ایم ودود ساجد
آخر کار الہٰ آبادہائی کورٹ کی لکھنئو بنچ کے متنازعہ فیصلہ کے د و ہفتوں بعد مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈنے سپریم کورٹ جانے کے فیصلہ کا متفقہ اعلان کردیا۔یہ بہت اچھا ہوا کہ بورڈ نے اختلاف رائے کے باوجود اتفاق رائے سے فیصلہ کا اعلان کیا۔اس میٹنگ میں دو مختلف مسالک کے کم از کم دو ایسے علما بھی شامل تھے جنہوں نے فیصلہ آنے کے بعد بورڈ کے موقف سے مختلف اپنی انفرادی رائے کا اعلان کردیا تھا جس میں سے ایک کی رائے کو میڈیا نے بھر پور جگہ دی۔یہی وہ چاہتے بھی تھے۔ورنہ قوم وملت یا سواد اعظم سے ہٹ کر چلنے اور اپنے منفی موقف کا بوجھ مسلسل ڈھوتے رہنے کی سکت ان کے اندر نہیں ہے۔یہاں اولین سطور میں ہی ہمیں ایک سوال ان علما وقائدین سے کرناہے جو بابری مسجد کو طشت میں سجاکر رام مندر کے دعویداروں کو دینا چاہتے ہیں کہ مذکورہ قضیہ میںقانونی اور آئینی طور پر آپ کی حیثیت کیا ہے؟کیا عدالت آپ کے ذریعہ کئے گئے کسی معاہدہ کو تسلیم کرکے فیصلہ کرسکتی ہے؟اور کیا پوری امت مسلمہ اور بابری مسجد مقدمہ کے فریقوں نے آپ کو کسی اجتماع میں یہ اختیار دیا ہے کہ آپ بابری مسجد کا مسئلہ یوں حل کردیں کہ مسلمانوں کو نہ خدا ہی ملے اور نہ وصال صنم ہو؟
اختلاف رائے کہاں نہیں ہوتا؟اور جہاں اختلاف رائے نہ ہو وہاں صحت مند بحث ومباحثہ نہیں ہوتا۔صحت مند علمی بحث کے بغیر کوئی بہتر موقف نکل کر سامنے نہیں آسکتا۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب آپ کو ایک بڑے حساس مسئلہ کاحل ایک بڑے پلیٹ فارم پر بیٹھ کر اجتماعی طور پر تلاش کرنا ہی ہے تو اس سے پہلے اپنی ذاتی رائے ظاہر کرنے کی بے تابی کیوں ہوتی ہے؟حالانکہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو مسلمانوں سے تسلیم کرانے کے خواہش مند یہ جانتے تھے کہ لکھنئو بنچ کے فیصلہ کو  دستیاب شواہد کی بنیاد پر دیا جانے والاعدالتی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔وہ توہمات کی بنیادپر غیر مطلوب ثالثی کے عنصر سے بھر پور ایک پنچایتی فرمان سے زیادہ کچھ نہیں۔اس لئے کہ مقدمہ کے کسی بھی فریق نے کسی بھی مرحلہ پر مقدمہ کی کارروائی کے دوران ‘نہ لکھ کر اور نہ بول کر‘یہ مطالبہ کبھی نہیں کیا تھا کہ متنازعہ قطعہ یا قطعات اراضی کو دویاتین یا تین سے زیادہ حصوں میں بانٹ دیا جائے۔اگر یہی کام مقصود تھا تودونوںیا تینوں فریق یا تین سے زیادہ فریق باہم مل کر بھی یہ فیصلہ کرسکتے تھے۔اس میں 60قیمتی سال برباد کرنے اور سڑکوںپرہزاروں بے گناہ انسانوں کا خون دیکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ ابتدائی مراحل میں تو یہ اور بھی زیادہ آسان تھا کیونکہ مقدمہ کے دوابتدائی متصادم فریق ہاشم انصاری اور مہنت بھاسکر داس انتہائی خوشگوار ماحول میں ایک ہی رکشہ میں بیٹھ کر مقدمہ کی کارروائی میں حصہ لینے جاتے تھے۔
مقدمہ کی کارروائی کے دوران اور خاص طور پر بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہونے والی یومیہ کارروائی کے دوران اردو اخبارات میں گواہیوں اور جرح کی جو تفصیلات شائع ہوتی تھیں ان سے کہیں بھی یہ نہیں لگتا تھا کہ رام جنم بھومی کے دعویدار قانون کی کسوٹی پر کہیں کھرے اتر پائیں گے۔بیشترہندو گواہوںکی جو تفصیلات آتی تھیںان سے یہ یقین اور مضبوط ہوجاتاتھا کہ 1986میں مسجد کا تالہ کھلنے سے پہلے کے آزاد یا مقبوضہ یا مسلم حکمرانوں کے اقتدار والے ہندوستان کی معلوم تاریخ میں بابری مسجد کی جگہ نہ کسی نے کوئی مندردیکھا اور نہ کسی نے وہاں کبھی پوجا کی۔جو بات انتہائی وضاحت کے ساتھ معلوم تھی اور جس کی ایف آئی آر کی بنیاد پر مقدمہ چلا وہ یہ تھی کہ 22-23دسمبر 1949کی درمیانی شب میں بابری مسجد کے صحن میں چوری چھپے مورتیاں رکھ دی گئی تھیںجہاں باقاعدگی سے نمازیں ادا ہوتی رہی تھیں۔یہاں تک کہ مورتی رکھے جانے والی شب میں بھی وہاں عشا کی جماعت ہوئی تھی۔جو لوگ اسے رام جنم بھومی اور مندر کے ملبہ پر بنائی گئی ناجائزمسجد قرار دیتے تھے انہیں یہ ثابت کرنا تھاکہ مسجد کی تعمیر سے پہلے یا تعمیر کے وقت عین اسی جگہ پر کوئی مندر تھا۔یہ ثابت کرنے کے لئے قانونی دستاویزات کی ضرورت تھی جو کسی بھی ہندو فریق کے پاس نہیں تھے۔ جبکہ مسلم فریق کے پاس تمام دستاویزات اور ثبوت وشواہد موجود تھے۔ہندو فریق محض آستھا یا عقیدہ یا محض خیال یا( چوری چھپے مسجد کی دیوار پھاندکرمسجد کے صحن میںرکھ دی جانے والی)رام کی مورتی کے پرکٹ ہوجانے کو اپنی بنیاد مانتے تھے جبکہ مسلم فریق کاغذات‘ دستاویزات ‘ واقعاتی شواہد اور خود ہندو گواہوں کو اپنے دعوے کی صداقت کے طورپر پیش کرتے تھے۔ایسے میں60سال کی ہمالیائی کارروائی کے بعد جو فیصلہ آیا ہے اس کی عظمت پر کیسے آنکھ بند کرکے یقین کرلیا جائے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ہندوستانی شہریوں کے ذہن ودل میں عدلیہ کے کسی انتہائی اہم فیصلہ کے تعلق سے یہ سوال بیٹھ جائے کہ یہ فیصلہ عدالت کانہیں ہے تو پھر اس اعتماد کا کیا ہوگا جو ہندوستانی شہری عدلیہ پر کرتے چلے آئے ہیں۔ہندوستانی مسلمان بجا طور پر یہ کہتے رہے ہیں کہ آج بھی ہندوستان میں ان کی آخری جائے پناہ عدلیہ ہی ہے۔خدا کاشکر ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کاکوئی سخت گیر گروپ موجود نہیں ہے لیکن اپنی سہولت اور ضرورت کے اعتبار سے بیوروکریسی اور سیاست داں جن مسلمانوں کو سخت گیر سمجھتے ہیں خود انہوں نے بھی کبھی عدلیہ کی بے احترامی نہیں کی ہے۔آج بھی جبکہ ہر انصاف پسند مسلمان اور ہندو اس بے بنیادفیصلہ پردکھی ہے کوئی ایک بھی عدالت کی بے حرمتی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ سونو اور مونوکاپیش کردہ فارمولہ تو ہوسکتا ہے مگر حق وانصاف کی بنیاد پر کیا جانے والا فیصلہ نہیں۔جو لوگ اس فیصلہ کو غنیمت جان کر اسے قبول کرنے کا عاجلانہ مشورہ دے رہے تھے وہ مستقبل میں اس کے اثرات بد کا اندازہ نہیں کرسکے۔ میرا اندازہ ہے کہ مذکورہ فیصلہ کانگریس کے دل کی آوازہے۔فیصلہ سنائے جانے میں جس شخص نے ایک ہفتہ تک اڑچن ڈالے رکھی اسے کانگریس کی پوری حمایت حاصل تھی۔اسی دوران مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کے ذریعہ جاری یہ بیان کہ فیصلہ ایک سے زائدبھی ہوسکتا ہے‘کسی پراسرار انہونی کی طرف اشارہ کرتا تھا اور فیصلہ آنے کے بعد وہ واضح ہوگیا۔اخبارات میںشائع ہونے والی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی اپیل کے الفاظ یہاں دوہرانے کا موقع نہیں لیکن جن نکتہ سنج لوگوں نے اس اپیل کو پڑھا ہوگاانہوں نے اس بے ہنگم اورغیر مربوط اپیل کے پس منظر‘بین السطور اور اس کی اثرناکی کا اندازہ ضرور کیا ہوگا۔یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ سرکاری سطح پر کسی متنازعہ اشو پرجب کوئی بیان تیار ہوتا ہے اور اس میں ایک سے زائد پہلو ہوتے ہیں توکسی نئے تنازعہ سے بچنے اورغیر جانبداری کابھرم باقی رکھنے کے لئے متعلقہ ناموں کا ذکرحروف تہجی کے اعتبار سے کیاجاتا ہے۔مثال کے طور پر بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ میں ب یاBپہلے آتا ہے اور ’ر‘یا Rبعد میں۔لہٰذا اس قضیہ کا ذکر کرتے وقت بابری مسجد رام جنم بھومی کہا اور لکھاجانا چاہئے تھا۔لیکن عمداً اس کو رام جنم بھومی بابری مسجد قضیہ لکھا اور کہا گیا۔وزیر اعظم کی اپیل ‘ در اصل مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں پاس کردہ قرار داد کا متن تھا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی کابینہ اور وزیر اعظم کی نظر میںاس مفروضہ رام جنم بھومی کی تواہمیت ہے جس کا شوشہ 1949میں چھوڑا گیا اور اس حقیقی بابری مسجد کی کوئی اہمیت نہیںجووہاں 1528سے قائم تھی۔اس ترتیب سے نام استعمال کرنے کا مقصد آر ایس ایس اور بی جے پی وغیرہ کو یہ پیغام بھی دینا تھا کہ ہماری نیت میں بھی وہی فتور ہے جو تمہاری نیتوں میں ہے لہذا تم زیادہ واویلا مت کرنا۔ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی نیت کا یہ فتور نیا نہیں ہے۔سابق وزیر اعظم نرسمہارائو کے زمانے میں ہی جو پولس اسٹیشن بابری مسجد کے ارد گرد بنایا گیا تھا اس کانام بھی رام جنم بھومی پولس اسٹیشن رکھا گیا تھا۔جبکہ ابھی تک یہ طے ہی نہیں ہوا تھا کہ یہ رام جنم بھومی ہے۔اس پولس اسٹیشن کا نام بابری مسجد پولس اسٹیشن یا بابری مسجد رام جنم بھومی پولس اسٹیشن بھی رکھا جاسکتا تھا مگر وہاں کھلی بددیانتی دکھائی گئی۔ یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ لبراہن کمیشن میں ملائم سنگھ کی گواہی چل رہی تھی تو انہوں نے کھل کر لفظ بابری مسجد کہا ۔اس پر جسٹس لبراہن نے اپنے محرر کو ملائم کا بیان لکھواتے وقت بابری مسجد کی جگہ متنازعہ عمارت لکھوادیا۔اس پر ملائم کے وکیل مشتاق احمد ایڈوکیٹ(آن ریکارڈ)نے اعتراض کیاکہ ملائم سنگھ نے لفظ بابری مسجد استعمال کیا ہے آپ نے متنازعہ عمارت کیوں لکھوایا؟اس پر جسٹس لبراہن نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے اس کی تصحیح کرادی ۔
اس فیصلہ میں کانگریس کی شمولیت کے الزام کی صداقت کے ایک دو نہیں درجنوں اشارے اور ثبوت موجود ہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو سے لیکر راجیو گاندھی تک‘پھر نرسمہارائو سے لیکر موجودہ دور تک سب نے منفی کردار ہی ادا کیا ہے۔معروف سیاستداں الیاس اعظمی نے تو اس پر باقاعدہ ریسرچ پیپر تیار کیا ہے جس میں انہوں نے بابری مسجد کے صحن میں مورتیوں کے رکھے جانے کو پنڈت نہرو کی سازش قرار دیا ہے۔ان کی ریسرچ خیالات پر نہیں بلکہ شواہد پر مبنی ہے۔پھر تالہ کھلنے کا فیصلہ خود راجیو گاندھی کے زمانے میں ہوا اور اس پر اتنی سرعت کے ساتھ عمل ہوگیا کہ فیصلہ کے وقت جس کے ہاتھ میں چائے کی پیالی تھی وہ ختم بھی نہ ہوپائی تھی کہ تالہ کھل گیا اورمسلمان اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کے لئے اپنے حواس بھی جمع نہ کرپائے۔اس کے بعد شلانیاس بھی راجیو کے ہی زمانے میں ہوا۔یہ شلانیاس عملاً اس بات کا اعلان تھا کہ اب مسجد کے وجود کے کوئی معنی نہیں رہ گئے ہیں اور جلد یا بدیر یہاں مندر ہی تعمیر ہوگا اور بابری مسجد کے ملبہ پر تعمیر ہوگا۔اس کے بعد نرسمہارائو کے زمانے میں بابری مسجد شہیدکردی گئی اور بے حیا کانگریسی اور ان کی سرکار محض تماشا ہی دیکھتی رہی۔نرسمہارائو نے بہ حیثیت وزیر اعظم (اور بلاشبہ بہ حیثیت صدر کانگریس بھی)پوری دنیا کے سامنے پورے ملک سے وعدہ کیا تھاکہ بابری مسجد کی ازسرنو تعمیر کرائی جائے گی۔کیا یہ ذمہ داری نرسمہارائو کے بعد کانگریس کی نہیں تھی کہ وہ اس وعدہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کچھ تو کوشش کرتی؟لیکن کانگریس اور سونیا گاندھی نے رائو کو سیاسی عتاب کا نشانہ بناکر مسلمانوں کو خوش کرنے اور ازسرنو تعمیر کے وعدہ سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی۔ آج بھی کانگریس کا جو رویہ ہے وہ کسی طور یہ ثابت نہیں کرتا کہ کانگریس کو بابری مسجد کی شہادت کا کوئی دکھ ہے اور یا یہ کہ وہ مفروضہ رام مندر کی تعمیر کے تئیں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔
مسلمانوں کے لئے سپریم کورٹ جانے کے کئی اسباب موجود ہیں۔اولاً یہ کہ  ہائی کورٹ آخری عدالت نہیںہے‘ پھر اس نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ہمیں قبول نہیں ہے‘ اس کے علاوہ اگر اس فیصلے کو مان لیا گیا تو وہ ایک نظیر بن جائے گا اور وشو ہندو پریشد نے کاشی اور متھرا سمیت تین ہزارمسجدوں کی جو فہرست تیار کر رکھی ہے ‘مذکورہ فیصلہ کی روشنی میں ان تمام مسجدوں کے خلاف بھی ایک ایک کرکے اسی طرح مقدمے ہوں گے اور ایسے ہی یا اس سے بھی بدتر فیصلے آئیںگے۔جو لوگ اس مفروضہ کی آڑمیں دوسروں کو گمراہ کر رہے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ سے بھی ایسا ہی فیصلہ آگیا تو کیا ہوگا؟انہیں مقدمہ کی نوعیت کا اندازہ ہی نہیں۔سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس اے ایم احمدی ‘جسٹس جے ایس ورما‘ جسٹس وی این کھرے اور جسٹس راجندر سچر سمیت بیشتر ماہرین قانون کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں شروع میں ہی اوندھے منہ گر جائے گا۔اس لئے کہ عدالت نے اس سوال پر فیصلہ کیا ہے جو اس سے کیا ہی نہیں گیا تھا۔دوسرے یہ کہ اس نے حقائق پر مفروضات کو فوقیت دی ہے اور اس واہمہ کو بنیاد بنایا ہے جس کی کوئی آئینی اورقانونی حیثیت نہیں ہے۔تیسرے یہ کہ خودتینوں جج حضرات اور خاص طور پر جسٹس ایس یو خان نے اپنے طویل فیصلہ کی تفصیلات میں واقعات اور نکات کا ذکر کرکے ان پر جوتبصرہ کیا ہے وہ فی الواقع سپریم کورٹ میں مسلمانان ہند کے لئے زبردست وکالت کرے گا۔میرا خیال ہے کہ ملت کے جو’بہی خواہ‘ اس معاملہ پر فل اسٹاپ لگانے کی بات کر رہے ہیںانہوں نے ابھی فیصلہ پر سرسری نگاہ بھی نہیں ڈالی ہے۔اس فیصلہ کی تفصیلات میں تینوں جج حضرات نے اور بیشتر مقامات پر جسٹس ایس یو خان نے جو لکھ دیا ہے اس کے بعد کسی ابہام کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور سپریم کورٹ کو انہی نکات پر توجہ دلانی ہے۔
ہمیں سپریم کورٹ پر پورا بھروسہ ہے لیکن اگر بالفرض محال سپریم کورٹ نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا تو اس سے دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو مسلمان شرعی اور قانونی طور پر اس سے زائد کچھ کرنے کے مکلف نہ رہ جائیں گے اور بہ حیثیت شہری اور مسلمان ان کی ذمہ داری ختم ہوجائے گی۔ دوسرے یہ کہ پوری دنیاکے سامنے حقیقت کھل کر آجائے گی۔بعض میرجعفر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ سے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ آبھی گیا تو اس پر عمل کیسے ہوگا۔اس سلسلہ میں مسلمانوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ معاملہ کوصحیح فیصلہ تک پہنچا دینا ان کی ذمہ داری ہے اس پر عمل درآمد کرانا ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔یہ کام حکومت کا ہے۔اگر حکومت وقت اس فیصلہ پر عمل نہیں کرائے گی تب بھی مسلمان اپنی ذ مہ داری سے بری ہوجائیں گے اور وہ اس سے زیادہ کے مکلف نہیں ہوںگے۔ان کا کام ہرگز یہ نہیں ہوگا کہ وہ خون خرابہ کی قیمت پر اس فیصلہ پر عمل کرائیں ۔لیکن آخری اور حتمی عدالت تک معاملہ لے جائے بغیر وہ اپنی آئینی ‘قانونی اور شرعی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتے‘ اس لئے کہ یہ کسی بھی مسلمان کے اختیارمیں نہیں کہ وہ مفروضہ تالیف قلب کے لئے مسجدکی جگہ کو دوسروںکے حوالہ کردے۔سیاسی علما اس شرعی مسئلہ کو جانتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ مسلمانوں کی یہ شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں لیکن میں بلا خوف تردید یہ کہتا ہوں کہ سیاسی علمااور مسلم قائدین بھی صاحبان اقتدار کے موڈ کو دیکھ کر موقف اختیار کرتے ہیں۔ اس وقت کانگریس اور حکومت کا موڈدیکھ کر ہی بیشتر قائدین اور نام نہاد دانشوران اپنے موقف کو سجا سنوار رہے ہیںتاکہ انہیں اچھی قیمت مل سکے۔میں نے مضمون کی ابتدا میں جن دو علما کا ذکر کیا تھا ان میں سے ایک نے تو صرف کانگریس اور ارباب اقتدارکو خوش کرنے کے لئے وہ موقف اختیار کیا تھا جو شریعت خداوندی  کے ہی نہیں بلکہ ان کے آباؤاجداد کے موقف کے بھی خلاف تھا۔پرسنل لا بورڈ کے موقف کی تائید کے بعد انہوں نے پھر اپنا الگ راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔وہ آج بھی ملک دشمن اور فرقہ پرورجماعتوں کے نمائندوں سے مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیںاور ان کی کوشش ہے کہ خالص قانونی اور آئینی رخ اختیار کرجانے والے اس قضیہ کو وہ’ لے دے کر‘  حل کرلیں۔اور اس طرح حکومت کے مقربین خاص بن جائیں۔ لیکن ان پرجوش مسلم قائدین اور سیاسی علما کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ زندگی کی یہ آخری منزل نہیں ہے ۔ان کو خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور مسلمانوں کے پیشوا ہونے کی حیثیت سے خدا کے سوالوں کا سب سے زیادہ سامناانہی کو کرنا ہوگا۔اس وقت نہ کوئی وزیر داخلہ کام آئے گا اور نہ ان کی دنیاوی سیکیورٹی ان کا تحفظ کرسکے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here