سونیا کے قریبی رہے جناردن دویدی نے اٹھائے کانگریس قیادت پر سوال

Share Article

 

جناردن دویدی سب سے طویل کانگریس جنرل سکریٹری رہے ہیں۔ انہوں نے 2018 میں رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لی تھی۔ جناردن دویدی نے پانچ کانگریس کرسیاں اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، نرسمہا راؤ اور سونیا گاندھی کے ساتھ کام کیا ہے۔

کانگریس کے سابق قومی جنرل سکریٹری جناردن دویدی نے اپنی پارٹی کی قیادت پر سوال کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے منگل کو کہا کہ جس تنظیم میں پوری زندگی لگایا، اس کی حالت دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔ پارٹی کی شکست کا سبب اندر اندر ہے، باہر نہیں۔ پارٹی میں کئی ایسی باتیں ہوئیں، جس میں اتفاق نہیں کیا اور یہ میں نے پارٹی قیادت کو بتایا تھا۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی بکنگ ایسا مسئلہ تھا جس کے بارے میں نے صدر کو کہا تھا کہ میں آپ سے متفق نہیں ہوں۔

جناردن دویدی سب سے طویل کانگریس جنرل سکریٹری رہے ہیں۔ انہوں نے 2018 میں رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لی تھی۔ جناردن دویدی نے پانچ کانگریس کرسیاں اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، نرسمہا راؤ اور سونیا گاندھی کے ساتھ کام کیا ہے۔انہیں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔

جناردن دویدی نے کہا کہ اگلے صدر کا نام فائنل کرنے کے لئے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی فوری طور پر میٹنگ بلائی جانی چاہئے۔ دویدی نے کہا کہ ابھی پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ کونسی کوآر ڈی نیشن کمیٹی کس سے بات کر رہی ہے اور کس سے مشورہ لے رہی ہے۔ایک کوآر ڈی نیشن کمیٹی بنائی گئی تھی لیکن وہ چنائو کے لئے تھی۔ راہل گاندھی کو اپنا عہدہ چھوڑنے سے پہلے ہی ایسی کوئی کمیٹی بنا دینی چاہئے تھی۔

ابھی حال ہی میں کانگریس جنرل سکریٹری جیوتی رادتیہ سندھیا اور پارٹی کی ممبئی یونٹ کے صدر ملند ایم دیوڑا نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی شکست کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے کچھ دنوں قبل کانگریس صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دریں اثنا، ہفتہ کو کرناٹک میں حکمراں کانگریس جےڈی ایس اتحاد کے 11 ممبران اسمبلی کے استعفیٰ کے بعد 13 ماہ پرانی ریاستی حکومت بحران میں آ گئی ہے۔راہل گاندھی کے چھوڑنے کے بعد سے ہی ملک بھر سے پارٹی عہدیداروں کے خلاف مزاحمت اور استعفیٰ کا دور چل رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *