کانگریس پارٹی کنفیوژن میں ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
کابینہ میں ہوئے رد و بدل سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ الٹے یہ پیغام گیا ہے کہ حکومت یا کانگریس پارٹی کنفیوژن میں ہے۔اس کے سامنے کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ ملک کو چلانے کے لیے کس طرح کے لوگ ضروری ہیں اور پارٹی کو انتخاب میں جیت دلانے کے لیے کس طرح کے لوگ چاہئیں، یہ بھی کانگریس کے سامنے کچھ صاف نہیں ہے۔ اس ردو بدل سے یہی پیغام گیا ہے کہ پوری کانگریس پارٹی کنفیوژڈ لوگوں کی پارٹی ہے، وہ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔کانگریس میں جنریشن وار چل رہی ہے کہ نئے لوگ اقتدار سنبھالیں اور پرانے لوگ اقتدار چھوڑیں۔ پرانے لوگوں نے اقتدار چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ منموہن سنگھ کی قیادت میں 50 سے 60 سال کے اوپر کے لوگ تقریباً ایک رائے ہوکر ایک طرح سے کام کر رہے ہیں۔ نیچے کے لوگوں کے درمیان کوئی ایک رائے نہیں ہے۔وہ سب راہل گاندھی یا سونیا گاندھی کے اوپر منحصر ہیں۔سونیا گاندھی اپنے بیٹے کو وزیر اعظم بنانا چاہتی ہیں۔ یہ انہوں نے کہا نہیں ہے، لیکن جب نوجوانوں کی بات ہوتی ہے تو جس طرح ملک کا پہلا شہری صدر جمہوریہ ہے، اسی طرح کانگریس کا پہلا نوجوان راہل گاندھی ہے۔جب نوجوانوں کو اقتدار سونپنے کی بات ہوتی ہے تو اس کا مطلب سیدھا سیدھا یہی نکلتا ہے کہ پارٹی کا پہلا نوجوان وزیر اعظم بنے۔
وزیر اعظم اور سونیا گاندھی، جو کانگریس کی سب سے طاقتور لیڈر ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کے بنیادی مسائل یا بنیادی سوالوں کو لے کر ان کے درمیان سنجیدگی سے کوئی بات شاید نہیں ہوئی۔ اگر ہوئی ہوتی تو مسئلہ یہاں تک نہیں پہنچتا۔ یا تو سونیا گاندھی مسائل کو سمجھتی نہیں ہیں، سمجھتی ہیں تو منموہن سنگھ سے بات نہیں کرتی ہیں اور اگر وہ بات کرتی ہیں تو منموہن سنگھ ان کی بات مانتے نہیں ہیں۔یہ تین صورت حال ہے۔ تینوں صورت حال کا اگر آپ تجزیہ کریں تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اس ملک کا درد، اس ملک کی تکلیف مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس تکلیف کو دور کرنے کا کوئی نقشہ، نہ تو ملک کے وزیر اعظم کے پاس ہے اور نہ کانگریس یا سونیا گاندھی کے پاس۔
اس ردو بدل میں جے رام رمیش کو ماحولیات کی وزارت سے نکالنے کے پیچھے وزیر اعظم کا ہاتھ رہا۔وزیر اعظم ان سارے لوگوں کو نکالنا چاہتے تھے، جو سونیا گاندھی یا راہل گاندھی کے قریبی ہیں،لیکن سونیا گاندھی اسے نہیں مان رہی تھیں۔جے رام  رمیش کچھ بیان صحیح دیتے تھے اور کئی جذبات میں دے دیتے تھے۔وہ صرف بیان دیتے تھے، لیکن ایکشن کچھ نہیں ہوتا تھا۔ جے رام رمیش سونیا گاندھی کے صلاح کار تھے۔ وہ سونیا گاندھی سے بھی زیادہ راہل گاندھی کے صلاح کار ہوگئے تھے۔ یہ منموہن سنگھ کے لیے تکلیف دہ تھا کہ ایک آدمی بیان دے کر مشکلیں تو بڑھا رہا ہے، لیکن حل نہیں نکال رہا ہے۔ اگر کہیں تو محترم جے رام رمیش بھی ایک سپر کنفیوژڈ آدمی ہیں، جنہوں نے اپنی واہ واہی کے لیے ٹیلی ویژن چینلوںکے ساتھ ڈیل کی، انہیں پیسے دلوائے اور ان کے رپورٹروں کو ساتھ لے کر سمندر کی سیر کرائی۔نتیجہ کیا نکلا ان تمام سفر کا؟اگر اس طریقے سے، جیسے امیتابھ بچن گجرات کے برانڈ امبیسڈر بن کر بیداری پیدا کرتے ہیں، اُس طرح کی بیداری پیدا کرنا چاہتے ہیں، تب تو صحیح ہے،لیکن ایک وزیر ماڈل بن کر بیداری مہم میں شامل ہو جائے، ایک ٹیلی ویژن چینل کے کیمرے کو 24 گھنٹے ساتھ لے کر چلے، تو یہ بہت غلط ہے اور سرکار کے وزیر کو یہ سب زیب نہیں دیتا۔
اگر ان کو یہ کام کرنا بھی تھا تو سارے ٹی وی چینلوں کو بلاتے اور کہتے کہ میں یہ کرنے جا رہا ہوں، آپ سب لوگ آئیں۔ ملک کے کروڑوں لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں، لیکن انہوں نے ایک چینل کو ترجیح دی۔ظاہر ہے، پیسہ بھی دیا ہوگا یا کہیں سے پیسے کمانے کا راستہ کھول دیا ہوگا۔اب جے رام رمیش زندگی میں کبھی گائوں نہیں گئے۔ جے رام رمیش کا گائوں سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ جے رام رمیش دیہی ترقیات کے وزیر بنا دیے گئے۔ اب جب انہوں نے کوئی نتیجہ ماحولیات کے وزیر رہتے ہوئے نہیں دکھایا تو دیہی ترقیات کے وزیر رہتے ہوئے وہ کیا راستہ دکھائیں گے یا گاؤں کی کیا ترقی کریں گے؟ سوائے اس کے کہ وہ یہ بیان دیں کہ ہم جو پیسہ دیتے ہیں، ریاستی حکومتیں ان پیسوں کا غلط استعمال کرتی ہیں۔ہم منریگا جیسی اسکیمیں چلاتے ہیں، ریاستی سرکاریں یہ کرتی ہیں۔کل ملا کر وہ شاید یہاں بھی کانگریس پارٹی کے ترجمان کی طرح اُن ریاستی سرکاروں ، جہاں کانگریس اقتدار میں نہیں ہے، اُن کے خلاف بیان بازی کریں گے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ صرف وزارت برائے دیہی ترقیات، جہاں دو سالوں میں دو وزیروں کو بدلا گیا، اب جے رام تیسرے وزیر ہیں۔ سرکار اس ملک کے ساتھ بیوقوفی بھرا تجربہ کر رہی ہے۔ آپ اس شخص سے گنیش کی مورتی بنانے کے لیے کہہ رہے ہیں، جسے مورتی بنانا نہیں آتا، وہ اسے گنیش بناتے بناتے بندر بنا دے رہا ہے۔یہ اِس سرکار کی حالت ہے۔
ملک کو بنانے کا نظریہ منریگا کی شکل میں سامنے آیا کہ ہم دیہی لوگوں کو روزگار دیں گے، لیکن اس کے ساتھ ہی پوری کی پوری پنچایت تک آپ نے بد عنوانی پہنچا دی۔ آپ کے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے کہ پنچایت میں ہونے والی بدعنوانی،جو منریگا کے تحت ہو رہی ہے، کو آپ روک سکیں۔ کیوں کہ آپ سوچتے ہیں کہ جب آپ یہاں ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ کا گھوٹالہ کر رہے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہاں کوئی ایک لاکھ کاگھپلہ کر رہا ہے۔ لیکن بد عنوانی کی کڑی جڑ جاتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ جو ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہو رہا ۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ آپ چھوٹی یا گھریلو صنعتوں میں کام آنے والی چیزوں، ایسی نو سو کے قریب چیزیں ہیں، جن میں سوئی، دھاگہ، صابن ، جوتا اور بٹن وغیرہ ہیں، ان پر سرکار پابندی لگا دے کہ یہ چیزیں صرف اسمال اسکیل سیکٹر میں بنیں گی، اس میں وہ بڑے صنعت کاروں اور کمپنیوں کو نہ آنے دے۔ بڑی کمپنیاں بنائیں، لیکن انٹرنیشنل مارکیٹ کے لیے، ملک کے مارکیٹ کے لیے نہیں۔ آپ اسکول ،کالج کے ساتھ اس طرح کی چیزیں بنانے کے لیے ٹریننگ سنٹرس کھولیں۔ وہاں سے جو لڑکے، لڑکیاں نکلیں گے،وہ بے روزگار نہیں ہوں گے۔ لیکن سرکار میں جب سوچنے کی صلاحیت نہ ہو، قوتِ ارادی نہ ہو اور جب اس ملک کو پہلے روس اور اب امریکہ کے ہاتھوں گروی رکھنے کی قسم کھا رکھی ہو، تو پھر کوئی کیا کر سکتا ہے؟
اب وزارتِ اقلیتی امور کو ہی دیکھیں۔سلمان خورشید کو وزیر قانون بناکر وزارتِ اقلیتی امور کی اضافی ذمہ داری دے دی گئی۔اس کے کیا معنی ہیں؟سوال یہاں صرف مسلمانوں کا یا ان کی بھلائی کا نہیں ہے، سوال کام کرنے کے طریقے کا ہے۔ ملک میں ایک سسٹم ہے۔ ایک وزیر اعظم ہوتا ہے، ایک کابینی وزیر ہوتا ہے اور پھر ایک وزیر مملکت ہوتا ہے۔ لیکن کیا حکومت کے پاس اتنے لوگ نہیں ہیں کہ وہ اس ملک کے ایک ارب لوگوں کی بھلائی کے لیے کم سے کم ایک محکمہ میں ایک وزیر دے سکے۔ کیا پارلیمنٹ میںایسے لوگ نہیں ہیں؟ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کام کی تقسیم کرکے لوگوں کو زیادہ ذمہ داری دی جائے اور ان کے درمیان تال میل قائم ہو۔ کانگریس اقلیتوں میں سے کسی کو آگے بڑھانا نہیں چاہتی، کیوں کہ کوئی لیڈر شپ کھڑا کرنا نہیں چاہتا۔ کانگریس کے پاس کوئی دلت لیڈر نہیں ہے، نہ کوئی ایسا وزیر ہے۔ ایک مُکُل واسنِک ہیں، جو دلتوں کے لیے کم، سماج کے لیے کم اور دولت مندوں کے لیے زیادہ کام کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی پچھڑا ہے۔ محروموں، دلتوں ،مالی طور پر کمزور، پچھڑوں کو قیادت دینے کا کوئی منصوبہ یو پی اے کے پاس نہیں ہے۔ میں این ڈی اے کی بات نہیں کر رہا ہوں، کیوں کہ وہ تو اس سے بھی گھٹیا ٹیم ہے۔ اس ملک کے عوام ایک طرف چھوٹ گئے ہیں۔ اس کے لیے سوچنے والے ختم ہو گئے ہیں یا جو سوچ سکتے ہیں، وہ سامنے نہیں آ پا رہے ہیں یا انہیں موقع نہیں مل رہا ہے۔آج حکومت ہند میں جتنے وزیر ہیں یا جتنے وزیر اٹل جی کے وقت میں تھے، ان کے پاس اس ملک کو اچھا بنانے کا کوئی خواب نہ تب تھا اور نہ اب ہے۔ ان کے سامنے کوئی نقشہ نہیں ہے، جس سے لوگ مایوسی سے بچیں، کوئی خواب دیکھیں اور سوچیں کہ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں ہماری زندگی میں خوشحالی آئے گی۔ نہ وزیر اعظم، نہ سونیا گاندھی ، نہ ادھر اڈوانی، نہ سشما سوراج۔ ایسا لگ رہا ہے کہ کنفیوژن کا وائرس سب کے درمیان پھیل گیا ہے، جو ملک کے بارے میں نہیں ، صرف اپنے بارے میں سوچ رہا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *