دولت مشترکہ کھیل: چلو سب مل کر کھاتے ہیں

Share Article

وسیم راشد
آزادی کے 63سال یعنی کسی انسان کی عمر کا وہ حصہ جب وہ زندگی کی جدوجہد ، زندگی کی تلخ سچائیوں، زندگی کے تمام حقوق وفرائض سے نمٹ کر ایک پر سکون زندگی کی خواہش کرتا ہے اور اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر وہ خدا کی راہ میں لگ جاتا ہے۔ہماری آزادی بھی عمر کے اس حصہ کو پہنچ گئی ہے کہ جب سب کچھ اچھا ہونا چاہئے تھا، جب ملک کو ترقی پذیر کے ٹائٹل سے نکل کر ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جانا چاہئے تھا مگر اس آزادی کو جس نے کہ ہمیں جمہوری اقتدار، جمہوری خیالات، جمہوری سوچ عطا کی اس کا ہم نے کتنا استعمال کیا ہے۔ جمہوریت، جیسا کہ اس کی تعریف کی گئی ہے کہ’ عوام کی حکومت‘، ’عوام کے لئے‘اور’ عوام کے ذریعہ‘ توکہاں ہے عوام کی حکومت ، حکومت تو چند طاقتور لیڈروں کی ہے ، حکومت تو سرمایہ داروں کی ہے، حکومت تو بدعنوان افسروں کی ہے۔ کہاں عوام کی حکومت رہ جاتی ہے اور عوام کے لئے کہنا یہ تو مذاق اڑانا ہے۔ کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، استحصال اور بدعنوانی نے پورے ملک کو جکڑ رکھا ہے اور اس طرح عوام کے ذریعہ والا تصور خود بخود ختم ہوجاتا ہے ،کیونکہ جب جمہوریت کے دو بنیادی ستون ہی غائب ہیں تو تیسرا ستون اکیلے کہاں تک اس عمارت کو سنبھال سکے گا۔ لاتعداد مسائل ہیں جن سے عام آدمی نمبرد آزما ہے۔ مہنگائی نے تو کمر توڑ ہی رکھی ہے، ملاوٹ نے صحت و تندرستی کو دائو پر لگا دیا ہے اور بدعنوانی کا یہ حال ہے کہ چند ضمیر فروشوں نے دولت مشترکہ کھیلوں میں اپنے ضمیر کا سودا کر کے ملک کی عزت وآبرو اوراس کی سالمیت کو دائوں پر لگا دیا ہے۔ مالی بدعنوانیوں، اپنوں اپنوں کو ٹھیکے دینا اور کچھ خاص کمپنیوں کو ہی فائدہ پہنچانے کی غرض سے بندر بانٹ ،یہ سب کچھ اس وقت سامنے آ رہا ہے جب کھیل شروع ہو نے میں مشکل سے ڈیڑھ ماہ کا وقت رہ گیا ہے۔یہ بھی کیا غضب کی چالاکی ہے کہ اگر آپ کا نام بدعنوانی میں سامنے آ جاتا ہے تو آپ خود کو سچاکھرا بتاتے ہوئے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیتے ہیں کہ آپ اخلاقی بنیاد پر اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ ٹینس لابی کے سب سے پر اثر آدمی انل کھنہ کا نام جب اس طرح سامنے آیا کہ انھوں نے اپنے بیٹے آدتیہ کی کمپنی ریبانڈ ایس کو دہلی میں لان ٹینس کیمپس میں واقع آر کے کھنہ اسٹیڈیم میں سنتھیٹک ٹرف بچھانے کا ٹھیکہ دلایا ہے تو وہ اس الزام سے صاف مکر گئے اور ایسے وقت میں اپنا استعفیٰ بھی دے دیا جب کہ فی الحال کوئی متبادل نہیں تھا ۔ اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دینا تو جائز ہے مگر یہ بھی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ایسے وقت میں جب کوئی دوسرا کام کو سنبھالنے والا نہیں اور وقت بھی کم رہ گیا ہے تو آپ اس ذمہ داری سے کیسے دامن چھڑا سکتے ہیں؟ ٹی ایس درباری، سنجے مندرو اور جے چندرن یہ تینوں آرگنائزنگ کمیٹی کے اہم عہدوں پر فائز تھے اور سریش کلماڈی کے بہت قریبی مانے جاتے تھے۔ ایسے میں جب آرگنائزنگ کمیٹی اتنی بڑی بدعنوانی میں ملوث ہوتو باقی محکموں کا تو کیا کہنا۔ اسٹیڈیم ابھی پوری طرح تیار نہیں ہوئے ہیں جو تیار ہو گئے ہیں ان کی چھتیں ٹپک رہی ہیں۔ ایم سی ڈی کا گیمز پروجیکٹ بار بار نئی تاریخ پر جا کر رک جاتا ہے۔ پہلے ایم سی ڈی کے پروجیکٹ 30جون تک مکمل ہونے تھے مگر پھر 15جولائی تک کا وقت مانگا گیا اور اب 31اگست تک ان تمام پروجیکٹوں کے مکمل ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ شیلا دیکشت جی اپنے آپ کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں اور اپنے عملہ کے ساتھ خوشی خوشی دورے کر رہی ہیں ۔ بار بار اپنی دو انگلیوں کو دکھا کر وکٹری کا نشان بنا رہی ہیں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ وہ خود کو دھوکہ دے رہی ہیں یا عوام کو۔ان کو یہ نہیں معلوم کہ معصوم عوام کو نہ بدعنوانیوں سے مطلب ہے نہ ان کی خوش فہمیوں سے کوئی لینا دینا۔ یہ عوا م تو بس یہ چاہتے کہ دولت مشترکہ کھیل بخوبی انجام پاجائیں اور ہمارے ملک کا وقار بچ جائے۔ ایم سی ڈی کے تحت ہوئے گھوٹالہ میں جس کے لئے سی بی آئی نے رپورٹ درج کرائی ہے ،ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہو پائی ہے۔ سابق مرکزی وزیر کھیل منی شنکر ایئر کی یہ بددعا کہ خدا کرے دولت مشترکہ کھیل کا کامیاب نہ ہوں، پر تو سب کا ردعمل سامنے آیا ہے اور انھوں نے ایسے وقت میں یہ تجویز سامنے رکھ دی کہ کھیلوں کے کامیاب انعقاد کے لئے ایک اختیاری کمیٹی تشکیل دی جانی چاہئے۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ بہتر منتظم ہیں۔وہ بہتر رائے دے سکتے ہیں۔ مگر ایسے وقت میں جب صرف ڈیڑھ مہینہ رہ گیا ہے،کمیٹیاں بنانے کا وقت نہیں ہے،عمل کا وقت ہے۔ دراصل دولت مشترکہ کھیلوں کے انعقاد کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔جیسا کہ کسی بڑی شادی میں ہوتا ہے کہ الگ الگ لوگوں کو الگ الگ کام سونپ دیئے جاتے ہیں۔ شامیانہ والا، کراکری والا، سجاوٹ والا، کھانا پکانے کا انتظام کرنے والا وغیرہ وغیرہ اور اس میں سبھی کو یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ بس اب کھانے کمانے کا وقت ہے۔ جتنا پیسہ کما سکو کما لو ۔یہی حال ہندوستان کا ہوا کہ ڈی ڈی اے، ایم سی ڈی، ڈی ایم ڈی، اسپورٹس فیڈریشن،محکمۂ مواصلات غرضیکہ جتنے بھی ادارے اس کے انعقاد میں حصہ داری نبھا رہے ہیں ان کے پاس ایک نادر موقع پیسہ کمانے کا اور لوٹنے کھسوٹنے کا ہاتھ آگیا اور اوپر سے لے کر نیچے تک سبھی کھانے کمانے میں لگ گئے۔ آئی اے ایس آفیسر تو خوشی سے بے حال ہو گئے کہ بس اس سے زیادہ اس سے بڑا موقع پیسہ کمانے کا اور کب ملے گا۔ یقین جانئے یہ کھیلوں کے انعقاد کی خوشی نہیں ہے یہ اس بات کی خوشی ہے کہ اب تجوریاں بھرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہر ادارہ ،ہر محکمہ، ہر شخص صرف اور صرف پیسہ بٹورنے پر لگا ہوا ہے۔ سڑکیں بار بار توڑ کر بنائی جارہی ہیں۔ بڑے بڑے فلائی اوور بنائے جا رہے ہیں اور اتنے جلدی بن کر تیارہو رہے ہیں کہ ڈر لگ رہا ہے کہ کھیل ختم ہونے کے بعد کہیں یہ سب معصوم عوام پر تو نہیں گر جائیں گے۔کسی گھر کی ایک دیوار بھی بنتی ہے تو بنیاد میں بار بار پانی ڈالا جاتا ہے ۔ کسی گھر کی اگر چھت پڑتی ہے تو کم سے کم 8دن اس کی ترائی کی جاتی ہے۔ یہاں تو کھلا ڑیوں کے رہنے کے لئے فلیٹ، مکان،پل سب کچھ اتنی تیزی سے بن رہے ہیں کہ ڈر لگ رہا ہے کہ کون سا پل کہاں سے کب ٹوٹ جائے گا۔ اگر خدانخواستہ کوئی بڑا حادثہ ہو جاتا ہے تو میرا تو یہ ماننا ہے کہ ان سب بدعنوان افسران کو پھانسی ملنی چاہئے۔ غضب کی ہیر پھیر ہے۔ غضب کا دماغ ہے جو صرف اور صرف بدعنوانی میں ہی چل رہا ہے۔کافی سامان جو کہ اتنی جلد بن نہیں سکتا تو کرایہ پر لایا جا رہا ہے۔ جتنے میں10چیزیں بن کر تیار ہو جائیں اتنا پیسہ صرف اور صرف کرایہ میں خرچ کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں مجھے یاد آ رہا ہے کہ دولت مشترکہ کھیلوں کے فیڈریشن کے سربراہ مائک فینیل کا بیان جو کہ انھوں نے اکتوبر 2009میں دیا تھا ۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کو 2010 میں دولت مشترکہ کھیلوں کی میزبانی ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دہلی میں کھیلوں کے مقامات کا جائزہ لینے کے لئے بعد مائک فینیل نے کہا تھا کہ دہلی شہر ایک بڑے ایونٹ کی میزبانی کر سکتا ہے، مگر ساتھ میں انھوں نے خبر دار بھی کیا تھا کہ وقت آپ کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اب مائک فینیل صاحب کو یہ کون بتائے کہ وقت نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہی لوگ دشمن ہیں۔ ہمارے اپنے ہی ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں اور غریب عوام مہنگائی کے بوجھ سے بے حال صرف اور صرف تماشا دیکھ رہے ہیں اور اپنے پیسے کو جو وہ ٹیکس کی شکل میں ادا کرتے ہیں اس کا غلط استعمال ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں جس طرح ہندوستان میں ہونے والی بدعنوانیوں کی خبریں جا رہی ہیں۔ کیا ہندوستان اس بدنامی سے بچ پائے گا اور کیا آگے وہ خود کو اس لائق ثابت کر پائے گا کہ وہ اپنے ملک میں کوئی بڑا ایونٹ کرانے کے قابل ہے۔ ہمارے ملک کی جمہوریت کو،ہمارے ملک کی شبیہ کو داغدار کرنے میں جن لوگوں کا ہاتھ ہے۔ ان کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے تھی۔تبھی آئندہ ہم ایک بہتر ہندوستان کا تصور کر سکتے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *