کانگریس چاہے تو اچھے اپوزیشن کا رول نبھا سکتی ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
ہندوستانی معاشرے میں بہت ساری کہانیاں اور بہت ساری کہاوتیں ہیں، جو سینکڑوں ہزاروں سالوں کے تجربات کے بعد حقیقی شکل میں بنی ہیں۔ ایک کہانی آپ کو سناتے ہیں۔ دو پڑوسی تھے۔ ایک پڑوسی اپنے دوسرے پڑوسی سے بہت جلتا تھا اور اس کی جلن کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے پڑوسی کا برا کرنے کے لیے کسی سے بھی مدد لے سکتا تھا۔ اس نے اچانک سوچا کہ میں اپنے پڑوسی کا روز صبح اَپ شگن کروں۔ ہندوستانی معاشرے میں اَپ شگن کے کئی طریقے ہیں، جیسے بلی راستہ کاٹ جائے تو اَپ شگن مان لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک آنکھ کا آدمی دکھائی دے جائے، تو دیکھنے والا اسے اپنا اَپ شگن مان لیتا ہے۔ اس جلنے والے پڑوسی نے سوچا کہ بلی میں تو اس کے راستے میں چھوڑ نہیں سکتا، لیکن اس کو میں ایک آنکھ کا آدمی، جسے ’کانا‘ کہتے ہیں، اس کا چہرہ اسے روز دکھا سکتا ہوں۔ اسے ایک ایسے کانے کی تلاش تھی، لیکن اسے کوئی کانا ملا نہیں، تب اس نے اپنی ہی ایک آنکھ پھوڑ لی اور اس نے اپنا چہرہ روز سویرے پڑوسی کو دکھانے کا فیصلہ کیا، تاکہ پڑوسی کا روز اَپ شگن ہو۔
یہ کہانی ہندوستانی سیاست میں کانگریس کے اوپر سٹیک بیٹھتی ہے۔ اس وقت کانگریس جلن کی جگہ نا اہلی لفظ کے دائرے میں اپنی آنکھ پھوڑ پڑوسی کا اَپ شگن کرنے کا منصوبہ بناتی دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس کو جہاں برسر اقتدار پارٹی سے عوام کو ساتھ لے کر، عوام کے سوالوں کو لے کر لڑتے دکھائی دینا چاہیے، وہاں وہ آپس میں لڑنے میں پورا وقت خرچ کر رہی ہے۔ کسے ہٹایا جائے، کسے گھر بیٹھایا جائے، کسے برف میں لگایا جائے۔ بس عوام کے درمیان نہ جایا جائے۔ یہ چار لفظوں کی کہانی کانگریس کی بن گئی ہے۔ نہ کانگریس سے کسی کی دشمنی ہے، نہ کانگریس کی کسی سے دوستی ہے، مگر لگتا ضرور ہے کہ جمہوریت کی اہمیت کانگریس نے بھلا دی ہے۔ اگر جمہوریت میں کانگریس کو اپوزیشن کا مقام ملا ہے، تو اس کا مطلب اسے پانچ سال تک عوام کے سوالوں کو لے کر، عوام کو کھڑا کرنے، پرجوش کرنے اور نا امیدی سے لڑنے کا وقت ملا ہے۔ لیکن، کانگریس تو شاید اپوزیشن کا مطلب ہی نہیں سمجھتی، اس لیے اس نے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر کے عہدہ کو بھی عدالت میں لانے کی چیز بنا دیا اور جب سپریم کورٹ نے اس کے اوپر دھیان نہیں دیا، تو ایک طرح سے اپوزیشن کے لیڈر کا عہدہ بھیک میں مانگنے جیسا ماحول بنا لیا۔ کیا لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر کا عہدہ ملنے سے ہی اپوزیشن کا رول پورا ہوتا ہے؟ شاید نہیں۔ کانگریس اپنے پچھلے دس سال کے دورِ حکومت کا ایک سبق بھول گئی۔ پچھلے دس سالوں میں اپوزیشن کے طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی تھی اور اپوزیشن کے لیڈر کے عہدہ پر سشما سوراج تھیں، اس سے پہلے لال کرشن اڈوانی تھے۔ اتنے بھاری بھرکم لیڈروں کے ہونے کے باوجود ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن کا کوئی مثبت رول نہیں نبھایا اور اس کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کو کبھی نہیں معاف کیا جا سکتا، کیوں کہ اس نے پہلی بار اپوزیشن کے وقار کے اوپر سوال کھڑا کردیا، لیکن اس کے باوجود سرکار کی غلط پالیسیاں اور سرکار کے غلط فیصلے، سرکار کے ذریعے پیدا کیے گئے مسائل سے پنپنے والے غصے نے کانگریس پارٹی کو اپوزیشن کے لیڈر کے عہدہ پر قابض ہونے کی عدد بھی نہیں ملنے دی اور جس پارٹی نے اپوزیشن کا مثبت رول نہیں نبھایا اسے ہی اقتدار سونپ دیا۔
شاید کانگریس اسی راستے پر چلنا چاہتی ہے۔ کانگریس میں اب سیاسی طور سے سوچنے سمجھنے والے لیڈروں کی یا تو کمی دکھائی دینے لگی ہے یا جو سیاسی طور سے سوچ سمجھ سکتے ہیں، وہ اپنی بات کہنا فضول مانتے ہیں۔ بہار کے اسمبلی الیکشن کے وقت راہل گاندھی نے بہار میں پوری طاقت لگائی، لیکن طاقت انہوں نے ایسی تنظیم کو لے کر لگائی، جسے انہوں نے یا ان کے ساتھیوں نے کبھی بننے ہی نہیں دیا۔ نتیجہ کے طور پر بہار میں کانگریس کے صرف چار ایم ایل اے چنے گئے۔ اس کے ڈیڑھ سال کے بعد اتر پردیش کا الیکشن تھا، لیکن کانگریس نے کوئی سبق نہیں لیا اور اتر پردیش میں تنظیم کو مضبوط کرنے کا کوئی پروگرام نہیں بنایا۔ نہ پارٹی کے ممبرانِ پارلیمنٹ کو اترپردیش میں لگایا گیا، نہ ممبرانِ اسمبلی اور نہ ان لیڈروں کو جو ایم پی نہ ایم ایل اے، لیکن جن کی سماج میں پکڑ تھی۔ ایک ناکارہ، مردہ تنظیم اتر پردیش میں بنی رہی اور دہلی سے بیٹھ کر اسی کمزور و ناتواں تنظیم کو ہلانے ڈلانے کی قواعد ہوتی رہی۔
یہ سب راہل گاندھی کی آنکھ کے نیچے ہو رہا تھا، اس پارٹی میں جس کی صدر ان کی خود کی ماں سونیا گاندھی ہیں۔ نتیجہ، اتر پردیش میں پارٹی بری طرح ہاری۔ لوک سبھا کے انتخابات اس کے دو سال بعد ہونے تھے۔ لیکن لوک سبھا الیکشن کو لے کر بھی پورے ملک میں نہ تنظیم کو اہل بنایا گیا، نہ پارٹی کے ممبرانِ پارلیمنٹ اور ممبرانِ اسمبلی کو ملک کی ذمہ داری دی گئی، نہ انہیں بتایا گیا کہ کس سمت میں پارٹی تنظیم کو کھڑا کرنا ہے۔ دوسری طرف، سرکار من مانے طریقے سے فیصلے لیتی رہی اور راہل گاندھی ان پی آر کمپنیوں کے اشارے پر اپنا رخ طے کرتے رہے، جو ہندوستانی سماج کو سمجھتی ہی نہیں ہیں۔ پارٹی کے اندر سیاسی صلاحوں اور سیاسی قدموں کی اتنی کمی پیدا ہو گئی، جسے صرف ایک لفظ سے بیان کیا جا سکتا ہے، اور وہ ہے ’صفر‘۔
عام طور پر یہ مانا جا رہا ہے کہ سرکار کے فیصلے سرکار نہیں لیتی تھی، 10 جن پتھ سے ہوتے تھے۔ 10 جن پتھ نے بھی اس کی آج تک مذمت نہیں کی ہے کہ فیصلے ان کے یہاں سے نہیں ہوتے تھے۔ لیکن اگر اقتدار کا ایک ہی مرکز تھا، تو اس کا جو مثبت نتیجہ نکلنا چاہیے تھا، وہ نتیجہ نہیں نکلا۔ گھوٹالے پر گھوٹالے سامنے آتے گئے اور پارٹی ان میں لگاتار گھرتی چلی گئی۔ اس کے باوجود کوئی بھی منصوبہ لوک سبھا کا الیکشن لڑنے کی کانگریس پارٹی میں بنتی نہیں دکھائی دی۔ اور یہ سب راہل گاندھی کی نا کردگی اور شریمتی سونیا گاندھی کے غیر سیاسی علم کا نتیجہ مانا جا سکتا ہے۔ نریندر مودی کے ذریعے اٹھائے گئے سوالوں کا جواب کانگریس پارٹی کبھی دے نہیں پائی اور کانگریس پارٹی نریندر مودی کے ذریعے بنائے گئے اکھاڑے میں لڑتی دکھائی دی۔ کانگریس یہ بھول گئی کہ اپنے اکھاڑے میں جیتنا آسان ہے، جب کہ مد مقابل کے اکھاڑے میں لڑنے میں ہارنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
لوک سبھا کا الیکشن ختم ہوا۔ کانگریس پارٹی 44 سیٹوں پر آ گئی، اس کے باوجود غیر سیاسی سوال اس کے لیے زیادہ اہم ہو گئے، مثلاً لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ راہل گاندھی یا کانگریس کی صدر ان کی ماں سونیا گاندھی پارٹی کے سبھی گروہوں کو، پارٹی کے سبھی سینئر لیڈروں کو الگ الگ بلاتیں اور اتنے بڑے ملک میں پارٹی کو کیسے کھڑا کرنا ہے، اس کے بارے میں سب کی رائے لیتیں۔ لیکن اس کی جگہ خود کو بچانے کے لیے ذمہ داریاں طے کی جانے لگیں اور ہمیشہ کی طرح ہار کا تجزیہ کرنے کے لیے انٹونی کمیٹی بنی۔ پارٹی کو لے کر جتنی بھی کمیٹیاں بنی ہیں، ان میں زیادہ تر میں انٹونی صاحب رہے ہیں۔ اور انٹونی صاحب نے راہل گاندھی کو پاک صاف قرار دے دیا اور کہا کہ منموہن سنگھ کی وجہ سے پارٹی ہاری۔ پارٹی میں اس کو لے کر کوئی بحث ہی نہیں ہوئی، بلکہ پارٹی میں ہی لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا، کیوں کہ منموہن سنگھ کی رہنمائی کرنے والا بھی تو 10 جن پتھ ہی تھا اور جب جب راہل گاندھی نے مانگ کی، تب تب منموہن سنگھ نے اس مانگ کو پورا کیا، بھلے ہی اسے تھوک کر چاٹنے کا لقب اپوزیشن نے دیا ہو۔
لیکن راہل گاندھی بجائے اس کے کہ پارٹی کا نئے سرے سے تجزیہ کرتے، ریاستوں کو نئے طریقے سے منظم کرتے، کیوں کہ ہر سال تقریباً ایک یا دو اسمبلیوں کے الیکشن لگاتار آنے والے ہیں اگلے لوک سبھا الیکشن تک اور ریاستوں میں کانگریس کا جیتنا بہت ضروری ہے، لیکن کسی طرح بہار میں نتیش کمار اور لالو یادو کے ساتھ اس نے سمجھوتہ کیا۔ لیکن باقی ریاستوں میں پارٹی تنظیم کیا کرے گی اور وہ کس کے سہارے اپنی ایک یا دو سیٹیں یا پانچ سیٹیں جیتنے کے امکانات تلاش کرے گی، ابھی تک صاف نہیں ہے۔
اب کانگریس کے سکریٹری، جن کا کانگریس میں کوئی رول نہیں ہے، وہ کانگریس کے سبھی لیڈروں کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر سکریٹری ایسے ہیں، جو نئے ابھرے امیر طبقہ سے آتے ہیں۔ انہیں نہ سیاست کی سمجھ ہے، نہ انہیں اپوزیشن کے پینتروں کی سمجھ ہے۔ ان میں سے زیادہ تر جی حضوری اور چاپلوسی میں ڈگری لیے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس بے پناہ پیسہ ہے اور یہ راہل گاندھی کے ساتھ کھڑے ہو کر ملک میں ایک نئی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ استقبال کیا جانا چاہیے اس نئی سیاست کا بھی، کیوں کہ اس کا جواب کانگریس کو ہریانہ کے الیکشن میں ملے گا، بہار کے انتخابات میں ملے گا، اس سے پہلے جھارکھنڈ میں ملے گا اور یہ جواب کانگریس کو بھارتیہ جنتا پارٹی نہیں دے گی، یہ جواب کانگریس کو عوام ہی دیں گے، وہ عوام جنہوں نے کانگریس کو لمبے عرصے تک ملک میں اقتدار پر قابض رکھا اور اس کی صرف اور صرف ایک وجہ ہوگی، لوگوں کا کانگریس سے پوری طرح اعتماد ختم ہو جانا۔
راہل گاندھی سونیا گاندھی کے صاحبزادے ہیں، یہ بات ان کے حق میں جاتی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ حق میں ان کے کوئی دلیل اگر مستقبل میں جا سکتی ہے ، تو وہ ہے ان کی سمجھ۔ اگر وہ ہندوستانی مسائل کو سمجھیں، ہندوستان کے لوگوں کی تکلیفوں کے ترجمان بنیں، تو شاید لوگ ان کی طرف دوبارہ دیکھیں، لیکن ابھی تک ایسا لگتا ہے کہ راہل گاندھی بھارتیہ جنتا پارٹی کا اَپ شگن ہوں، اس کے لیے اپنی ہی آنکھ پھوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مجھے لگتا ہے، ہندوستانی جمہوریت میں اپوزیشن کا بہت مضبوط مقام ہے۔ اس رول کو کانگریس پارٹی کو کسی اور کے پاس نہیں جانے دینا چاہیے، بلکہ خود اس رول کو نبھانے کا ذمہ پورا کرنا چاہیے، ورنہ اپوزیشن کے اس رول کو نبھانے کے لیے نتیش کمار، ملائم سنگھ یادو، لالو یادو، دیوے گوڑا اور اوم پرکاش چوٹالہ جیسے لیڈر تیار بیٹھے ہیں۔ مجھے لگتا ہے اگلے پانچ سال میں اپوزیشن کے باب میں ایک نئی عبارت لکھی جا سکتی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *