دولت مشترکہ کھیل:کیا عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی حصہ لے پائیں گے؟

Share Article

آدتیہ پوجن

دولت مشترکہ کھیلوں کی تیاری میں بد عنوانی کی خبریں آج میڈیا میں سرخیاں بن رہی ہیں۔ ہر گلی چوراہے سے لے کر ملک کی پارلیمنٹ تک میں اس پر ہنگامہ مچا ہوا ہے، لیکن اس سارے شورشرابے کے بیچ یہ بات دب کر رہ گئی ہے کہ ان کھیلوں سے دنیا کے ٹاپ ایتھلیٹ آہستہ آہستہ کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ تین بار اولمپک چمپئن رہ چکے دھاوک اسین بولٹ پہلے ہی اس میں شامل ہونے سے انکار کرچکے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایسا کرنے والے وہ اکیلے نہیں ہیں۔ سائیکلنگ میں چار بارکے اولمپک چمپئن کرس ہائے، انگلینڈ کے اسپرنٹر ڈوین چیمبرس اور دھاوکا جیسکا اینس، جمیکا کی ویرونیکا گیمپبیل-براؤن، انگلینڈ کے ہی اولمپک گولڈ میڈل فاتح اور عالمی چمپئن سائیکلسٹ وکٹوریا پنڈلٹن، آسٹریلیائی تیراک کیٹ کیمپبیل اور ٹینس کھلاڑی سامنتا اسٹوسپر اور اسکاٹ لینڈ کی چمپئن جمناسٹک ڈینیل کیٹنگ جیسے ایتھلیٹ بھی دولت مشترکہ کھیلوں میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرچکے ہیں۔ ان کھیلوں کی شروعات میں ابھی بھی تقریباً ایک ماہ کا وقت باقی ہے اور جس طرح سے ایک ایک کر کے ایتھلیٹ اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے جارہے ہیں، اسے دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ کہیں یہ دوسرے درجے کے کھلاڑیوں کے درمیان کا مقابلہ بن کر نہ رہ جائے۔
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ آرگنائزنگ کمیٹی اس سب سے بے خبر ہے۔ وزیر کھیل ایم ایس گل جولائی میں ہی کھلاڑیوں کے اس رویہ پر اپنی فکر کا اظہارکرچکے ہیں، لیکن آرگنائزنگ کمیٹی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ کمیٹی کے ممبر تو اسی فکر میں ہیں کہ کسی طرح ساری تیاریاں وقت پر پوری ہوجائیں، لیکن تیاریاں پوری ہو بھی گئیں اور ٹاپ کھلاڑی اس میں شریک نہیں ہوئے تو پھر اتنے بڑے انعقاد کا مطلب کیا ہے۔ 2003میں جب ہندوستان کو دولت مشترکہ کھیلوں کے انعقاد کی ذمہ داری ملی تھی تو تمام کھیل شائقین کے دلوں میں یہ امید بندھی تھی کہ وہ ٹاپ کے ایتھلیٹس کو اپنی نظروں کے سامنے پرفارم کرتے ہوئے دیکھ پائیںگے، لیکن کھلاڑیوں کے اس رویہ کو دیکھنے کے بعدوہ امیدیں کافور ہوچکی ہیں۔ اس انعقاد کو کامیاب بنانے کے لیے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، لیکن ہندوستانی ناظرین اگر ٹاپ کھلاڑیوں کو پرفارم کرتے ہوئے دیکھ ہی نہیں پائیںگے تو پھر اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کا فائدہ کیا ہے۔حکومت اور آرگنائزنگ کمیٹی بار بار اسے ملک کے سب سے بڑے کھیل کاانعقاد قرار دے رہی ہے اور اس کی کامیابی کے حوالے سے روز نئے نئے دعوے کیے جارہے ہیں، لیکن ادھوری تیاریاں اورٹاپ کھلاڑیوں کی غیر موجودگی کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ یہ کہیں ملک کا سب سے شرمناک کھیل کا انعقاد بن کر نہ رہ جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *