کانگریس کا ہاتھ دہشت گردوں کے ساتھ ہے : یوگی آدتیہ ناتھ

Share Article

 

کانگریس کہتی تھی کہ ملک پر پہلا حق مسلمانوں کاہے جبکہ ہم کہتے ہیں کہ ملک پر سب کا برابر حق ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی نے سبھی کو انکا حق دینے کا کام کیا ہے۔ حال ہی میں کانگریس پارٹی نے جو اپنا انتخابی منشور جاری کیا ہے اسکو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ کانگریس کا منشور میں کانگریس کا ہاتھ دہشت گردوں کے ساتھ ہے۔

 

Image result for yogi adityanath and attack on congress

ان خیالات کااظہار اترپردیش کے وزیرا علیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے علی گڑھ کے اترولی میں واقع کے اے بی انٹر کالج میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے حذب مخالف پر شدید تنقید کی اور کہا کہ کانگریس کا ہاتھ ملک مخالفین کے ساتھ ہے۔ انھوں نے کہاکہ ملک کے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو دور سے دیکھنا بھی گناہ ہے۔
انھو ںنے راہل گاندھی کا نام لیتے ہوئے کہاکہ انکا بس چلے تو کشمیر کے پتھر بازوں کا وظیفہ باندھ دیں ،کانگریس دہشت گردی اور نکسل واد کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ آج ہم اور آپ محفوظ ہیں تو صرف اس لئے کہ ہمارا ملک محفوظ ہے۔ انھوں سماجوادی پارٹی بہوجن سماج پارٹی اور لوکدل اتحاد کو غنڈہ گردی بدعنوانی سے تعبیر کیا۔ انھوں نے کہا کہ آج صوبہ میں 8 سیٹوں پر الیکشن ہوا ہے جہاں اس اتحاد کی ہوا نکل گئی ہے۔ یوپی کی سبھی سیٹوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کامیاب ہوگی۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہاکہ مودی کے ذریعہ بدعنوانیوں کے خلاف جب تحریک چلائی جارہی ہے تو سبھی متحدہ طورپر انھیں روکنے کی کوششیں کررہے ہیں۔

 

Image result for yogi adityanath and attack on congress

 

انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہی مسلم عورتوں کو تین تلاق سے آزادی دلائی ہے۔سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس یہ کام نہیں کرسکتی تھی کیونکہ انھیں ڈر تھا کہیں مولانا ان کے خلاف فتویٰ نہ دیے دیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ایسے فتوں سے نہیں ڈرتی۔انھوںنے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ قومی وسائل سے چلنے والی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ہمارا قانون اقلیتی درجہ نہیں دیتا ہے۔ یہ یونیورسٹی پوری طرح سے ملک کی عوام کے پیسوں سے چلتی ہے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ یہاں آج تک دلتوں اور پسماندہ طبقات کو ریزرویشن نہیں دیا جارہا ہے۔ یہ سوال کانگریس اور اتحادیوں سے پوچھنا چاہیے کہ انھوں نے اس ناانصافی کے خلاف کبھی آواز نہیں اْٹھائی۔ انھوں نے ستیش گوتم کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ یہ وہی نوجوان ہے جس نے ملک کو تقسیم کرنے والی محمد علی جناح کا مدعا اْٹھا یا تھا۔ انھو ںنے کہاکہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ایسے نوجوان کو بڑی اکثریت سے کامیاب بناکر پارلیمنٹ میں بھیجیں۔

 

Image result for yogi adityanath and attack on congress

 

انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی تعمیر میں پارٹی نے جو کام کیا ہے اسکی مثال 70 سال کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔انھوں نے کہاکہ آج میں ملک کے جس حصہ میں بھی جارہاہوں وہاں سے ایک ہی آواز اْٹھ رہی ہے کہ ایک بار پھر مودی سرکار۔ انھوں نے کہاکہ آج چین ڈوکلام میں پیچھے ہٹ رہا ہے اور پاکستان کو ہم ہر مورچہ پر منہ توڑ جواب دے رہے ہیں یہ سب مودی کی وجہ سے ممکن ہورہا ہے۔ اسلئے ہی کہا جارہا ہے کہ مودی ہیں تو ممکن ہے۔ انھوں نے کہاکہ ایک وقت تھا کہ اترپردیش میں بجلی کی قلت تھی آج عالم یہ ہے کہ بجلی زیادہ ہے اور ہم نے جو وعدے کئے تھے وہ سبھی پورے کررہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی میں ایک وقت میں جنگل راج قائم تھا۔ آج ہر طرف امن ہے۔انھوں نے کہاکہ ہم اترپردیش کو گنگا ایکسپریس سے دینے جارہے ہیں جس کے بعد میرٹھ سے پریاگراج کو جو سفر 11گھنٹہ کا تھا وہ اب 6 گھنٹہ کا رہ جائے گا۔ اس موقع پر راجستھان کے گورنر کلیان سنگھ کے بیٹے اور ایٹہ سے ممبرپارلیمنٹ راجیو یر سنگھ راجو، علی گڑھ پارلیمانی حلقہ سے اْمیدوار ستیش کمار گوتم، ایم ایل سی ٹھاکر جے ویر سنگھ، ممبرانِ اسمبلی ٹھاکر دلویر سنگھ، انل پراشر، سنجے راجہ، انوپ بالمکی کے ساتھ مانویندر پرتاب سنگھ، نتھی سنگھ، ضلع پنچائت صدر اْپیندر سنگھ نیٹو نے بھی موجود تھے۔غورطلب ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ طے شدہ پروگرام کے مطابق ڈھائی گھنٹہ کی تارخیر سے علی گڑھ پہنچے تھے۔ وہیں کے ایم وی انٹر کالج میں پارٹی کارکنان کے ساتھ باشدگانِ اترولی دوپہر 12 بجے سے تیز دھوپ میں جمے رہے اور انتظار کرتے رہے جس سے انھیں سخت دشواریوں سے دوچار ہونا پڑا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *