کانگریس سی اے جی کے وقار کو مجروح کر رہی ہے

Share Article

کمل مرارکا
سی اے جی کی رپورٹ سی اے جی کی فائنڈنگ ہوتی ہے۔ موجودہ سرکار اس سے متفق یا مخالف ہوسکتی ہے لیکن یہ پارلیمنٹ میں بحث کا موضوعنہیں بن سکتی۔ سی اے جی کی رپورٹ ایک آزاد آڈیٹر کی فائنڈنگ ہوتی ہے اور یہ ایک ایسا موضوع نہیں ہے جسے ماننے یا نہ ماننے یا جس کی حمایت یا مخالفت کے اوپر پارلیمنٹ میں ووٹنگ کرائی جائے۔ یہ آئین کی روح کے مطابق نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی اس رپورٹ پر بحث کی خواہش مند ہے تاکہ سی اے جی کی رپورٹ کی اہمیت کو کم کی جا سکے ۔یہ اچھی بات ہے کہ بی جے پی اس جال میں نہیں پھنس رہی ہے۔ کانگریس غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کر رہی ہے اور یہ روز بروز بے معنی ثابت ہوتا جارہا ہے۔ کانگریس کہہ رہی ہے کہ بی جے پی بحث سے بھاگ رہی ہے کیونکہ ان کے کچھ وزراء اعلیٰ نے بھی کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کی نیلامی کی صلاح کی مخالفت کی تھی۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ مان لیجئے کہ کانگریس اور بی جے پی، دونوں کے وزیر اعلیٰ اس غیر قانونی کام کو کرنے کے لئے تیار ہو جاتے تو کیا یہ کام قانونی ہو جاتا ؟نہیں، یہ تب بھی غیر قانونی ہی رہتا۔ اس ملک میں دوسری پارٹیاں بھی ہیں۔ملک میں رہنے والے لوگوں کی ایک بھاری تعداد ہے۔ بی جے پی یا کانگریس پارٹی لوگوں کو اپنے اپنے حصے میں بانٹ کر خوش نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک بیکار اور غیر مناسب سوچ ہے۔ کانگریس پارٹی بائیں محاذ کو اس لئے معاف کر رہی ہے کیونکہ وہ مغربی بنغال اور کیرل میں منہ کی کھا چکے ہیں لیکن اس شکست کا مطلب سفر کا اختتام نہیں ہے۔ مغربی بنگال کی موجودہ سرکار بھی سی اے جی رپورٹ کے معاملے پر کانگریس سے متفق نہیں ہے۔سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ طرح طرح کی دلیلیں دی جارہی ہیں۔ نیلامی کا مسئلہ، الاٹمنٹ کے وقت اور ان سب سے جڑی ہوئی باتیں۔میں یہ نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ آخر پرانی باتوں پر کیوں زیادہ ہلہ مچایا جا رہا ہے۔ ان کوئلے بلاکس کی قیمت آج کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ ممبئی میں جوکوئیبھی کارپوریٹ سرکل کے رابطے میں ہے، وہ کوئلے بلاکس کی اصل قیمت کو جانتا ہے، سمجھتا ہے۔ان کی قیمت سینکڑوں کروڑ کی ہے۔ ان سب میں جن لوگوں نے کروڑوں اربوں روپے جمع کیے ہیں وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی کارروائی نہ کرنے کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ اگر کانگریس پارلیمنٹ میں پیدا ہونے والے تنازع کو ختم کرنے کے لئے واقعی کوئی راستہ نکالنا چاہتی ہے تو اسے فوراً 142 بلاک الاٹمنٹ کو منسوخ کر دینا چاہئے۔ پھر بی جے پی کے ساتھ اوپن ڈسکشن کرنا چاہئے۔ حالانکہ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کو منسوخ کر دینے سے معاملہ نہیں سلجھنے والا ہے ۔ میں نے ایک سینئر کانگریسی لیڈر کا بیان سنا۔ کہا گیا ہے کہ مشورہ کرنے کا سوال ہی نہیں ہے۔ سی اے جی کے اعداد و شمار غلط ہیں اور سی اے جی کا سیاسی مقصد ہے۔ کیا ہمارے ملک میں سیاسی مقصد رکھنا ظلم ہے۔ کیا سیاست اور اقتدار میں آنے کا حق صرف کانگریس پارٹی کے پاس محفوظ ہے۔ ہم لوگ ایک بہت ہی خطرناک موڑ کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ ایمرجنسی کے دوران دیکھا گیا تھا جب اندرا گاندھی بولڈ ڈیسیزن لیا اور اپنی پارٹی کو بچانے کے لئے تدبیر کی ۔ ابھی کی سرکار اپنی ذمہ داری بھی اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔ کسی کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ کیا ہوا؟سرکار چلانے کا یہ ایک عجیب و غریب طریقہ ہے۔ان کی فکر صرف اتنی ہے کہ اگر ابھی انتخاب کی طرف جائے تو وہ نہیں جیت پائیںگے ۔میں صرف یہی امید کرتا ہوں کہ بی جے پی کو اتنی ہمت ملے تاکہ وہ اپنے فیصلے پر ٹکی رہ سکے۔ کیا پارلیمنٹ بحث کرنے والا ایک ایسا ادارہ ہے جو سرکار کی غیر قانونی کارروائی کوسپورٹ دیتی رہے تو پھر پارلیمنٹ کا کیا مطلب رہ جائے گا؟پارلیمنٹ لوگوں کے تئیں ذمہ دار ہے۔ بی جے پی صحیح کہہ رہی ہے کہ وزیر اعظم کو استعفیٰ دینا چائے۔ پارلیمنٹ میں سی اے جی رپورٹ پر بحث نہیں ہونی چاہئے۔ پارلیمانی قانون کے مطابق سی اے جی رپورٹ کو پی اے سی (پبلک اکائونٹ کمیٹی) کے پاس بھیجا جاتاہے ۔کانگریس اپنے کردار سے اس ادارے کے وقار کو مجروح کر رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *