شاہ اردن کے اعزاز میں وگیان بھون میں کانفرنس نشانہ 2019کے انتخابات ؟

Share Article

اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کا ہندوستانی دورہ کئی معنوں میں اہمیت کا حامل ہے۔ ایک تو اس دورے کے دوران دونوں ملکوںکے ثقافتی پروگراموں کے علاوہ مختلف شعبوں میں 12 معاہدوں پر دستخط ہوئے اور باہمی رشتوں میں گرماہٹ کا عزم کیا گیا ۔دوسرے ان کے اعزاز میں وگیان بھون میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ مسلم قائدین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس کانفرنس میں شاہ عبداللہ دوم نے ’’اسلامی ورثہ، مفاہمت اور میانہ روی کی ترغیب‘‘ کے عنوان پر دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے پر جامع تقریر کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے جو تقریر کی وہ موضوع بحث بن گئی۔ ان کی اس تقریر نے سامعین کے دلوں کو ایسا مسحور کیا کہ ان کے ہر جملے کے ساتھ سامعین کی تالیوں کی آواز سے ہال گونج رہا تھا۔چونکہ اسٹیج پر موجود قائدین اور سامعین میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی، اس لئے وزیر اعظم مودی نے اپنی پوری تقریر کا محور مسلمانوں پر ہی رکھا اور تمام سامعین ان کی تقریر کو بڑی دلچسپی سے سنتے اور محظوظ ہوتے رہے۔لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ کانفرنس وزیراعظم مودی اور مسلمانوں کے درمیان دوری کو پاٹنے کے لئے پل ثابت ہوسکتی ہے۔
ہال میںمسلم سیاسی و غیر سیاسی قائدین بڑی تعداد میں موجود تھے جن میںوزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی، قومی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین سید غیور الحسن رضوی، مرکز ثقافت سنیہ کیرالہ کے سربراہ شیخ ابو بکر احمد، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر ومعروف شیعہ رہنما مولانا سید کلب صادق، فتح پوری شاہی مسجد کے امام و خطیب ڈاکٹر مفتی مکرم احمد،مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولاناصغرعلی امام مہدی سلفی،بوہرہ کمیونٹی کے داعی ڈاکٹر شہزادہ بھائی عزالدین ، درگاہ اجمیر شریف کے دیوان سید زین العابدین، مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع،پارلیمنٹ مسجد کے امام مولانا محب اللہ ندوی، جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی سمیت سینکڑوں معزز شخصیات اور ملت اسلامیہ کے تعلیم یافتہ افراد وہاںموجود تھے۔ان قائدین میں سے کئی ایک سے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے نمائندہ نے بات کی اور پوچھا کہ وہ یہاں کیا سوچ کر آئے تھے اور انہیں مودی کی اس تقریر میں کیا توقعات نظر آئیں تو ان میں سے بیشتر نے مبہم انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ مودی نے موقع کی مناسبت سے اچھی باتیں کہی ہیں مگر ان کے حامی اس پر کتنا عمل کرتے ہیں،یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔ (باکس میں ان کے بائٹس دیئے گئے ہیں)۔
وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریر میں سب سے پہلے اپنے مہمان شاہ عبد اللہ ثانی کا خیر مقدم کیا ور کہا کہ آپ نے جس سادگی کے ساتھ ہندوستان کی دعوت قبول کی اس کے لئے ہم شکر گزار ہیں۔ اردن خدا کی پاک سرزمین ہے جہاں سے پیغام امن و اتحاد پوری دنیامیںپھیلایا جاتا ہے۔ہم آپ کی قیادت میں دنیا میں امن کے لئے اور دہشت گردی اور تشدد کے خلاف چلنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے ملک میں مسلمانوں کے تئیں کہا کہ بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کسی خاص مذہب کے خلاف نہیں بلکہ یہ لڑائی منفی ذہنیت کے خلاف ہے۔ انسانیت کے خلاف درندگی کا حملہ کرنے والے شاید یہ نہیں سمجھتے کہ نقصان اس مذہب کا ہوتا ہے جس کے لئے کھڑے ہونے کا دعوی وہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ’’دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف مہم ‘‘کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے، یہ اس ذہنیت کے خلاف لڑائی ہے جو ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کرکے معصوموں پر ظلم کرنے کے لئے آمادہ کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے مسلم نوجوانوں کو سائنس اور تعلیم سے جوڑنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا خواب ہے کہ مسلم نوجوانوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر ہو۔ ہمارے مسلم نوجوان جدید دنیا سے ہم آہنگ ہوں، اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے خواجہ غریب نواز اور حضرت نظام الدین اولیا کا بھی ذکر کیا اور’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ والانعرہ پھر دوہرایا اور کہا کہ سب کا ساتھ دہشت گردی اور تشدد کے خلاف لڑنے میں ہونا چاہئے۔ کوئی بھی مذہب انسانیت کے لئے ہے، دہشت گردی کے لئے نہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

وزیر اعظم کی اس تقریر کو مختلف نقطہ نظر سے دیکھا گیا ۔مذہبی ، علمی و ادبی شخصیتوں نے تقریر کو مثبت اور تعمیری کہا تو کچھ سیاسی افراد نے اس تقریر پر ایک الگ نقطہ نظر پیش کیا۔مشہور تجزیہ نگار ڈاکٹر سید مبین زھرا وزیر اعظم کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ’ اس تقریر کو صرف تقریر نہ سمجھا جائے بلکہ ان کی تقریر کے کئی اہم حصوں کو حکومت سمیت تمام پارٹیاں اپنا لے تو ایسی صورت میں یقینی طور پر آج کے ماحول میں ملک کی اہم خدمت کا فرض ادا ہو سکتاہے۔ وگیان بھون سے جو پیغام پوری دنیامیں گیا، وہ یہی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں اور اس کے خلاف پوری دنیا کو ایک نظر آنے کی ضرورت ہے‘۔جبکہ کانگریس کے ترجمان م افضل نے کہا کہ’ وزیراعظم مودی کی تقریر کانوں کو بڑی اچھی لگی مگر انہوں نے جو کہا کہ دہشت گردی کی تعلیم کوئی مذہب نہیں دیتا تو ان کو یہ بھی وضاحت کرنی چاہئے کہ دہشت گردی اور بنیاد پرستی کی تعلیم مذہب اسلام بھی نہیں دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ بات ان کے حامیوں کو سمجھ میں کیوں نہیں آتی ہے جو آئے دن مسلمانوں کو تشدد اور دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں۔اب دیکھنا ہے کہ وزیراعظم نے جو کچھ بھی کہا ہے ،اس پر ان کے کارکنان کس حد تک عمل کرتے ہیں‘۔
کالم نگار سمیع اللہ خاں لکھتے ہیں کہ’ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلم قیادت کو چاہئے کہ وہ وزیر اعظم کی تقریر پر احتجاج کرتے کیونکہ دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کو خاص طورپر نشانہ بنایا جاتا ہے تو میر ا کہنا ہے کہ کانگریس نے بھی اپنے طویل دور حکمرانی میں مسلمانوں کے ہاتھوں میں سوائے کشکول کے کچھ نہیں دیا۔کانگریس نے قوم کو سیاسی، سماجی اور تعلیمی میدان میں مکمل طور پر بدحال کیا، سیاسی قیادت کو پوری طرح مفلوج کردیا، تعلیمی میدان میں مسلمانوں کو پسماندگی کی کھائی میں دھکیل دیا، سماجی سطح پر دہشت گرد بنوایا، جہاد اور جہادی عنوانات سے سماج میں قوم کی شبیہ مکروہ بنا دی، مدارس پر دہشت گردی کے لیبل مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں، مدرسہ بورڈ و لازمی تعلیم ایکٹ جیسے بے شمار وار کیے، معاشرتی سطح پر زہریلے بیج بوئے۔جہاں تک وگیان بھون کی کانفرنس میں قائدین کی طرف سے احتجاج نہ کرنے کی بات ہے تو ان سے کہنا ہے کہ، یہ نشست کوئی جلسہ، جلوس یا کسی سمینار کے لیے نہیں سجی تھی، یہ بیرون سے آئے ہوئے ایک مہمان کے استقبال میں سجائی گئی تھی، جس میں ملک کے تمام مذاہب و طبقات کے دانشوران کو مدعو کیا گیا تھا۔ایسی نشست میں مودی کی تقریر پر احتجاج کسی بھی طرح حق مہمان نوازی کے مناسب نہیں ہے۔‘
اس موقع پر شاہ عبداللہ دوم نے وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ‘اسلامک ورثہ: خیر سگالی اور اصلاحات ‘ موضوع پر اپنے لیکچر میں ہندوستان کے ‘وسو دیو کٹمبکم ‘ کی ستائش کی اور کہا کہ جو لوگ مذہب کو نہیں جانتے ، وہی نفرت پھیلاتے ہیں، تصادم پیدا کرتے ہیں اور دہشت گردی کے راستے کو فروغ دیتے ہیں۔ ہم سب کو دنیا کے سامنے کھڑے اس خطرے کو بہت سنجیدگی سے لینا ہوگا اور مذہب کو سمجھنا ہوگا۔ اسلام کی تعلیمات کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ پڑوس سے محبت کرنا چاہئے۔ مذہب کے بہانے تصادم کے راستے کو فروغ دینے والوں پر سخت حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذہب انفرادی ثقافتوں اور تہذیبوں کو جوڑتا ہے۔ یہ انسانی تنوع کا سرچشمہ ہے ۔خدا کی نگاہ میں سبھی کی اہمیت ہے اور یہی مشترکہ انسانی وراثت ہمارا مذہب ہے۔اردن کے شاہ نے کہا کہ پوری دنیا میں 1.8 ارب مسلمان ہیں جو پوری بنی نوع انسان کا ایک چوتھائی ہیں۔ یہ رواداری پر مبنی مذہب ہے جو محمدﷺ کے پیغام کو لے کر آگے بڑھا ہے کہ دوسرے لوگوں کے تئیں مہربان اور رحمدل بنو۔ مسلمان کا فرض ہے کہ جن کی سیکورٹی کوئی نہ کرے ، وہ اس کی حفاظت کریں۔ کسی نامعلوم شخص کو اسی طرح سے پناہ دیں ، جیسے کسی اپنے کو مشکلات میں دی جاتی ہے ۔ اسلام دنیا میں امن کا پیغام پھیلانے کے لئے ہے ۔یہ ہمارا عزم ہونا چاہئے کہ ہم سب کے لئے اچھے اور نیک بنیں، چاہے وہ ہندو ہوں یا کوئی اور۔
پروگرام کے پس پردہ منصوبہ بندی
پروگرام میں انتظامیہ کی حیثیت سے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کا نام استعمال کیا گیاتھا جبکہ کہیں بھی عملی طور پر اس کی نمائندگی نظر نہیں آرہی تھی۔ خود سراج قریشی جو کہ کلچر سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں ،بھی کہیں دکھائی نہیں دیئے۔ بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ انہوں نے اس دن طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اس پروگرام میں شرکت نہیں کی۔ لیکن سوال اب بھی باقی رہتا ہے کہ کسی بھی پروگرام میں کلمات تشکر انتظامیہ کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے ۔اس پروگرام کے دعوت نامہ میں انتظامیہ میں کلچرل سینٹر کا نام تھا مگر کلمات تشکر کلچرل سینٹر کی طرف سے نہیں پیش کیا گیا کلمات تشکر مولانا محمود مدنی نے پیش کیا۔اس لئے یہ شبہ بے وجہ نہیں ہے کہ اس پورے پروگرام کی منصوبہ بندی پی ایم او یا وزارت اقلیتی امور سے ہوئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دعوت کس کس کو بھیجا جارہا ہے اس کے بارے میں بھی کلچر سینٹر کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ویسے تحقیقی کرنے پر معلوم ہوا کہ کچھ لوگوںکو فون خود اسلامک سینٹر کے ڈائرکیٹر سراج قریشی نے کئے تو کچھ کو وزارت اقلیتی امور یا کہیں اور سے آئے۔ صدر جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کے پتے بھی معلوم کئے گئے مگر ان تک بھی کوئی دعوت نامہ نہیں پہنچا ۔جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سید جلال الدین عمری کو نہ کوئی فون ملا اور نہ ہی دعوت نامہ ۔آئی او ایس کے چیئر مین ڈاکٹر منظور عالم کو دعوت نامہ تو ملا لیکن انہوں نے شرکت نہیں کی۔شرکت نہ کرنے کی مختلف وجوہات کو دبے لفظوںمیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک وجہ دعوت نامہ میں داعی کی پوزیشن کا واضح نہ ہونا بھی ہے۔اب رہی بات کہ اس پروگرام کے لئے اسلامی کلچرل سینٹر کا نام کیوں استعمال کیا گیا ؟توہوسکتا ہے کہ کسی ایک مسلک کی چھاپ سے بچنے کیلئے انڈیا اسلامک کلچر سینٹر کا نام استعمال کیا گیا۔اس امکان کو اس لئے بھی تقویت ملتی ہے کہ اسی طرح کی ایک کانفرنس 2016 میں ورلڈ صوفی فورم کے عنوان سے منعقد کی گئی تھی اور تمام مکاتب فکر کے لوگوںکو وگیان بھون میں جمع کیا گیا تھا۔ چونکہ تقریر کا نچوڑ صرف مسلمانوںکے ارد گرد ہی گھوم رہا تھا ،اس لئے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ 2019 کے الیکشن کی تیاری کے طور پر ہے ۔مودی چاہتے ہیں کہ آئندہ پارلیمانی انتخاب میں مسلمان بھی ان کے ساتھ ہوں اور وہ تاریخی جیت حاصل کریں۔ڈاکٹر منظور عالم کا بھی اس تعلق سے یہی خیال ہے کہ اس کا نشانہ آئندہ انتخابات ہیں ،خواہ وہ 2018 کے ریاستی یا ضمنی ہوں یا 2019 کے عام انتخابات۔
اس موقع پرایچ آر ایچ پرنس غازی بن محمد کی کتاب’ ’ A Thinking Person’s Guide to Islam ’’کے اردو ایڈیشن کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ اس کتاب کی ایک بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس کا مقدمہ خود عبد اللہ دوم نے بہ نفسِ نفیس تحریر فرمایا ہے۔اس کتاب کا ا نگریزی ایڈیشن انگلینڈ سے شائع ہوا تھا اور اب اس کی افادیت کی پیش نظر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اس کا اردو ایڈیشن شائع کرایا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ مزید زبانوں بالخصوص ہندی اور گجراتی میں بھی اس کا ایڈیشن جلد شائع ہو گا ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

مولانا محمود مدنی :
یہ پروگرام کسی قوم ،طبقہ یا ذات برادری کے لئے نہیں تھا اور نہ اس لئے کہ وہاں جاکر کوئی سیاسی مطالبہ کیا جائے۔ بلکہ یہ اتحاد ،بھائی چارگی اور تمام طبقات میں ہم آہنگی کے اظہار کے لئے تھا۔یہ اظہارقائدین اور دانشوروں کے درمیان کرنا تھا۔ یہی سوچ کر ہم گئے تھے اور وہاں یہی سب ہوا۔ہم نے اس اس موقع پر جو کچھ کہا اس کا ماحصل بھی یہی تھا کہ ہمارے لئے آپسی بھائی چارہ ، محبت اور رواداری سب سے زیادہ اہم ہے ، کیوں کہ ہمارے دیش میںہر دھرم ، ہر رنگ، ہر نسل ، ہر تہذیب کے پھول کھلتے ہیں۔
اختر الواسع:
ہم اس اجلاس میں صرف مہمان سربراہ عبد اللہ دوم کے استقبال کے مقصد سے گئے تھے اور یہ بتانے کے لئے کہ ہمارے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی صورت حال کیا ہے۔ تو میں نے وہاں یہی پیش کیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے تمام طبقات ،ہرجماعت ،تمام مسالک کے رہنما اور مسلم قائدین اور صحافیوں نے زبان، قلم اور عملی سطح پر جلسے اور جلوس کے ذریعے دہشت و وحشت کا کاروبار کرنے والوں کی پرزور مذمت کی ہے۔ سب سے زیادہ فتاویٰ ہمارے علمائے کرام اور مفتیانِ عظام نے جاری کیے۔ جمعیت علماء ہند ہو یا مرکزی جمعیت اہلحدیث، ورلڈصوفی فورم ہویا جماعتِ اسلامی یا پھر تبلیغی جماعت، سب نے اپنے اپنے دائروں میں تشدد اور نفرت کی مذمت کی۔
مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی:
یہ کانفرنس بنیادی طور پر شاہ اردن کی شان میں منعقد کی گئی تھی اور وہ وہاں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کی دعوت پر شرکت کرنے گئے تھے۔ وہاں ان کی وزیر اعظم سے اسٹیج پر سلام دعاء ہی ہوئی۔ اگر مجھے وہاں بولنے کا موقع ملتا تو میں ضرور کہتا کہ وزیر اعظم کو قومی سا لمیت و بھائی چارے پر کام کرنا چاہئے۔ ویسے میرا ذاتی خیال ہے کہ ’پانی میں رہ کر مگرمچھ سے بیر نہیں کیا جاتاہے‘۔ویسے ملک کے وزیراعظم سے ملاقات کرنا کسی بھی طرح غلط نہیں ہے مگر مشکل یہ ہے کہ کسی بھی معاملے میں مثبت پہلو کے بجائے منفی پہلوئوں کو تلاش کرلیا جاتا ہے۔
مولانا محب اللہ ندوی :
میرے نزدیک یہ پورا پروگرام شاہ اردن کے اعزاز میں ہوا اور اس میں میزبان ملک کے وزیر اعظم شریک ہوئے۔ اس موقع پر اس میں کچھ اہم شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا ۔لہٰذا ان شخصیات کی وزیراعظم سے ملاقات کو موضوع بحث بنانا مناسب نہیں ہے۔خود میں بھی وہاں موجود تھا۔لہٰذا میں نے یہی تأثر لیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *