سی ایم کے بھائی کا سالا، تو سب کے منہ پر تالا

Share Article

اسرار پٹھان
p-9وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے رکن پارلیمنٹ بھائی دھرمیندر یادو کے سالے پشپندر یادو کے ہاتھ میں بندیل کھنڈ کی غیر قانونی کانکنی کی باگ ڈور ہے۔ کانکنی کے شعبے میں وزیر اعلیٰ اکھلیش نہیں ،بلکہ پشپندر ہے۔ انتظامیہ پشپندراور اس کے گروہ کے آگے جھکی ہوئی ہے۔ مہوبہ کے گورہاری میں جس غیر قانونی کانکنی میں کان کے کھسکنے سے گزشتہ دنوں پانچ مزدوروںکی موت ہوئی، وہ کان بھی پشپندر یادو کے ہی قبضے میںہے۔ یہ مزدوروں کی حادثے میں موت نہیںبلکہ قتل ہے، لیکن سرکار نے اسے اتنے ہلکے میںلیا کہ موتوںپر دس دس اور بیس بیس لاکھ روپے کا معاوضہ ریوڑیوںکی طرح بانٹنے والے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو- دو لاکھ روپے لواحقین کو تھما دےے اور بس، دھندہ پھر جاری ہے۔
کھادی، خاکی اور مائننگ مافیاو¿ں کی ساز باز، بندیل کھنڈ میںپھر پانچ مزدوروں کوموت کے گھاٹ اتار گئی۔ مہوبہ کے گورہاری میںکان کے کھسکنے سے ہوئی ان موتوں نے اس ساز باز کا ننگا سچ سامنے لادیا۔ ایک ایسا سچ جو اس کام سے وابستہ ہر کسی کوکٹہرے میںکھڑا کرتا ہے۔ حادثے کے فوراً بعد حرکت میں آئے ضلع انتظامیہ نے جس مستعدی کے ساتھ پیادوں پر کارروائی کی اور جس چالاکی کے ساتھ خود کواور اس کھیل کے بڑے مہروں کو محفوظ کیا،وہ بے حد قابل غور ہے۔ چوبیس گھنٹے کی سخت مشقت اور وزیر اعلیٰ کے ذریعہ دو -دو لاکھ کی معمولی مالی مدد کے بعد معاملہ بھلے ہی ٹھنڈا ہوگیا ہو، لیکن اس واقعہ سے ایک بات تو صاف ہوگئی کہ بندیل کھنڈ میں ہورہی ناجائز کانکنی کے دھندے کی ڈور مافیاو¿ںکے ہاتھ سے سرک کر لیڈروں کے ہاتھ میں پہنچ چکی ہے۔
بندیل کھنڈ میں بے حد بڑے پیمانے پر ناجائز کانکنی کی جارہی ہے۔ یہاں اقتدار کی سرپرستی میں ندیوںکی ریت،مٹی اور مورنگ نکال کر کھلے عام فروخت کی جارہی ہے۔ ماحولیات محکمہ کے اعتراض کے بعد بھی پہاڑوں کی کانکنی زوروں پر ہے۔ کانکنی کے کام سے جڑے لوگوں پر عدالتی حکم تک بے اثر ہے۔ یہاںاس معاملے میں اکیلے مائننگ ڈپارٹمنٹ کو قصوروار ٹھہرایا جانا مناسب نہیں،کیونکہ کانکنی کے اس غیر قانونی کھیل میںسب شامل ہیں۔ چوکی کے سنتری سے لے کر ریاست کے منتری تک کم و بیش سب اس کام میںملوث ہیں۔ للت پور سے چتر کوٹ تک پھیلے کانکنی کے اس کھیل میںسبھی کی عہدے اور حیثیت کے مطابق حصہ داری اور کردار طے ہے۔ انتظامی افسروں،خاکی، کھادی اور مائننگ مافیاو¿ں کی اس ساز باز میںاگر نقصان میں کوئی ہےں، تو وہ ہیں اس کام سے جڑے مزدور۔ وہ مزدور جو چند روپے کے لےے اپنی جان گنوا رہے ہیں۔ معمولی دہاڑی کے لےے ایسا جوکھم اٹھانا ان محنت کشوں کی مجبوری بھی ہے او رضرورت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ بندیل کھنڈ میںروزانہ کانکنی کے کام کی زد میںآکر کسی نہ کسی مزدور کی موت ہوجاتی ہے۔ آئے دن ہونے والی ان موتوں میںسے زیادہ تر پیسہ ، پاور اور پالیٹکس کے دم پر بدعنوانی کی تاریخ کا حصہ بنا دی جاتی ہیں۔ زیادہ تر معاملوں میںمتوفی خاندان کو کچھ روپے دے کر خاموش کرادیا جاتا ہے اور مائننگ مافیاو¿ں کی بدعنوانی کے اس منصوبے کو عملی جامہ پہناتی ہے خاکی۔ اقتدار کے آقاو¿ں کے خوف اور مافیاو¿ں سے ملنے والے حصے کے لالچ نے پولیس کو غیر قانونی کانکنی پر کارروائی کرنے کے معاملے میںناکارہ اور دلال بنادیا ہے۔ پولیس کے اسی طریقہ کار کے سبب زیادہ تر معاملے مینج ہوجاتے ہیں یا یوںکہیںکہ جبراً دبا دےے جاتے ہیں۔ نتیجتاً پتھر کے کاروبار میں محنت کشوںکی موت کے غیر معمولی معاملے ہی عام ہو پاتے ہیں۔ مہوبہ ضلع کے گورہاری میںرونما ہوئے واقعے کو ایسے ہی واقعوں میںسے ایک کہہ سکتے ہیں۔ ڈایسفور ’گورا پتھر‘ کان کی بہتات والے اس گاو¿ںمیں گزشتہ دنوںاس وقت کہرام مچ گیا، جب ایک غیر قانونی ڈھنگ سے چلائی جارہی کان میں کام کررہے آدھا درجن مزدوروں پرچٹان کھسک کر گرپڑی۔ واقعہ کتنا ہولناک تھا اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ چٹان کی زد میں آئے مزدوروں میں سے محض ایک کو ہی بچایا جاسکا، جبکہ پانچ مزدوروں نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔
گورہاری میںکان کھسکنے کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد پولیس سپرنٹنڈنٹ گورو سنگھ کے ساتھ ضلع افسر ویریشور سنگھ موقع پر پہنچ گئے۔ابتدائی جانکاری پر اس واقعہ کو ہلکے سے لے رہے اعلیٰ افسروں نے جب وہاںپہنچ کر صورت حال دیکھی، تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ دیہاتیوںکے ذریعہ نکالی جاچکی تین مزدوروں کی لاشیںاور ان کے آس پاس بیٹھے لواحقین کی چیخ و پکار نے افسران کے گھگی باندھ دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے گاو¿ںافسروں سے بھر گیا۔ کچھ گھنٹے اپنے ماتحتوں کو ہدایت دینے کے بعد افسران جب کھسکنے لگے، توگاو¿ں والوں نے ان کی گاڑیوں کو گھیر لیا۔ گاو¿ںوالوں کی مانگ تھی کہ جو مزدور کان میںپھنسے ہیں، پہلے انھیںنکالا جائے ، متوفیوں کے لواحقین کو مناسب معاوضہ دیا جائے او ر کان چلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انتظامیہ نے پہلے تو گاو¿ں والوں کو بہلانے کی کوشش کی، لیکن جب بھیڑ مشتعل ہوگئی، تو افسروں کو بیک فٹ پر جانا پڑا۔ فوری طور پر سینئر افسروںکو اس معاملے کی اطلاع دی گئی۔ اطلاع راجدھانی تک بھی پہنچی۔ وزیر اعلیٰ نے دو- دو لاکھ روپے کے معاوضہ کا اعلان کردیا۔ ادھر موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے دوسرے اضلاع سے سیکورٹی فورسیزاور پی اے سی بلالی گئی۔ خبر پاکر چترکوٹ کے ڈی آئی جی اور پھر الہ آباد زون کے آئی جی بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ اعلیٰ افسروں کے پہنچتے ہی بچاو¿ کا کام تیز کردیا گیا۔ تب کہیں جاکر چوبیس گھنٹے بعد ملبے میں پھنسے دو دیگر مزدوروں کی لاشیں باہر نکالی جاسکیں۔ اس بیچ گاو¿ں والوںکے غم و غصہ سے بچنے کے لےے انتظامیہ نے کان کے مبینہ سگمی ٹھیکیدر گبر سنگھ سمیت ان آدھا درجن لوگوں پر کارروائی کی خانہ پری بھی کرڈالی، جن کی حیثیت اس کھیل میں ایک معمولی پیادے سے زیادہ اور کچھ بھی نہیں تھی۔ انتظامیہ نے بے حد چالاکی سے پیادوں کو پٹواکر کھیل کے وزیر کو بچالیا۔بتایاجاتا ہے کہ افسروں نے راجدھانی میںبیٹھے آقاو¿ں کے اشارے پر اس قدآور سفید پوش کو بچانے میں پوری طاقت جھونک دی، جو اس واقعہ کے لےے اصل قصوروار ہے۔ اس سفید پوش کی ریاست کے مکھیا سے بے حد قریبی رشتہ داری ہونے کی وجہ سے افسروں کی جان حلقمیںاٹکی ہوئی تھی۔ افسروں کے ماتھے پر ابھری فکر کی لکیریں اور ہر لمحہ بدلتے ان کے بیان بتارہے تھے کہ معاملہ کہاںسے جڑا ہوا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر بھلا 2012 میںمیعاد ختم ہوچکی کان کو رینوئل کے بغیر کیسے چلایا جارہا تھا۔ واقعہ سے جڑے اس اہم سوال کا جواب کسی نے بھی نہیں دیا۔ پولیس اور انتظامیہ کے افسروں نے پیادوں پر کارروائی کرکے اپنی ذمہ داری پوری کرلی، تو مائننگ ڈپارٹمنٹ کا اسٹاف چھپتا ہوا نظر آیا۔ واقعہ کے وقت لکھنو¿ میںموجود ڈسٹرکٹ مائننگ آفیسر بی پی یادو جب مہوبہ پہنچے اور ان سے سوال پوچھے گئے، تو انھوں نے آف دی ریکارڈ یہ قبول کیا کہ اس کان کو چلانے کا ان پر دباو¿ تھا، لیکن خبر چھاپنے کی بات پر وہ پلٹی مار گئے۔ آفیشیل بیان کے طور پر انھوںنے جو بولا وہ بے حد مضحکہ خیز تھا اور چونکانے والا بھی۔ ان کے مطابق مائننگ کے اصولوں میںپروویژن ہے کہ رینوئل کی درخواست جمع ہوجانے کے بعد کانکنی چلائی جاسکتی ہے۔ حالانکہ عام آدمی کے معاملے میںاس اصول پر عمل کیوں نہیںہوتا، جیسے سوال پر وہ بغلیںجھانکتے نظر آئے۔کل ملا کر موت کے اس کاروبارکو لے کر بھلے ہی افسر منہ نہ کھول رہے ہوں، لیکن ان کی خاموشی سب کچھ بیان کر رہی ہے۔ ان کی خاموشی بتا رہی تھی کہ اس کاروبار کی جڑیںکتنی گہری ہیں۔
طوطی بولتی ہے پشپندر یادو کی
بندیل کھنڈ کی بدحالی سے پرے لیڈروں کی نظر یہاں کی معدنیات پر ہے۔گرام پنچایت کے مکھیا سے لے کر اعلیٰ ایوان کے مختار تک سبھی اس کا استعمال کررہے ہیں۔ ہر کوئی اپنی رسائی کے مطابق اس کاروبار کا حصہ بنا ہوا ہے۔ معدنیات کے معاملے میںبندیل کھنڈ کی سب سے بڑی منڈی کہے جانے والے مہوبہ کی بات کریں، تو یہاںرسوخ داروں نے لوٹ مچا رکھی ہے۔ یہاںاس کاروبار میںہر پارٹی کے معززین کا دخل ہے، لیکن برسر اقتدار پارٹی کے لیڈروں کی تو طوطی بول رہی ہے۔ براہ راست یا بالواسطہ طور پر اقتدار سے جڑے ہر معزز شخص کی یہاںکانیں، گھاٹ اور کریشر چل رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اکیلے کبرئی میںقریب تین سو کریشر اور کم و بیش اتنی ہی پتھر کی کانیںچلائی جارہی ہیں۔ ان میں90 فیصد پر برسراقتدار لیڈروںکا قبضہ ہے۔ گرام پردھان ، ضلع پنچایت کے ممبر، ایم ایل سی، ایم ایل اے، وزیر سے لے کر اس محکمہ کے مکھیا تک سب کا اپنے قد کے مطابق اس کاروبار میں رتبہ ہے۔ اس لسٹ میں ایک ایسا بھی نام ہے، جس کے آگے وزیر برائے معدنیات گایتری پرساد پرجاپتی بھی شاید بونے ثابت ہوں گے۔ ہ نام ہے وزیر اعلیٰ کے بھائی اور رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو کے سالے پشپندر یادو کا۔ بندیل کھنڈ میںآج اسے ’کھنج کنگ‘ کہا جائے ، تو غلط نہیںہوگا۔ سیدھے طور پر بھلے ہی اس کاروبارمیںان کا دخل نہ دکھائی دیتا ہو، لیکن اندرخانہ کا سچ یہی ہے کہ ان کی مرضی اور رضامندی کے بغیر کسی کی بھی کانکنی ممکن نہیں۔ ان کے علاوہ دوسرا سب سے بڑا نام ایس پی کے سابق وزیر اور پارٹی کے بااختیار امیدوار سدھ گوپال ساہو کا ہے، جس نے کبرئی منڈی میں اپنا دبدبہ قائم کیا ہوا ہے۔ گورہاری سانحہ کو لے کرہونے والی چرچاو¿ں کو سچ مانیں، تو جس غیر قانونی کان میں یہ واقعہ ہوا اسے چلانے کا انتظامیہ پر پشپندر یادو نے دباو¿ بنایا تھا۔ اقتدار کے خوف کے سبب بھلے ہی انتظامیہ اس بات کو کہنے سے کنّی کاٹ رہا ہو،لیکن اپوزیشن جماعتوں کے لیڈر اور عام لوگ یہ بات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں ۔ ہمیر پور ضلع کوآپریٹو بینک کے چیئر مین اور ضلع پنچایت چیئرمین پتی پشپندرکا رتبہ بندیل کھنڈ میں وزیر اعلیٰ سے کم نہیںہے۔ ایس پی کے مکھیا کے رشتہ دار ہونے کی وجہ سے ان کے جو ٹھاٹ باٹ ہیں، وہ تو جگ ظاہر ہیںہی، ان کے قریبی لوگوںاو ر گرگوں کی بھی خوب چاندی ہے۔ مہوبہ ضلع پنچایت چیئرمین کے شوہر اور ضلع جنرل سکریٹری رمیش یادو ، سابق وزیر بادشاہ سنگھ کا بھتیجہ راجو سنگھ، عبدالطارق جیسے مہوبہ میں ایسے کئی نام ہیں، جو آج اس سفید پوش لوگوں کے چہیتوں کی فہرست میںشمار کےے جاتے ہیں۔ ہمیر پور سے بیٹھ کراپنے ان ہی سپہ سالاروںکے سہارے پشپندر مہوبہ میںاپنی حکومت چلاتا ہے۔ اس کی حیثیت کے آگے ضلع کے لیڈر ہی پھیکے نہیں دکھائی دیتے، بلکہ انتظامیہ کی بھی ان کے آگے کوئی حیثیت نہیں ہے۔اسی حیثیت کا نتیجہ ہے کہ انتظامیہ نے گورہاری سانحہ کو کچھ چٹکیوںمیں اور حکومت نے کچھ سکوں میں نمٹا ڈالا۔
مزدوروں کی موت پر پھینک رہے ہیںسیاست کے سکّے
بندیل کھنڈ میں خشک سالی ہے، تو رہے، کسان خودکشی کرتے ہیں، تو کرتے رہیں۔ لوگ روزگار کے فقدان میںپردیس جاتے رہیں اور علاقے میں غریبی اور بھکمری بڑھتی رہے۔ سیاستدانوںکو اس سے کیا لینا دینا۔ انھیںتو مدعا چاہےے۔ پھر لاش پڑی ہو تو لیڈروںکے لےے اس سے اچھا مدعا اور کیا ہوسکتا ہے۔ برسراقتدار پارٹی کے لیڈروں اور مائننگ مافیاو¿ں کی ساز باز نے گورہاری میںپانچ مزدوروں کی جان لے لی، تو بی جے پی لیڈروںنے لواحقین کو دس- دس ہزار روپے تھماکر اپنی سیاست کی روٹی سینک لی۔ بی جے پی کے ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ کی ہدایت پر گورہاری پہنچی پانچ رکنی ٹیم نے حادثے کے لےے سماجوادی پارٹی کی سرکارکو خوب کوسا اور لواحقین کو دس- دس ہزار روپے دےے۔ بی جے پی کے ریاستی نائب صدر کرن سنگھ پٹیل ، اکبر پور کے رکن پارلیمنٹ دیوندر سنگھ بھولے، جالون کے رکن پارلیمنٹ بھانو پرتاپ ورما، مہوبہ کے رکن پارلیمنٹ پشپندر چندیل اور مہوبہ کے سابق رکن پارلیمنٹ گنگا چرن راجپوت بی جے پی کی ٹیم میں شامل تھے۔
سیاست میںچال، کردار اور چہرہ بدلنے کا چلن کوئی نئی بات نہیںہے۔ مہوبہ ضلع کے کچھ واقعات لیڈروں کے اسی پھیر بدل کی سند دیتے ہیں۔ گورہاری کانکنی سانحہ کے واقعہ میںبرسر اقتدار جماعت سے لے کر اپورزیشن جماعت تک، سب کے داو¿ں پیچ سامنے کھول کر رکھ دےے۔برسر اقتدار پارٹی نے دو لاکھ کا معاوضہ دے کر معاملہ نمٹا دیا، تو اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے دس- دس ہزار روپے دے کر اپنی سنجیدگی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ کانگریس نے زبانی ماتم پرسی کی, تو بی ایس پی نے ماتم پرسی کارڈ پر ایک لاکھ روپے رکھ کر پھینکے۔ لیکن بی ایس پی کی ایک لاکھ ٹکے کی ماتم پرسی کوئی اثر نہیںدکھا پائی، کیونکہ کیرت ساگر کے کنارے پر ہوئی بنٹی اہیروار کے قتل میںبی ایس پی لیڈر نسیم الدین صدیقی اور سوامی پرساد موریہ جیسے قدآور لیڈر متوفی دلت خاندان کو پانچ لاکھ روپے کی مالی مدد دے آئے۔ اب پورے علاقے میں لوگ بی ایس پی کے ایک لاکھ بنام ’سروجن سکھائے‘ کا بھید سمجھنے میں لگے ہیں۔ جب گورہاری میںپانچ مزدور غیر قانونی کانکنی کے شکار ہوئے تھے، اسی دن کبرئی میںبھی آتما رام نام کے مزدور کی بلاسٹنگ پتھر لگنے سے موت ہوگئی تھی،لیکن آتما رام کے خاندان کی خبر کسی نے نہیںلی، نہ برسر اقتدار پارٹی نے اور نہ ہی اپوزیشن نے۔
اقتدار کے آگے مزدور کی کیا حیثیت
گورہاری میںچل رہی غیر قانونی کانکنی میںدب کر مزدوروں کے مرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے 2009 میں بھی چار مزدور اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ سال 2009 میںاسی طرح کام کرنے کے دوران کان دھنسنے کے سبب جے سنگھ، رام کشن، ٹیکم چند اور روی کی موت ہوگئی تھی۔ تب بھی اسی طرح کہرام مچا تھا، لیکن کچھ دن بعد یہ معاملہ ٹھنڈا پڑگیا۔ اس غیر قانونی کاروبار نے ایک بار پھر بارے لال، مکند لال، بھاگیرتھ، بھانو پرتاپ اور راجو نام کے مزدوروں کو اپنا شکار بنا ڈالا۔ موتیں ہوتی رہیں گی، لیکن معیار کوطاق پر رکھ کر چلائی جارہی غیر قانونی کانوںکا دھندہ کم نہیں ہوگا،کیونکہ جب دھندے کی ڈور سیدھے اقتدار سے بندھی ہو، تو مزدور کی جان کی کیا وقعت ہے۔
کھیری کو کھارہے ہیں مائننگ مافیا
اجے گپتا
لکھیم پور کھیری ضلع متنوع تاریخی ثقافتی وراثتیں سمائے ہوئے ہے۔ ضلع کی مشہور تحصیل گولاگوکرن ناتھ جسے چھوٹی کاشی کے نام سے پوری دنیا میں جانا جاتا رہا ہے، آج مائننگ مافیاو¿ںکے سبب ختم ہونے کی کگار پر ہے۔ یہ مذہبی مقام چاروںطرف سے جنگل سے گھرا ہوا تھا، لیکن آج قدرتی وسائل کے اندھادھنداستعمال سے اس مذہبی نگری کا وجود ہی خطرے میںہے۔ موجودہ وقت میںیہ قدیم مذہبی نگری اپنے آس پاس کی ہریالی اور قدیم وراثتوں کو کھوتی جارہی ہے۔ گولا نگری کے گرام کوٹ دوار اور بھو گربھ میں سمائی ہوئی سرسوتی ندی پر نظر ڈالنے پر زمین مافیاو¿ں کی حرکتیںصاف دکھائی دیتی ہیں۔ ندی کے وجود کو بچائے رکھنے کے لےے فطری طور پر ندی کے آس پاس ریت کے اونچے اونچے ٹیلے بنے ہوئے تھے،جنھیںزمین مافیاو¿ں نے انتظامیہ کی ساز باز سے کھود ڈالا۔ کھلے عام جے سی بی مشینوںنے نیچرل ویلتھ کو کھودنا شروع کردیا، جس سے آج ندی کا وجود ہی ختم ہونے کو ہے۔ ضلع میںکانکنی کا کاروبار مقامی انتظامیہ کے تحفظ میں دن و رات پھل پھول رہا ہے۔ اس میں لیڈر اور مافیا ساتھ ساتھ شریک ہیں۔ کانکنی کا دھندہ صبح سے دیر رات تک پولیس اور انتظامیہ کی ناک کے نیچے کھلے عام چلتا رہتا ہے۔ علاقے کے عوام خاموش گواہ ہیں۔ ثقافت تباہ ہورہی ہے، سماج فکرمند ہے، لیکن حکومت کواس فکر سے کوئی مطلب نہیں ہے۔
پولیس اور مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت کے سبب مائننگ مافیا کوٹ دوار گرام اور بھو گربھ میںسمائی سرسوتی ندی کے کنارے بنے ٹیلوں کو جے سی بی مشینوںسے کھود کر لوٹ رہے ہیں۔ صبح سے لے کر دیر رات تک جے سی بی مشینیںگرجتی رہتی ہیں۔ ٹیلوں کو کو کاٹ کرنکالی جارہی مٹی ٹریکٹر ٹرالیوں میںبھرکر کھلے عام لے جائی جارہی ہے۔ کوٹ دوار کے ٹیلے گہرے کھڈ میںتبدیل ہوگئے ہیں۔ بھو گربھ میںسمائی سرسوتی ندی کے ٹیلے جو کہ بانکے گنج سے گرام املیا کوٹھی تک ریلوے لائن کے کنارے کبھی قدیم تہذیب اور ثقافت کی مثال بنے ہوئے تھے، اب وہاںبھی اوبڑ کھابڑ گڈھے اور کھائی بن گئی ہے۔مٹی کھود کھود کراینٹ بھٹے کا دھندہ کرنے والے موج کررہے ہیں اور سپریم کورٹ کی ہدایتوںکوٹھینگا دکھا رہے ہیں۔ پولیس انتظامیہ چونّی چاٹنے میںمصروف ہے۔ حال یہ ہے کہ گولا ریزرو فاریسٹ ایریا کے گولا- علی گنج مارگ پر اینٹ بھٹوں کی قطاریں اور گولا بانکے گنج مارگ اور محمدی فاریسٹ رینج اور میلانی فاریسٹ رینج کے جنگلوں کے قریب لگ بھگ دو کلومیٹر ایریا میں ہی تمام اینٹ بھٹے سرکار اور سرکاری مشینری کے ناکارہ پن کے ڈھول پیٹتے ہیں۔ اینٹ بھٹے لیڈروں اور دبنگوں کے ہیں، عام آدمی کیا کرے۔ مذہبی نگری چھوٹی کاشی گولا گوکرن ناتھ میںشہر کے چاروںطرف اینٹ بھٹوں کے ذریعہ کی جارہی کانکنی کے سبب زیادہ تر زمین کھڈوں کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *