کمل ایم مرارکا
حال ہی میں ملک میں ہوئے بدلائو نے ایک بنیادی سوال پوچھنے کے لئے مجبور کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ ملک کس کا ہے؟سرکار کے ذریعہ ملک کے لئے بنائی گئی اقتصادی پالیسیاں اور سیاسی ماحول سماج کے کس طبقے کے لوگوں کے فائدے کے لئے ہونے چاہئیں؟ لازمی طور پر یہی جواب ہوگا کہ سرکار کو ہر طبقے کا خیال رکھنا چاہئے۔ آج بھی ملک کے ساٹھ فیصد لوگ کھیتی پر منحصر ہیں۔ خاص طور سے سرکاری اورپرائیو یٹ سیکٹر میں کام کر رہا مزدور طبقہ بھی اہم ہے۔بد قسمتی سے 1991 کی اقتصادی اصلاح کے بعد سرکار کا سارا دھیان کارپوریٹ سیکٹر، غیر ملکی کمپنیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر مرکوز ہو گیا۔ زراعتی علاقے کو لگاتارنظر انداز کیا گیا اور اگر ایسا ہی آنے والے 20 سالوں تک چلتا رہاتو جس طرح ملک کی آبادی بڑھ رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے ملک میں اناج کی بھاری کمی ہو جائے گی۔ہو سکتا ہے آبادی میں اضافے کی شرح کم ہو، مگر یہ بڑھے گی ہی ،اور اس کے لئے کافی غذا فراہم نہیں ہوگی۔ جب آپ اپنے لوگوں کا پیٹ نہیں بھر سکتے ہیں تب کتنی بھی ترقی اور کتنا بھی پیسہ کسی ملک کی مدد نہیں کر سکتا ہے۔ جب جواہر لال نہرو با حیات تھے تب کانگریس پارٹی نے تامل ناڈو میں مدراس کے قریب اواڈی میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ قومی پالیسیاں سماجواد کے نظریے کوفروغ دینے والی ہونی چاہئیں۔ 1991 میں منموہن سنگھ وزیر مالیات تھے، تب انہوں نے کہاکہ ان پالیسیوں سے ملک کے لوگوں کا بھلا نہیں ہوا اور انہوں نے ساری پالیسیوں کو الٹ دیا۔ان کی خاص دلیل یہ تھی کہ لائسنس راج کے دوران کچھ لوگوں نے سبھی لائسنسوں کو اپنی مٹھی میں کرلیا اور بعد میں انہوں نے اونچے دام پر دوسروں کو بیچ دیا،جو کہ غلط تھا۔اگر وہ لائسنس راج کو ختم کر دیتے تو شاید بہت سارے لوگ کل کارخانے کھول سکتے تھے یا کچھ اور کر سکتے تھے جس سے مقابلہ بڑھتا اور قیمتوں میں کمی آتی، جس کی وجہ سے لوگوں کو فائدہ ہوتا۔ گزشتہ 21 سالوںمیں کیا ہوا ہے؟مہنگائی بڑھ گئی ہے، کہیں بھی کمپٹیشن نہیں ہے۔الکٹرانک اورکمیونیکیشن جیسے شعبوں میں اس نے جوکام کیا ہے وہ تکنیکی ترقی کے سبب ہوا ہے، نہ کہ سرکاری پالیسیوں کی وجہ سے۔ اگر آئی ٹی (انفارمیشن ٹکنالوجی) کمپنیوں نے بہترمظاہرہ کیا تو اس کی وجہ تکنیک اور وقت میں بدلائو تھا،امریکہ اور ہندوستان میں قیمتوں کا فرق تھا۔جہاں کہیں بھی سرکار شامل تھی وہاں واقعی کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ 1991سے پہلے اور 1991 کے بعد کی صورت حال میں کوئی فرق نہیں ہوا۔ وہیں دوسری طرف ٹو جی اسپکٹرم اور کوئلے کے معاملے میں اب سرکار کا کہنا ہے کہ اس نے اسپکٹرم اور کوئلے کی کانوں کا الاٹمنٹ کیا تھا۔ الاٹمنٹ ،لائسنس کی جگہ استعمال ہوا دوسرا لفظ ہے اور انہوں نے ایک نئے لفظ کا استعمال کیا۔ اگر دوسرے لفظوں میں کہیں توانھوں نے ٹو جی اسپکٹرم اپنے پسندیدہ لوگوں کو الاٹ کر دیے اور کوئلے کی کانوں کو بھی اپنے پسندیدہ لوگوں کو الاٹ کر دیا۔ آخر انہوں نے کیا کیا؟ٹو جی اسپکٹرم کے معاملے میں ایسا ہوا کہ ایک آدمی نے Xروپے میں اسپکٹرم خریدا اور پھر ایک مہینے یا پھر کچھ دنوں بعد دوسرے کو اسے 10X میں بیچ دیا۔ لوگوں کو سروس پرووائڈ کرنے والا وہ ہے جس نے اسپکٹرم 10X قیمت پر خریدا ہے۔ اس پر کپل سبل کی دلیل تھی کہ اگر سرکار اسپکٹرم کو اونچے داموںپر بیچتی تو اس سے کمیونی کیشن سروس مہنگی ہو جاتی۔ یہ پوری طرح جھوٹ بیان تھا۔ کیونکہ جو آدمی لوگوں کو موبائل سروس دے رہا ہے ،اس نے اسپکٹرم 10X قیمت پر خریدا ہے۔ کس نے X اور 10X کے بیچ پیسہ بنایا؟بچولیہ نے۔وہ شخص جسے آپ نے اسپکٹرم الاٹ کیا تھا، کس کس کو اس پیسے میں سے حصہ ملا، یہ ان کی پریشانی کا سبب ہے۔
حالانکہ کمپٹرولر اینڈآڈیٹر جنرل(سی اے جی) نے کہا ہے کہ اگر وہ اسے 10X میں بیچتے تو انہیں پیسے نہیں ملتے، کیونکہ یہاںX اور10X کے بیچ بڑا فرق ہے۔ کپل سبل اور چدمبر م ہر دن یہی بیان دیتے تھے کہ سرکار کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے،ایک کم پڑھا لکھا آدمی بھی یہ سمجھ سکتاہے کہ اگر آپ نے ایک چیز کو کسی قیمت پر فروخت کیا ہے، اور اگر اسے زیادہ قیمت پر فروخت کیا جا سکتا تھا تو یہاں نقصان ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں دئے گئے اپنے ایک فیصلہ میں کہا ہے کہ نیلامی ، کسی بھی چیز کی صحیح قیمت حاصل کرنے کا واحد طریقہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ آپ کوئلہ کی کان اور اسپیکٹرم اپنے بھتیجے کو دے دیں ، اپنے بھانجے کو دے دیں یا کسی ایسے کو دے دیں جس کا سر نیم آپ سے ملتا ہو یا پھر کوئی ایسا شخص جو آپ کا بے حد چہیتا ہو۔ نہیں نہیں، بالکل نہیں۔ انھوں نے بس اتنا کہا کہ ایک صحیح اور شفاف طریقہ ہونا چاہئے، جس میں نیلامی بھی ایک طریقہ ہو سکتا ہے ، دوسرے اور طریقے بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سپریم کورٹ نے آپ کے کئے کو صحیح ٹھہرایاہے۔اب حکومت نے سی اے جی پر حملہ کرنا شروع کر دیا ہے، کیونکہ سی اے جی نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ان کوئلہ کانوں کے الاٹمنٹ میں ہمیں بہت خسارہ ہوا ہے۔ چدمبرم نے یہ کہا ہے کہ حکومت کو کوئی خسارہ نہیں ہوا ہے کیونکہ کوئلہ ابھی بھی زمین کے اندر ہی ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ ابھی خسارہ نہیں ہوا ہے، لیکن آپ نے پرائیویٹ لوگوں کو فائدہ حاصل کرنے کے اختیار دے دئے ہیں۔جب بھی کوئلہ باہر نکالا جائے گا تو فائدہ پرائیویٹ کمپنیوں کو ہوگا، نہ کہ حکومت کو۔ یہ اشوکا ہوٹل کو 1000کروڑ روپے کے بجائے 10کروڑ روپے میں فروخت کرنے جیسا ہے اور پھر آپ کہتے ہیں کہ حکومت کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ہوٹل میں رہنے کوئی نہیں آیا۔ حکومت کے لوگ ہی وہاں نہیں ٹھہریں گے تو دوسرے لوگوں کی بات چھوڑئے۔ آپ نے پراپرٹی کو پہلے ہی بیچ دیا ہے اور جب کبھی کوئی ہوٹل میں ٹھہرتا ہے تو وہ پیسہ کمائے گا نہ کہ حکومت۔ یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ کب سی اے جی گھاٹے کی بات کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو فائدہ ہمیں ہو سکتا تھا ، اتنا نہیں ہو پایا۔یہ فائدہ کا نقصان ہے۔ یہ ممکنہ خسارہ نہیں ہے بلکہ یہ صحیح معنوں میں خسارہ ہے۔ کیونکہ ہم نے ٹوجی اسپیکٹرم کے کیس میں دیکھا کہ ایک کمپنی نے دوسری کمپنی کو اختیار ات دس گنا زیادہ قیمت پر ہفتہ بھر میں فروخت کر دئے۔ہم نے کوئلہ کان الاٹمنٹ کے معاملہ میں دیکھا کہ جس نے کوئلہ کی کانیں لی ہیں، اس نے بینک سے پیسے ادھار لے لئے ہیں اور وہ شیئر بازار میں اپنے شیئر بھی لا چکے ہیں۔ وہ بھی اس بنیادپر کہ اس نے جگہ خریدی ہے، جبکہ اس نے یہ سب کچھ حکومت اور بینک کے پیسے سے لیا ہے۔ ہر کوئی خوش ہو رہا ہے، یہ وقت کانگریس کے اوڈی ریزولیوشن پر لوٹنے کا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہمیں سوشلزم کے اصولوں پر مبنی سماج کی تعمیر کرنی ہے۔ غریبوں کا خیال رکھا جائے۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہاں تک کہ اواڈی روزولیوشن میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کو بند کر دینا چاہئے، یا پرائیویٹ سیکٹر کو کوئی اختیار نہیں ہونا چاہئے۔ سبھی نے یہ کہا ہے کہ غریبوں کا خیال رکھا جانا چاہئے، پبلک سیکٹر کو مضبوط کرنا چاہئے۔ یہاں پرائیویٹ سیکٹر کے لئے بہت سے راستے کھلے ہیں، جہاں وہ اپنی طاقت دکھا سکتا ہے اور اپنا کام کر سکتا ہے۔ حکومت کے ذریعہ نریگا کو نافذ کرنا ایک اہم قدم تھا، جس میںغریبوں کے لئے 100دن کے روزگار کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ منصوبہ پر کس طرح عملدرآمد ہوا، اور اس میں کتنی بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے، لیکن یہ قدم صحیح تھا۔ نریگا میں ہر سال کتنا پیسہ خرچ کیا جاتا ہے، مان لیجئے 40ہزار کروڑ لیکن یہ پیسہ کارپوریٹ سیکٹر سے آنا چاہئے۔ امیر لوگوں کو غریبوں کیلئے ادائیگی کرنا چاہئے۔ حکومت کو کارپوریٹ ٹیکس پانچ فیصد بڑھا دینا چاہئے۔ امیروں سے پیسے لو اور غریبوں میں تقسیم کر دو، لیکن یہ حکومت ایسا کبھی نہیں کر سکتی کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اس سے شیئر بازار میں گراوٹ آئے گی۔ امریکہ انہیں کہے گا کہ تم کارپوریٹ سیکٹر کو کیوں برباد کر رہے ہو۔
اب کیا پہلے ملک کے غریبوں اور کسانوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا یا پھر امریکی افسران کی خوشی کا خیال رکھا جائے گا؟ یہ موضوع آج ہمارے سامنے ہے۔ آپ نے نے امریکہ کو خوش کرنے کے لئے نیو کلیئر لائبلٹی بل پاس کیا، ریٹیل شعبہ میں سیدھے طور پر غیرملکی سرمایہ کاری کی اجازت امریکہ کو خوش کرنے کے لئے کی اس ملک کے غریبوں کا کیا ہوا؟ مثال کے طور پر یہاں فائدہ پر کوئی ٹیکس (ڈویڈنٹ ٹیکس) نہیں ہے، اگر کسی کمپنی کا مالک فائدہ کا اعلان کرتا ہے اور اسے فائدہ میں سے پیسے ملے ہیں تو اسے اس پر کوئی ٹیکس نہیں دینا ہوتا ہے۔ کون ٹیکس دیتا ہے؟ کمپنی ٹیکس دیتی ہے ۔ برابری پر لانے کے لئے کم سے کم یہ کیا جانا چاہئے کہ کمپنی میں کام کرنے والوں کو ٹیکس کے دائرہ سے باہر رکھا جانا چاہئے۔ ملازمین کا ٹیکس جو کچھ بھی ہو اس کی ادا ئیگی کمپنی کو کرنا چاہئے۔ اگر کمپنی مالک کے ٹیکس کی ادائیگی کر سکتی ہے تو وہ ملازمین کے ٹیکس کی ادائیگی بھی کر سکتی ہے۔ اگر غریب ملازمین ٹیکس کی ادائیگی کر رہے ہیں ، جن کی متعینہ آمدنی ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے، انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ اس کا حل کیا ہوگا۔ مالکان کو بنا کسی ٹیکس کی ادائیگی کئے بغیر فائدہ مل رہا ہے، کیا ہم ایک صاف شفاف اور انصاف پسند سماج میں رہ رہے ہیں؟یہ بنیادی سوال پوچھنے کی ضرورت درپیش ہے۔آئندہ انتخاب اس موضوع پر ہوں گے کہ یہ ملک کس کا ہے؟ کیایہ ملک مٹھی بھر تجارتی گھرانوں کا ہے یا پھر یہ ملک کے کروڑوں کسانوں اور مزدوروں کا ہے جو کھیتوں اور فیکٹریوں میں کام کر رہے ہیں۔ یہ آج کے وقت کا سب سے بڑا مدعا ہے۔ بات ایک لاکھ 80کروڑ یا ایک لاکھ 70ہزار کروڑ کی نہیں ہے ، بات حکومت کی ایمانداری کی ہے، کام کرنے کے صحیح طریقہ کی ہے، شفافیت کی ہے۔ حکومت غریبوں کے ووٹ سے چنی جاتی ہے لیکن یہ صرف امیر لوگوں کی ہی خدمت کرتی ہے۔ اس طرح کی جمہوریت سے ملک کتنے دنوں تک چلے گا۔ ہماری جمہوریت کچھ ممالک کی طرح ہو گئی ہے جن کا نام میں نہیں لینا چاہتا ہوں، جہاں رائے دہی تو ہوتی ہے ، لیکن لوگوں کو آزادی نہیں ہے۔ ہندوستان میں بھی ہم لوگ اس سطح پر پہنچ گئے جہاں ہماری ساری آزادی ختم ہو گئی ہے۔ ہمیں بتایئے کہ عام آدمی کوئلہ الاٹمنٹ میں ہوئی خورد برد یا پھر 2جی گھوٹالہ یا چاروں جانب پھیل رہی بدعنوانی کو دیکھ کر کیا سوچتا ہوگا۔ انا ہزارے جیسے لوگوں کی تحریک ان کی وجہ سے مقبول نہیں ہوئی بلکہ انہی وجوہات سے ہوئی ہے اور انا ہزارے کو اچانک گاندھی بنا دیا گیا۔ ان کی تحریک اتنی بڑی اس وجہ سے ہو گئی کیونکہ انھوں نے عوام کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔لوگ پہلے سے ہی ان باتوں کو محسوس کر رہے تھے اور اسی وقت تحریک  شروع ہوئی جس کے سبب لوگ ان کے آس پاس کھڑے ہونے لگے کیونکہ لوگوں کا ماننا تھا کہ انا ہزارے صحیح کہہ رہے ہیں۔ جب تک حکومت یہ نہیں دکھائے گی کہ وہ بدعنوانی پر لگام لگانے کے لئے کچھ کر رہی ہے ، بدعنوان لوگوںکو سزا دے رہی ہے، غلط کاموں کو روک رہی ہے ، تب تک لوگوں کو ان پر بھروسہ نہیں ہوگا۔ منافع کمانا کوئی غلط بات نہیں ہے لیکن منافع کا ناٹک کر کے کچھ لوگوں کو منافع دینا صحیح نہیں ہے۔ کوئلہ الاٹمنٹ یا پھر 2جی اسپکٹرم میں حکومت کو فائدہ نہیں ہوا بلکہ کچھ لوگوں کو فائدہ دیا گیا جو کہ شرمناک ہے۔ میں ورلڈ سوشلزم کو جانتا ہوں۔ 1991میں منموہن سنگھ نے سوشلزم کا مذاق اڑایا ، جیسے کہ جواہر لعل نہرو یا اندرا گاندھی کو ملک کے مفادات کا خیال ہی نہیں تھا۔ ہم لوگ یہ کبھی نہیں بھول سکتے کہ ٹاٹا، بڑلا، امبانی جیسے صنعت کار اسی سماجوادی دور کی پیداوار ہیں۔ 1991کے بعد کیا ہوا یہ سبھی جانتے ہیں۔ اس سرمایہ دارانہ اور مقابلہ آرائی والے نظام میں حکومت نے کیا پیدا کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں۔ آپ ایک اور بات سمجھ سکتے ہیں کہ کارپوریٹ سیکٹر کو پالیسی بنانے کے لئے اور لوگوں کی ضرورت نہیں ہے، وہ خود ہی پالیسی بنا لیتے ہیں۔ وہ اپنا راستہ خود بنا لیںگے۔ جو بھی قاعدے قانون ہوں وہ اپنا راستہ خود ہی بنا لیں گے اور اپنا معاش چلا  لیںگے۔ اس حکومت کو ان لوگوں کی روزی روٹی کے لئے کسی طرح کے قانون بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بنیا سماج یا پھر کارپوریٹ سیکٹر اپنے لئے راستہ بنا ہی لیتے ہیں۔ کوئی بھی قانون پورے ملک کے فائدے کے لئے بنایاجانا چاہئے۔ اس طرح کا قانون بنایا جانا چاہئے، جس سے ملک کے بیشتر لوگوں کو فائدہ ہو نہ کہ کسی خاص طبقے کو، وہ لوگ دولت کما لیںگے۔ حالانکہ جس طرح سے دولت وہ کمانا چاہتے ہیں یا جتنی دولت کمانا چاہتے ہیں اتنی نہیں کمائیںگے لیکن ان کی دولت وہائٹ منی ہوگی۔ لیکن اتنے سے انہیں تسلی ہونا چاہئے ۔ہمیں تسلی ہونی چاہئے لیکن اس کے بعد سرکار کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی پڑے گی۔ سرکار کو عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

انڈین نیشنل کانگریس کا اواڈی سیشن
سال 1955 کا اواڈی سیشن کانگریس کے لئے سب سے تاریخی مانا جاتا ہے۔ اسی سیشن میں کانگریس نے ملک کے سماجوادی پیٹرن کا منصوبہ بنایا تھا۔ اسے جواہر لال نہرو اور مولانا آزاد نے بنایا تھا۔ اواڈی تجویز میں کہا گیا تھا کہ کانگریس کا مقصد اب کنشی ٹیوشن کے پریمبل او ر ڈائریکٹیو پرنسپل آف اسٹیٹ پر عمل کرنا ہوگا ۔منصوبے سماجوادی فارمیٹ کی بنیاد پر بنایا جانا چاہئے جس میں مصنوعات کے وسائل پر عوام کا حق ہو، مصنوعات کو بڑھایا جائے گااور ملک کے سرمایہ کی تقسیم میں مساوات ہوگی۔ ملک کے وسائل کا استعمال سبھی لوگوں کے حق میں کیا جائے گا نہ کہ کسی خاص طبقے کے فائدے کے لئے اس کااستعمال کیا جائے گا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے 1955 میں اواڈی تجویز پاس کیا تھا۔ اس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ ہندوستان میں کس طرح کا سماج ہوگا اور اس کے لئے کیا کیا جانا ہے۔ جواہر لال نہرو کی قیادت میں ہوئے اس سیشن میں کانگریس نے سماج کے سماجوادی نمونے کے آئڈیلیٹی کو قبول کیا تھا۔ جواہر لال نہرو کا ماننا تھاکہ سماجواد پورے نوع انسانی کے مسائل کا حل کر سکتا ہے۔ صرف سماجواد کے ذریعہ سے ہی غریبی، بے روزگاری کو دور کیا جاسکے گا۔ سماجواد ہی ملک کے سیاسی اور سماجی فارمیٹ کو بدل سکتا ہے۔ یو این ڈھیبر، پنڈت جی بی پنت، مرارجی دیسائی، کھنڈو بھائی دیسائی،ایس این اگروال، دیو کی نندن نارائن، بلونتری مہتا، ڈاکٹر سید محمود، ہرے کرشنا مہتاب، ڈاکٹر کے این کاٹجو، گلزاری لال نندا اور لال بہادر شاستری وغیرہ نے اس تجویز کو قبول کیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here