کمیونزم کی جیت لیکن کمیونسٹوں کی ہار

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
بایاں  بازو کا صفایا کیوں ہوا؟ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح کیا ہندوستان کے  نقطۂ نظر میں بھی کمیونسٹ غیر موزوںہو گیا ہے۔ کیا مغربی بنگال اور کیرالا کی ہار سے لیفٹ کا خاتمہ ہو گیا ہے ؟ کیا مستقبل میںبایاں بازو مضبوط ہو سکتا ہے؟کیا ہندوستان میں لیفٹ سیاست کا مقام نہیں رہا؟کیااس شکست کے بعد بایاں بازو کے پاس متبادل بچ گیا ہے؟ آنے والے وقت میں کمیونزم کی مشکلیں کیا کیا ہیں۔ ایسے کئی سوال ہیں جنہیں سمجھنا اہم ہے۔
برلن کی دیوارمہندم ہونے اور سوویت یونین کی توڑ پھوڑکے کئی سال بعد ہندوستان میں پہلی بار ایسا لگنے لگا ہے کہ ہتھوڑے اور ہنسیا والا لال جھنڈا خلیج بنگال میں گم ہونے والا ہے۔مغربی بنگال اور کیرالا میں ایک ساتھ بایاں بازو کا صفایا ہونا ہندوستان ہی نہیں دنیاکے لیے ایک تاریخی واقعہ ہے۔ وہ اس لیے کہ ہندوستان میں پہلی بار دنیا کی پہلی منتخب کی گئی کمیونسٹ حکومت کیرالا میں بنی اور سب سے زیادہ دنوں تک کمیونسٹحکومت مغربی بنگال میں رہی۔ دنیا کے کئی ممالک میں مارکسواد کا صفایا ہو گیا لیکن ہندوستان میں یہ مضبوطی سے ڈٹا رہا۔ بایاں محاذ کے لیے مغربی بنگال کا نتیجہ حوصلے پست کرنے والا نتیجہ ہے۔ بنگال کی خلیج سے ہمالیہ کی گود تک 34سال تک یہ پرچم لہراتا رہا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس پرچم کو لے کر چلنے والے کو اس کا رنگ تو یاد رہا لیکن اس نے اس کے ہتھوڑے اور ہنسیاکو ہی بھلا دیا۔ سونار بانگلہ کب پیتل اور تانبے کی بن گئی یہ بایاں بازو کی حکومت کوپتہ ہی نہیں چلا۔ جب عوام کو پتہ چلا  تو اس نے تاریخ رقم کر دی۔
کوئی بھی جماعت اگر 34سال تک اقتدار میں رہتی ہے تو ضرور کوئی بات ہوگی۔ اچانک یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ بایاں بازو نے سب کچھ غلط کیا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اب تک وہ الیکشن نہیں جیتتی۔ ویسے بھی کسی جمہوریت میں کوئی بھی جماعت ہار سکتی ہے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔یہ بالکل ہی غلط ہوگا اگر ہم یہ مان لیں کہ ایک الیکشن ہارنے سے کسی پارٹی کاخاتمہ ہو جاتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مغربی بنگال میں گزشتہ کچھ سالوں سے بایاں بازو کو ہر چھوٹے بڑے انتخاب میں ہار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بایاں بازو انتخاب کیوں ہار گیا اسے سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بنگال میں بایاں بازو نے 34سال تک اقتدار میں قائم رہنے کی تاریخ کیسے رقم کی۔بایاں بازو کی سب سے بڑی طاقت اس کی آئیڈیا لوجی ہے۔ کمیونزم کی گہرائی اور اس کی غلطیوں کو اگر ہم نظر انداز کر دیں، اس سے جڑے نظریاتی اور اصولی سوالوں اور تنازعات کو چھوڑ دیں تو کمیونزم ہندوستان میں حکومت کا چلانے کا سب سے فٹفارمولہ دیتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کی بجائے مزدوروں اور کسانوں کی ترقی کے لیے کام کرے۔ سماج میں جو لوگ استحصال زدہ ہیں ، حکومت ان کے عروج اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے کام کرے۔ غریبوں کے لیے خصوصی پالیسیاں اور اقلیتوں کے لیے خصوصی قوانین ہوں۔ سماج کے نچلے طبقات کے لوگوں کی زندگی کا معیار بہتر ہو، یہی کسی بھی حکومت کا پہلا فرض ہونا چاہیے۔ حالانکہ 1991سے مرکز ی حکومت بالکل اس کے برعکس کام کر رہی ہے۔ جدیدلبرل ازم کا سب سے برا اثر غریبوں پر ہی دکھائی دیتا ہے۔نجکاری اور لبرلازم کی لپٹیں بنگال تک پہنچ گئیں ، جو آئیڈیالوجی لیفٹ جماعتوں کی سب سے بڑی طاقت ہوتی تھی اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنا مہنگا پڑ گیا۔ کارخانے بند ہو گئے، مزدور بے روزگار ہو گئے۔ جنہیں کام ملتا بھی ہے ، تو پیسے کم ملتے ہیں۔ نئی صنعت کو لگانے میں حکومت ناکام رہی، جبکہ دوسری ریاستوں میں تیزی سے ترقی ہوئی۔ تعلیم کا معیار تو بہتر تھا ،لیکن تعلیمی نظام خراب ہوتا چلا گیا۔ نوجوانوں کے سامنے مواقع کا فقدان ہو گیا۔ مزدور کسان، نوجوان اور کامگار سب مغربی بنگال سے نقل مکانی کرنے لگے۔ نظریاتی اعتبار سے حکومت کی یہ اہم ذمہ داری تھی۔ لیفٹ حکومت نے آئیڈیا لوجی اور ذمہ داری دونوں کو بھلا دیا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
کوئی بھی حکومت یا سیاسی جماعت صرف آئیڈیا لوجی کے تقدس پر نہیں چلتی۔ اس کی پالیسیاں ہی بتاتی ہیں کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے یا پھر ان کے خلاف۔ گزشتہ تین دہائیوں سے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے بایاں محاذ نے بنگال کے دیہی باشندوں کے دلوں پر راج کیا۔ دیہی علاقے لیفٹ کا گڑھ مانے جاتے تھے۔ شہری علاقوں میں نچلے اور متوسط طبقہ کا ساتھ ملا۔ بایاں محاذ کی حمایت کتنی طاقتور اور مکمل تھی۔ جب بایاں محاذ کی حکومت مغربی بنگال میں آئی تب انھوں نے زمینی اصلاح جیسے انقلابی قدم اٹھائے۔ جن کے پاس زمین نہیں تھی انہیں زمین ملی۔ پورے ملک کے لیے مغربی بنگال ایک مثال بن گیا۔ مزدوروں کی ترقی اور فلاح کے لیے بھی اقدام کیے گئے۔ کئی سالوں تک مغربی بنگال سب سے خوشحال ریاست رہی۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بھی بدل جاتے ہیں۔ اچھی حکومت کا مطلب یہی ہوتا ہے جو وقت کی ضرورتوں کا دھیان رکھتے ہوئے پالیسیاں بدلتی ہے۔بایاں محاذ کی حکومت یہی کام نہیں کر سکی۔ جب مرکزی حکومت نے لبرل ازم کی پالیسیوں کو اپنایا تو بایاں محاذ نے ا س کی مخالفت کی۔ صحیح کیا۔ لیکن وہ اسے اس کی جگہ کوئی متبادل منصوبہ دینے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ریاست کی اقتصادی صورتحال خراب ہونے لگی۔ حکومت نے جب تبدیلی کا دامن تھاما توسب سے بڑی چوک ہوگئی۔اس تبدیلی میں کسانوں اور مزدوروں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دارجلنگ کے چائے باغات سے لے کر کولکاتہ ، آسن سول ، درگا پور اور ہبلی کے دونوںکناروں پر لگی صنعتوں نے دم توڑ دیا۔ گیہوں، دال اور تلہن کی پیداوار میں ریاست گئی۔ بنگال کا متوسط طبقہ بھی ناراض ہو گیا۔ زمینی اصلاحات والی دودھ دیتی گائے سوکھ گئی۔ زمینداروں کا ایک طبقہ گیا تو 32سال سے بلڈری اور سرکاری ٹھیکے کا مال کھا رہا ایک نیا مالدار طبقہ تیار ہو گیا ۔ عوام کو یہ لگنے لگا کہ کبھی زمین سے محروم لوگوں کو زمین دینے والی حکومت کسانوں سے زبردستی زمین چھین رہی ہے، صنعت کاروں کے خلاف بولنے والی پارٹی اب صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انتخابی نتائج، لوگوں کے اسی احساس کا نتیجہ ہے۔ قیادت کا سیاست پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی سیاسی جماعت کا چہرہ ہوتا ہے۔ 34 سال تک مغربی بنگال پر حکومت کرنے کا شرف بایاں محاذ کو حاصل ہے ہی، لیکن اس میں سب سے بڑا تعاون جیوتی بسو کا بھی ہے۔ جیوتی بسو کی کارگزاری اور مقبولیت بے مثال تھی۔ جیوتی بسو نے جب سرگرم سیاست کو الوداع کہا تو ان کے پیچھے لیڈروں کی فوج کھڑی تھی۔ جیوتی بسو کے جاتے ہی مغربی بنگال میں بایاں محاذ کی حالت خراب ہونے لگی۔
اگر لیڈر پارٹی کا چہرہ ہے تو پارٹی تنظیم بلاشبہ اس کا جسم ہے۔ کسی بھی پارٹی کو اپنی مقبولیت اور اپنی حمایت قائم رکھنے اور پھیلانے کے لیے ایک مضبوط تنظیم کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیفٹ پارٹیاں اس میں سب سے آگے ہیں۔ ان کی تنظیم کے سامنے آر ایس ایس کی تنظیم بھی پھیکی دکھائی پڑتی ہے۔ بنگال کا ایسا کوئی گاؤں نہیں ہے، کوئی پنچایت نہیں ہے، جہاں بایاں محاذ کا دفتر نہیں ہے۔ جہاں پارٹی کے کارکن اور ان کے حامی ہر روز ملتے ہیں۔ ملک و بیرون ملک کے واقعات پر بات چیت اور بحث کرتے ہیں، کارکنان کی باقاعدہ ٹریننگ ہوتی ہے، کیمپ لگائے جاتے ہیں، ان کی گریڈنگ ہوتی ہے، لیفٹ کا سب سے اہم تعاون یہ ہے کہ بنگال کے عوام کو سیاسی شعور ہے۔ سماج کے ہر شعبے میں ان کی شاخیں ہیں، خواہ وہ طالب علم ہو، نوجوان ہو، مزدور ہو، کسان ہو، وکیل ہو، فن کار ہو یا کوئی اور، ہر شعبہ میں لیفٹ کی تنظیم موجود ہے۔ شہر ہو یا گاؤں سی پی ایم اور سی پی آئی کا کارکن ہونا فخر کی بات ہوتی تھی۔ لوگ بھی ان کی عزت کرتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی آئی، پڑھے لکھے اور شریف لوگوں کی جگہ غنڈے اور بدمعاشوں نے لے لی۔ پارٹی تنظیم بدنام اور گمراہ ہوگئی۔ لوگ لیفٹ جماعتوں کے کارکنان سے ڈرنے لگے۔ سی پی ایم کے کارکنان درگا پوجا یا پھر کسی اور کا بہانہ بنا کر لوگوں سے وصولی کرنے لگے۔ پارٹی ورکر غنڈوں میں تبدیل ہوگئے۔ اسٹوڈنٹ سیاست میں بھی غنڈہ گردی شامل ہوگی۔ پولس بھی پارٹی کے اشارے پر کام کرنے لگی۔ دیہی علاقوں میں کارکنان کھلے عام پولس کے سامنے ہتھیار لے کر لوگوں کو ڈرانے دھمکانے لگے۔ پارٹی کارکنان کی اکڑ اور گھمنڈ سے لوگ سہم گئے۔
مغربی بنگال کا دانشور طبقہ بایاں محاذ کے ساتھ رہا۔ بنگال کے دانشوروں نے ہمیشہ بایاں محاذ کی آئیڈیا لوجی، منصوبہ بندی، لیڈرشپ اور تنظیم کی صرف حمایت ہی نہیں کی، بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ بایاں محاذ دوسری کسی بھی پارٹی سے بہتر ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے یہ دانشور طبقہ بایاں محاذ سے دور چلا گیا ہے۔ اتنا دور کہ نندی گرام، سنگور اور لال گڑھ کے واقعات کے بعد یہ لوگ حکومت کے خلاف سڑک پر اتر آئے۔ کبھی بایاں محاذ سے کافی نزدیک رہنے والے مصنف اتن بندوپادھیائے کہتے ہیں کہ بایاں محاذ کو تو 20سال پہلے اقتدار سے باہر کردینا چاہیے تھا، کیوں کہ لیفٹ جماعتوں کی دہشت گردی سے لوگ تنگ آچکے ہیں۔ بنگال کے فن کاروں اور مصنفین کے درمیان بدھادیپ بھٹاچاریہ کافی ہردلعزیز ہوا کرتے تھے۔ پھر ایسی کیا غلطیاں ہوئیں، جس سے بنگال کا دانشور طبقہ حامی سے مخالف بن گیا۔ بنگال کے ممتاز مصنف سرشیندو مکھوپادھیائے کہتے ہیں کہ لیفٹ کے کارکنوں اور لیڈروں کی باڈی لنگویج اور ناکارہ پن بایاں محاذ کی ہار کی وجہ ہے۔ اب تک وہ صرف فرضی ووٹنگ کی وجہ سے جیتتے آرہے تھے، جو فن کار، مصنف، تھیٹر آرٹسٹ، شاعر اور دانشور تین سال پہلے تک لیفٹ پارٹیوں کے سرگرم حامی تھے، مارکسواد میں یقین رکھتے تھے، وہ لوگ آج مخالف ہوگئے۔
آئیڈیا لوجی، تنظیم، پالیسیاں، قیادت اور دانشوروں کی حمایت بایاں محاذ کی اصلی طاقت ہوتی تھی۔ لیفٹ پارٹیوں کی طاقت کمزوری میں بدل گئی۔ ایسے میں بنگال کی سیاست میں ہلکی رفتار سے ہی سہی، مگر مسلسل ایک زمینی قیادت چھانے لگی۔ نیلے بارڈر والی سفید ساڑی اور پیر میں ہوائی چپل۔ پانی اور کیچڑ بھری سڑکوں پر چلتے تیز قدم، ناکامیوں سے مایوس نہ ہونے والا چہرہ، عوام کے دکھ درد کو اپنا سمجھنے والا جذبہ، مغربی بنگال کی تین دہائیوں کی لیفٹ سیاست کے کروکشیتر میں یہ چہرہ ہر جگہ دکھائی دیا۔ ممتابنرجی نے کچھ نیا نہیںکیا۔ انہوں نے لیفٹ حکومت کے ذریعہ دیے گئے موقع کا فائدہ اٹھایا۔ ممتا کی کوئی آئیڈیالوجی نہیں ہے۔ کوئی پالیسی نہیں ہے۔ کوئی تنظیم نہیں ہے۔ دانشور ممتاکو ہمیشہ ناپختہ مانتے رہے۔ لیکن ممتا میں جذبہ ہے۔ دبے کچلے، استحصال زدہ، بے روزگار اور بے سہارا عوام کے لیے لڑنے کا جذبہ ہے۔ سنگور میں ٹاٹا کے نینو کارخانے لگانے کے وقت جب ممتا کو لگا کہ بہت سارے کسان رضامند نہیں ہیں اور حکومت انہیں کافی معاوضہ دیے بغیر زمین لے رہی ہے تو انہوں نے تحریک چلائی۔ کسانوں کی زمین بچانے کے لیے جو کام لیفٹ پارٹیاں کرتی آئی تھیں، وہی کام ممتا بنرجی نے کیا۔ پھر نندی گرام کے کیمیکل ہب کے لیے لینڈ ایکوائرمنٹ کا نوٹس جاری ہوتے ہی جو تحریک بھڑکی، ممتا کی تحریک پورے جنوبی بنگال میں پھیل گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ممتا میں ایشوز کی سمجھ بھی بڑھتی گئی۔ بانگلہ بھدر لوک کو بھی لگنے لگا ہے کہ ممتا اب ماہر ہوگئی ہیں۔ ممتا نے آندھی- پانی، جلتی دوپہر اور دھول بھرے راستوں پر عوام سے وابستہ مسائل پر جدو جہد کی۔ یہی تو کمیونزم کی روح ہے۔ لیفٹ کو اس بات سے خوش ہونا چاہیے کہ ممتا کی جیت ان اقدار کی جیت ہے جن اقدار کی بنیاد کمیونزم ہے۔
دہلی میں بیٹھے ملک چلانے والے لوگ ان انتخابی نتائج کی اپنے ہی انداز میں تشریح کرنے میں مصروف ہیں۔ بایاں محاذ کی شکست کو جدید لبرل ازم کی فتح سمجھا جارہا ہے۔ یہی خطرہ ہے۔ کچھ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جس طرح مہاراشٹر، گجرات اور دہلی میں لبرل ازم اور نج کاری کی وجہ سے ترقی ہوئی ہے، ویسی ترقی بنگال میں نہیں ہوئی ہے، اس لیے لوگوں نے بایاں محاذ کو اکھاڑ پھینکا۔ یوروپ اور امریکہ کے اخباروں میں یہ لکھا جارہا ہے کہ کانگریس کی یوپی اے حکومت کو پیچھے کھینچنے، لبرل ازم پر بریک لگانے، نیوکلیئر ڈیل کو پٹری سے اتارنے اور ہندوستان کی شبیہ مسخ کرنے کی وجہ سے لوگوں نے کمیونسٹوں کو سبق سکھایا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دہلی میں بیٹھے کئی لوگ اسی دلیل کو صحیح مان رہے ہیں۔ اس طرح کے تجزیے سے بچنے کی ضرورت ہے۔ لبرل ازم اور مارکیٹ ازم کے چشمے سے اگر کمیونزم کی ہار کو دیکھا گیا تو ہم غلط نتیجے پر پہنچ جائیںگے، جو مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹیوں کی ہار جدید لبرل ازم کی نہیں کمیونزم کی اقدار کی ہی جیت ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *