہاد دانشوروں کو تو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہے۔ کانگریس نے یوپی  اسمبلی 2012 کے انتخابات میں بی ایس پی کی حکومت کو تو نا اہل ثابت کردیا لیکن بی ایس پی سے منحرف ہوئے ووٹوں کو اپنی طرف نہیں لاپائی اور ملائم سنگھ کی جھولی میں سارے ووٹ ڈال دیے۔ یہی غلطی کانگریس نے بہار میں کی تھی۔ لالو پرساد یادو کو تو بہار سے ختم کردیا لیکن جو ووٹ لالو پرساد سے منحرف ہوا تھا اس کو کانگریس اپنی طرف لانے میں ناکام رہی۔ چنانچہ نتیجہ کے طور پر نتیش کمار کی حکومت بنی اور اب وہ اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ کانگریس اگلے دس جنم میں بھی نتیش کمار کی حکومت کو ختم نہیں کرسکے گی۔ اسی طرح مایاوتی سے عوام کو بد ظن تو کردیا لیکن اس ووٹ کو اپنی طرف  تبدیل نہیں کرپائے یعنی کہ کانگریس کا کام ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔جناب راہل گاندھی نے یوپی میں سب سے زیادہ محنت کی اور 225 مجلسیں کیں جبکہ اکھلیش یادو نے 200مجلسیں کیں۔شہزادے  نے دن رات محنت کی  ۔ دیہات میں جھونپڑیوں میں رات بھی گزاری ۔ عام لوگوں کے ساتھ کھانا بھی کھایا لیکن یوپی کے عوام کو یقین نہیں دلا پائے کہ وہ ان میں سے ہی ہیں۔  یوپی کے عوام شہزادے راہل گاندھی کو اب بھی کوئی غیر مخلوق سمجھتے ہیں۔ شہزادے نے اپنی آستینیں بھی سوتیں ،دوسری پارٹیوں کے منشور بھی پھاڑ کر پھینکے لیکن عوام کے جذبات کو ووٹ میں تبدیل نہیں کرپائے۔ہمیں نہیں معلوم کہ کانگریس کے دانشور تھِنک ٹینک ہیں لیکن جو بھی ہیں فوری طور پر ان دانشوروں کو تبدیل کرنا ہوگا۔ورنہ کانگریس کی بقاء اس ملک میںمشکل ہوجائے گی۔ اگر کانگریس کے پاس  دانشور نہ ہوں تو ہم کرائے پر ان کو چند دانشور دستیاب کرواسکتے ہیں۔
یوپی کے الیکشن میں بری طرح ہار کے بعد ہار کا ٹھیکرا  کانگریس کی یوپیکی تنظیم کے  سر پھوڑا جارہا ہے۔ کانگریس کی تنظیم رہی کب ہے۔یہ تو ایک سیاسی انبوہ سیاسی ہجوم ہوتاہے۔ کانگریس نے ہمیشہ ایشوز پر الیکشن لڑا۔ 1971  میں اندرا جی  نے غریبی ہٹائو کا نعرہ دیا اور پورا ملک سمجھا کہ شاید واقعی غریبی ہٹ جائے گی اور پورے ہندوستان نے کھل کر کانگریس کو ووٹ دیا۔ کانگریس تنظیم پر مبنی پارٹی نہ ہے اور نہ ہی کبھی تھی۔ کانگریس نے ہمیشہ ایشوز پر الیکشن لڑا لیکن وہ ایشوز موقع محل کے مطابق ہوتے تھے لیکن کانگریس چاہے کہ مایاوتی کو برا بھلا کہہ کر اور بی جے پی  کا خطرہ دکھا کر ووٹ لے گی تو یہ کانگریس کی بہت بڑی بھول ہوگی۔کانگریس پارٹی کو سمجھ لینا چاہئے کہ ہندوستانی  اب تعلیم یافتہ ہورہے ہیں چنانچہ کانگریس کو بھی چاہئے کہ اپنے دانشور اور لیڈر بھی پڑھے لکھے رکھے۔ اب انگوٹھا ٹیک لیڈروں اور دانشوروں سے کام نہیں چلے گا۔ یوپی میں اس بار حد تو یہ ہوگئی کہ عوام نے 2007  میں سماجوادی غنڈوں کی غنڈہ گردی سے تنگ آکر بی ایس پی کو ووٹ دیا تھا اب پھر صرف اکھلیش یادو کی یقین دہانی  پر کہ غنڈہ گردی نہیں ہونے دیں گے اور قانون کا راج ہوگا پر پھر سے اس غنڈہ پارٹی کو ووٹ دے دیا، نہیں دیا  تو کانگریس کو ووٹ نہیں دیا۔کانگریس پارٹی کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ غلطی کہاں ہے۔ یہ وہی کانگریس پارٹی ہے جس نے پورے ہندوستان کو ذات برادریوں میں بانٹا تھا اور بندر بانٹ کی تھی۔ اب ان کا کیا ہوا ان کے سامنے آرہا ہے۔ وہی ذات برادریاں  جن کی تقسیم  کانگریس نے خود کی تھی تاکہ ووٹ حاصل کیا جاسکے ۔ آج کانگریس کے خلاف کھڑی ہوئی ہیں۔ یہ قدرت کا قانون ہے جیسا کروگے ویسا بھروگے۔ کانگریس نے ملک کے حق میں کانٹے بوئے تھے اب وہ کانٹوں  کی فصل تیار ہے اور کانگریس پارٹی کو ہی دکھ دے رہی ہے۔
کبھی کبھی شبہ ہوتا ہے کہ چند لوگ جو کانگریس پارٹی کو چلارہے ہیں کہیں وہی تو نااہل نہیں ؟یا نا اہل ہونے کا ناٹک تو نہیں کررہے اور کانگریس پارٹی کو روز بروز کمزور کررہے ہوں؟کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ چند لوگ کسی بین الاقوامی طاقت کے ہاتھ میں کھیل رہے ہوں  اور کانگریس جیسی عظیم  الشان پارٹی کو دفن کرنے کی سازش کررہے ہوں؟کیونکہ کانگریس پارٹی وہ  پارٹی رہی ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر کسی کا دبائو قبول نہیں کیا وہ کانگریس پارٹی ہی ہے جس نے  نن الائنڈ موومنٹ کرائی اور بین الاقوامی دبائو کو مسترد کردیا۔ کانگریس  پارٹی کی حکومت کبھی بھی نہ روس اور نہ ہی امریکہ کے دبائو میں آئی ۔کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی بیرونی طاقت کے دبائو میں کانگریس پارٹی  جیسی بڑی  پارٹی کو ختم کیا جارہا ہو؟کانگریس  کے فیصلوں سے تو یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ  کانگریس خود ہی کوئی الیکشن نہیں جیتنا چاہتی۔ یوپی کے الیکشن میں کانگریس نے سارے پٹے ہوئے مہرے بھیجے۔دگ وجے سنگھ  ایک ناکام مہرہ،سلمان خورشید صاحب خود ایک ناکام لیڈر  اور شہزادے راہل  نے تو کئی بار یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نااہل ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کانگریس پارٹی شہزادے کے بجائے شہزادی کو میدان میں کیوں نہیں لا رہی۔ اگر شہزادی کو ولی عہد بنایا جائے تو شاید ہندوستانی  عوام کانگریس میں واپس آجائیں ۔ شہزادی  کے  شوہر نامداربھی  تو سیاست میں کودنے کے لئے بہت پھڑ پھڑا رہے ہیں لیکن  راہل گاندھی کے سامنے ان کی ہمت نہیں ہورہی ۔ اپنی  بیگم کو تو سیاست میں آنے کے لئے زور ڈالتے ہی ہوںگے لیکن وہ بہت شریف النفس  شہزادی ہیں وہ  بھائی کی محبت میں ایسا نہیں کرنا چاہتیں اور والدہ محترمہ کی حکم عدولی بھی نہیں کرنا چاہتیں۔   g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *