کانگریس اور جے ڈی ایس اراکین اسمبلی نے ’گو بیک گورنر‘ کا لگایا نعرہ

Share Article

 

گورنر نے وزیراعلیٰ کمارا سوامی کو لکھا خط،آج شام چھ بجے تک کا دیاوقت، کہا آپ اکثریت کھوچکے ہیں،جب تک بحث ختم نہیں ہو جاتی فلور ٹیسٹ نہیں کرایا جا سکتا: اسپیکر

کرناٹک میں ایچ ڈی کمارا سوامی کی حکومت کی وداعی تقریباً طے ہوگئی ہے۔ گورنر وجوبھائی والا نے مسلسل دوسرے دن ریاستی حکومت کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس درمیان وزیراعلیٰ کو لکھے خط میں گورنر نے کہا کہ آپ کی حکومت اکثریت کھوچکی ہے۔ آپ صرف فلور ٹسٹ ٹالنے کے لیے لمبی بحث کو انجام دے رہے ہیں۔ غورطلب ہے کہ گورنر نے کمارا سوامی کو جمعہ شام6بجے تک کا الٹی میٹم دیا ہے۔

اس سے قبل اسمبلی میں تحریک اعتماد پر بحث کے دوران دنیش گنڈو نے بی جے پی پر گورنر کے ذریعہ دباؤ بنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بی جے پی حکومت گرانے کے لیے بہت جلدبازی میں نظر آ رہی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی ہمارے اختیارات کو چھیننا چاہتی ہے۔‘‘ اس درمیان اسمبلی میں کانگریس اور جے ڈی ایس اراکین اسمبلی نے ’گو بیک گورنر‘ کا نعرہ بھی بلند کیا۔

دوسری جانب اسمبلی میں تحریک اعتماد کی بحث کے دوران کانگریس-جے ڈی ایس حکومت میں وزیر کرشن بی. گوڑا نے کہا کہ بی جے پی ’ہارس ٹریڈنگ‘ (خرید و فروخت) کے عمل میں مصروف ہے اور وہ سیاست کو گندہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اقتدار کے لالچ میں بی جے پی آئین کو برباد کر رہی ہے۔ ایک دیگر وزیر سا را مہیش نے بتایا کہ جے ڈی ایس کے سابق ریاستی صدر ایچ وشوناتھ کو بی جے پی نے 26 کروڑ روپے کی پیشکش کی تھی۔

ادھر اسپیکر رمیش کمار نے کرناٹک اسمبلی میں تحریک اعتماد پر جاری بحث کے دوران کہا ہے کہ ’’جب تک بحث ختم نہیں ہو جاتی اس وقت تک ہم فلور ٹیسٹ کے لیے آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘‘ دراصل کرناٹک کے گورنر نے دوپہر 1.30 بجے فلور ٹیسٹ کرائے جانے کی ہدایت دی تھی لیکن یہ وقت گزر چکا ہے اور تحریک اعتماد پر بحث جاری ہے۔ گورنر کی ہدایت کے پیش نظر اسپیکر نے اپنی بات ایوان میں رکھی۔ ابھی تحریک اعتماد پر بحث ختم نہیں ہوئی ہے اور ایوان کی کارروائی 3 بجے لنچ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

Image result for Congress and JDS members had to go back the governor slogan '
مجھے اقتدار کا لالچ نہیں، میں آنے والی نسل کے لیے نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں: کماراسوامی
اسمبلی میں اعتماد کی تحریک پر بحث کے دوران بولتے ہوئے وزیر اعلیٰ کمارا سوامی نے کہا کہ ’’مجھے اقتدار کا لالچ نہیں ہے۔ یہ عہدہ میرے لیے اہم نہیں ہے۔ میں آنے والی نسلوں کے لیے ایک نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے وزیر اعلیٰ بننے کا خواب نہیں دیکھا تھا۔ میں ایک اچانک بننے والا وزیر اعلیٰ ہوں۔ ہم نے حکومت کو بچانے کے لیے کالے جادو کا سہارا نہیں لیا ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ کماراسوامی نے اپنی بات رکھتے ہوئے آج کہا کہ ’’کرناٹک میں برسرعام جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے۔‘‘ ریاست کے سیاسی ماحول کو خراب کرنے کے لیے کماراسوامی نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آزاد اراکین اسمبلی میرے پاس آئے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ بی جے پی صحیح پارٹی نہیں ہے۔‘‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *