کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں

Share Article

کمل مرارکا

 مجھے لگتا ہے کہ یہ سرکار تقریباً مرچکی ہے۔کئی لوگوں نے سرکار سے گزارش کی کہ گاندھی جی کی یادوں سے جڑی اشیاء کی نیلامی روکی جائے، لیکن یہ سرکار جب اپنے روز مرہ کے ہی کام نہیں کر پارہی ہے تو اسے گاندھی جی کی میمور یبلیا لانے کی فرصت بھلا کہاں سے ملتی۔آرمی چیف کی تقرری سے لے کر ہر چھوٹی چیز تک، سرکار نام کی چیز آپ کو کہیں نظر آتی ہے؟ یہ سرکار ہی نہیں ہے، یہ نن ایکزسٹنگ سرکار ہے، نوکر شاہی چلا رہی ہے اس سرکار کو۔ اس سارے سیریل میں سرکار نے کوئی رول نہیں نبھایا اور نہ اپوزیشن نے۔ جتنی بھی دوسری سیاسی پارٹیاں ہیں، تقریباً سبھی گاندھی جی کا نام لیتی ہیں، لیکن ان میں سے کسی نے کچھ نہیں کیا۔ سرکار تو ہے ہی نہیں ، معاف کیجئے گا، لیکن جو اصل اپوزیشن ہے، وہ بھی نہیں ہے، نہ ہونے کے برابر ہے ۔وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بحث کرتی ہے، لیکن جو اہم ایشو ہیں، ان کی نہ سرکار کو فکر ہے اور نہ بی جے پی کو اور یہ واضحہوتا ہے ان کے طورطریقوں سے۔ راجیہ سبھا کا الیکشن ، جوکہ نومینیشن ٹائپ ہے، بی جے پی کو دیکھئے، کیسے کیسے امیدواروں کو ٹکٹ دیتی ہے۔لوگ غیر سیاسی ہوتے جارہے ہیں۔ اخباروں میں یہ خبر آئی کہ سونیا جی منموہن سنگھ سے اس بات کو لے کر بہت ناراض ہیں کہ انہوں نے گاندھی جی کی یادوں سے جڑی اشیاء کی نیلامی روکنے یا اسے اپنے ملک میں لانے کے سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا ۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ اگر سونیا جی کا منشا یہی تھا، جیسا کہ خبر بتاتی ہے تو یہ کافی اچھا ہے،لیکن اگر سونیا جی حکم دے دیتیں تو منموہن سنگھ ضرور دلچسپی لیتے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر بھی اگر سرکار چاہتی تو وہ خود بِڈ کرکے گاندھی جی کی ان اشیاء کو خرید سکتی تھی یا پھر وزارت خارجہ کا ہائی کمشنر  بِڈ کرکے خرید سکتا تھا۔ نہ صرف گاندھی جی کے مسئلے پر، بلکہ ملک کے ہر سوال، لوگوں کے تئیں اپوزیشن اور کانگریس کا رخ ایک جیسا ہے۔ گووند اچاریہ جو آر ایس ایس کے ہیں اور بی جے پی کے جنرل سکریٹری بھی تھے، ان کا ایک بیان بھی ہے کہ پہلے ان دونوں پارٹیوں میں فرق ہوتا تھا۔ اب تو ان کی پالیسی ایک ہے، اس لئے دونوں کا آپس میں انضمام ہوجانا چاہئے۔ پہلے بنیادی سوالوں پر کانگریس الگ تھی، بی جے پی الگ ۔ جس کانگریس کو ہم لوگ جانتے تھے یعنی گاندھی جی کی کانگریس ، جواہر لال نہرو کی کانگریس ، سردار پٹیلکی کانگریس، اس کے کچھ معنی تھے، جیسے سادگی، کھادی پہننا یا سیکولرکنڈکٹ۔پاکستان الگ ہو گیا۔ مسلمان چلے گئے، لیکن ہم نے کہا کہ نہیں ہم بدلائو نہیں کریں گے۔سوشلزم کا مطلب کمیونلزم نہیں تھا ہمارے یہاں۔ ہمارے یہاں تھا کہ غریب طبقے کا دھیان رہے، چاہے ذاتیں ہوں، چاہے طبقے ہوں، دلت ہوں ، یہ سب ایشو تھے، بی جے پی رائٹ ونگ پارٹی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ ٹرین اور انڈسٹری کو فروغ ملے حالانکہ سادگی میں وہ بھی یقین رکھتی تھی لیکن اس نے شبیہ ایسی بنائی کہ ہم کانگریس سے الگ ہیں،کیونکہ ہمارے یہاں بد عنوانی نہیں ہے۔ ہمارے یہاں پارٹی ورکر پوری وفاداری کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اب دھیرے دھیرے دیکھتے ہیں کہ کانگریس نے اپنی اقدار چھوڑ دیں، بی جے پی نے بھی قدریں چھوڑ دیں۔ جو عام کام ہیں دونوں ان پر آگئیں۔خواہ بد عنوانی ہو، خواہ نیو کلیئر ہو، خواہ امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہوں، سارے نکتوںپر دونوں ایک ہیں۔ ابھی بھی کانگریس کہہ رہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں دو تین بل لائے گی اور پاس کرائے گی جیسے پنشن بل وغیرہ ۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے بی جے پی کی حمایت حاصل ہے۔
گاندھی جی سے وابستہ چیزیں خریدنے اور انہیں واپس لانے کے پیچھے میرا مقصد یہ ہے کہ یہ چیزیں اس ملک کی امانت ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس امانتکو سرکار نیشنل میوزیم میں رکھے جہاں عام لوگ اسے بآسانی دیکھ سکیں۔ اگر سرکار چاہے گی تو میں یہ اس کے ہاتھوں میں سونپ دوں گا اور اگر سرکار کی طرف سے کوئی تجویز نہیں آئی تو میں ذاتی طور پر کوشش کروں گا کہ اس امانت کو ملک کے سامنے کیسے پیش کروں۔ ممبئی میں تو یہ کام آسانی سے ہوجائے گا۔ باقی جگہ کیسے ممکن ہو اس کے لئے بھی خاکہ بنایا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *