وسیم احمد سعید کی تالیف کردہ کتاب کا لا پانی(گمنام مجاہدین آزادی1857) نہ صرف تاریخی اہمیت کی حامل ہے بلکہ تاریخ میں ایک بیش قیمتی اضافہ ہے۔کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد محسوس ہوا کہ وسیم صاحب نے کتاب پر بڑی ہی عرق ریزی اور دیدہ ریزی سے کام کیا ہے۔ تحقیق کتاب کا خاص وصف ہے۔موصوف نے کتاب کو مدلل اور جامع بنانے کے لیے جزیرۂ انڈمان نکوبار کا سفر کیا اور وہاں کی تاریخی جیل سے  ثبوت اکٹھا کیے، تب کہیں جاکر وہ قارئین کو اپنا یہ سرنامہ دے سکے۔
موصوف نے عمیق تحقیق کے ذریعہ ان گمنام مجاہدین آزادی کے احوال و کوائف بیان کیے ہیں، جن کو ہندوستان یا تو فراموش کر چکا تھا یا پھر ان کے کارناموں کو تاریخ میں جگہ ہی نہیں دی گئی۔یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ آزادی کے ان متوالوں کو گمنام بنا دیا گیا اور انگریز مخالف ان کے کارناموں پر روشنی ہی نہیں ڈالی گئی۔ہزاروں کی تعداد میں ایسے سرفروش ہیں، جنھوں نے اپنے اپنے طور پر انگریزوں سے جنگ لڑی اور وطن عزیز کی بقا و احیا کی خاطر کالا پانی کی سخت ترین سزائیں اورصعوبتیں برداشت کیں۔ سیکڑوں ایسے سرفروش تھے جو آزادیٔ وطن کی خاطر پھانسی کے پھندوں پر لٹکا دیے گئے اور زمانہ انہیں جان بھی نہیں پایا۔بڑی شدت سے کسی ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی، جو ان جانباز سورمائوں کے کارناموں کو منظر عام پر لائے اور دنیا یہ جان سکے کہ انگریزوں کے دانت کھٹے کرنے والے ہندوستانی سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ان سورمائوں کا تعلق ہر مذہب ،ذات ، برادری اور ہر شعبہ جات سے تھا۔موصوف وسیم احمد نے مذکورہ کتاب میں ان جانبازوں کی زندگی سے بڑے ہی پرکشش انداز میں پردہ اٹھایا ہے۔کتاب میں کالا پانی کی سزا کاذکر رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ یہ قوم کے ان فرزندان کی ہمت و جواں مردی ہی تھی کہ خوشی خوشی کا لا پانی کی سزا تو قبول کرلی لیکن فرنگیوں سے کسی بھی قیمت پر مفا ہمت نہیں کی۔کتاب کا انتساب انتہائی متاثر کن ہے۔ لفظوں کی تراش خراش اور ان کاپرکشش انداز مولانا محمد حسین آزاد کی تحریروں کی یاد دلاتا ہے۔انتساب کی چند سطریں دیکھیے۔’’میں اپنی یہ تخلیق بصد احترام بطور نذرانۂ عقیدت مادر ہند کے ان جانباز سورمائوں ، سر فروشوں اور قوم و ملک کے قابل فخر فرزندان کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، جن کے لہو کی تپش سے فرنگیوں کی ہتکڑیاں، بیڑیاں اور زنجیریں پگھل کر رہ گئیں اور جنھوں نے ہنستے ہوئے دارو رسن کا پھندا خود چوم لیا اور گولیوں کی بوچھار، تلواروں کی جھنکار اور گرجتی توپوں کے آتشیں طوفان میںآزادی اور وطن کے تحفظ کے لیے اپنے خون کے قطرات سے سرزمین ہند کی آبیاری کی اور حب الوطنی کے تقاضے ہی پورے نہیں کیے بلکہ بے مثال قربانیاں دیں۔انہیں قربانیوں کے صلہ میں ہمیں15اگست 1947کو آزادی نصیب ہوئی۔‘‘
بہر حال کتاب انتہائی معلوماتی اور جامع ہے۔کتاب کے آخر میںانڈمان نکوبار کی جوتاریخی تصاویر ڈالی گئیں ہیں۔انھوں نے کتاب کے حسن میں اضافہ تو کیا ہی ہے ساتھ ہی کتاب کو مزید معلوماتی بھی بنا دیا ہے۔ وسیم صاحب کی یہ تاریخی کاوش ادبی و تاریخی حلقوں میں زبر دست پذیرائی حاصل کریگی۔

نام کتاب    : کالا پانی (گمنام مجاہدین جنگ آزادی1857)
مؤلف    :     وسیم احمد سعید
صفحات    :    328
قیمت    :    300روپے
ناشر    :     مولانا آزاد اکیڈمی، نئی دہلی
مبصر    :     چودھری نوازش مہدی
ملنے کا پتہ:
غالب اکیڈمی، بستی حضرت نظام الدین، نئی دہلی110013-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here