آب وہوا تبدیلی کے باعث ہندوستانی معیشت کو نقصان ۔ فرینک اسلام

Share Article

ملک میں لوک سبھا انتخابات بیحد قریب ہے لیکن اس انتخابی ماحول میں تیزی سے بدل رہے مساوات سنگین تشویش کاموضوع بنے ہوئے ہیں۔ جو نہ صرف ملک کے اقتصادی نظام کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ ملک کی ترقی کے لئے بھی خطرناک ہے۔اگر ہندوستان کوترقی پذیر ممالک کی فہر ست سے نکل کر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں آنا ہے تو وقت رہتے ہندوستان کو ان بدلتے مساوات پر دھیان دیناہو گا۔ ہندوستان اس وقت تین بڑی تبدیلیوں کی مار جھیل رہا ہے جس میں پہلا ہے آب وہوا(موسمیاتی تبدیلی)بدلاؤ، دوسرا ہے گرتی معیشت اور تیسرا ہے بدلتا انتخابی ماحول، ان تینوں میں موجودہ بدلاؤہندوستان کی ترقی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ جس کے تئیں حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

آب وہوابدلاؤ ہندوستان کے لئے بڑا مسئلہ
2015 کے دسمبر میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے 21 ویں کانفرنس میں ہوئے پیرس معاہدے کے مطابق دنیا بھر کے 196 عالمی رہنماؤں نے اعتراف کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ ایک سنگین بین الاقوامی مسئلہ ہے۔گزشتہ سال اکتوبر میں، یواین کے انٹرگورنمینٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (یواین آئی پی سی سی ) نے خبردار کیاتھا کہ دنیا بھر میں ماحول تیز رفتار سے بگڑ رہا ہے اور اگر اسے وقت رہتے نہیں سدھارا گیا تو 2040 تک تباہ کن نتائج دنیا کے سامنے ہوں گے۔

موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ پوری دنیا کے لئے ڈراؤنا ہے۔ بھارت بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے۔ عالمی بینک کا ماننا ہے کہ’’بھارت موسمیاتی تبدیلی کے لئے سب سے کمزور ممالک میں سے ہے۔ یہ دعوی کرتا ہے کہ، ’’2020 تک، ہندوستان کا پانی، ہوا، مٹی اور جنگلوں پر دباؤ دنیا میں سب سے زیادہ ہو جائے گا‘‘۔

موسمیاتی (آب وہوا)تبدیلی ایک آشوب تصویر ہے۔ جس کا دباؤ ہندوستانی عوام اور اس کی معیشت پر پڑے گا۔ جون 2018 میں جاری ایک عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہندوستان کی جی ڈی پی کو 2.5 فیصد تک کم کر سکتا ہے اور 2050 تک ملک کے تقریبا نصف لوگوں کے معیار زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ UNIPCC کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوگا۔ اس کی وجہ سے غذائی عدم تحفظ، بروزگاری اور اقتصادی ترقی میں تیزی سے کمی جیسے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

نوزائیدہ بچے اپنی پہلی سانس سے ’تمباکو نوشی کرنے والے‘ بن جاتے ہیں
ہندوستان کی محروم اور کمزور آبادی سائز میں بہت بڑی ہے۔ہندوستان عام طور پر پہلے ہی سنگین نتائج کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اروند کمار کے مطابق، ’’ہمارے کئی شہروں میں نوزائیدہ اپنی پہلی سانس سے ’تمباکو نوشی کرنے والے‘ بن جاتے ہیں‘‘۔

سیلاب اور خشک سالی کی وجہ سے، بہت سے غریب کسانوں کے پاس اب کاشت کے لئے پلاٹ نہیں ہیں۔ ہندوستان افرادی قوت(کاریگر) کا تقریبا نصف حصہ خود ملازم ہے اور غیر رسمی علاقے میں 80 فیصد سے زیادہ کام کرتا ہے جو موسمیاتی عوامل کی وجہ سے آمدنی کم ہونے پر انہیں کوئی تحفظ یا منافع فراہم نہیں کرتا۔

ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ کچھ وقت پہلے تک ہندوستانی معیشت مسلسل اور کامیابی کے ساتھ بڑھ رہی تھی۔ لیکن اب یہ ترقی کی رفتار بڑی حد تک سست ہو گئی ہے، لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ اب بھی رکی نہیں ہے۔

2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد، یہ ظاہر ہوا کہ ہندوستان مستقبل میں مضبوط ہو جائے گا۔ اس تناظر کو مودی کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مضبوط کیا کیونکہ 2014 اور 2018 کے درمیان کل 29 ریاستوں میں سے چھ سے 21 تک کی تعداد پر پہنچنا۔ لیکن اس کے بعد کانگریس کا 3 بڑے ریاستوں میں جیتنا عوام کے بے اعتباری کودکھاتا ہے۔

میں نے 2016 میں میکنسے گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں ہندوستان کی ترقی اور تبدیلی کے لئے پانچ مواقع میں سے جو سب سے بہتر دیکھا ہے، وہ مندرجہ ذیل ہے۔

1. سب کے لئے قابل قبول زندگی کی سطح
2. مسلسل شہریت
3. میک ان انڈیا نہیں میڈ ان انڈیا پر زور
4. ملک کا جدیدڈیجیٹل
5. ہندوستانی خواتین کی صلاحیت کو بڑھانا
اب ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو ہندوستان کی ماحولیاتی، اقتصادی اور انتخابی موسم میں تبدیلی اورسدھار کے لئے ایک مربوط ماسٹر پلان تیار کرنے کی ضرورت ہے۔الیکشن جیتنے والے کے لئے یہ اولین ترجیح ہونی چاہئے۔کیونکہ وقت بالکل کم ہے۔ موسمیاتی تبدیلی ماسٹر پلان کو فوری طور پر تیار کیا جانا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *